Thursday , 16 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » کرناٹک کے ایک اور سوامی کی راس لیلا بے نقاب
کرناٹک کے ایک اور سوامی کی راس لیلا بے نقاب

کرناٹک کے ایک اور سوامی کی راس لیلا بے نقاب

ایک اور مشہور سوامی راگھویشورا بھارتی کے خلاف ایک خاتون کی دختر کی جانب سے عصمت ریزی کی شکایت درج کروانے کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے سی آئی ڈی کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اگرچہ مقامی عدالت کی جانب سے سوامی کو ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے لیکن سوامی کے خلاف لگنے والے الزامات کی سنگین نوعیت مٹھوں میں ہونے والے این واقعات کو آشکار کرتی ہے ۔
شموگ ضلع کے مشہور رامچندر پور مٹھ کے سوامی کے خلاف جس لڑکی نے الزامات عائد کئے ہیں وہ مٹھو کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کی بیٹی ہے اور خاتون جن کے ساتھ یہ گھناونی حرکت کی گئی اس عہدیدار کی بیوی ہے ۔ الزام ہے کہ سوامی گزشتہ 3 برس سے اس خاتون کا جنسی استحصال کرتا رہا اور اس کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اس بات کا انکشاف کیا تو اس کی بیٹی کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ سرکاری وکیل بی ٹی وینکٹیا نے بتایا کہ لڑکی نے اس سلسلہ میں ایک طویل خط صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو لکھا تھا اس مکتوب میں اس لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ خود ساختہ 39 سالہ سوامی نے اس کی ماں کے ساتھ 2010 اور 2014 کے درمیان ملک کے 40 مقامات پر 90 سے زیادہ مرتبہ جنسی استحصال کیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوامی نے اس شکایت کے منظر عام پر آنے کے خوف سے اس خاتون اور اس کے شوہر کو مٹھ میں خرد برد کرنے اور سوامی کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کروادیا ہے ۔ لڑکی کی شکایت پر جب ایف آئی آر درج کیا گیا تو سوامی اپنے خلاف ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست لے کر ہائی کورٹ سے رجوع ہوا لیکن ہائی کورٹ نے سوامی کو کوئی راحت نہیں دی جبکہ سی آئی ڈی کو حکم دیا کہ وہ اس مقدمہ کی تحقیقات کرے ۔ اب سی آئی ڈی تحقیقات کی رپورٹ ملنے کے بعد ہی سوامی کے خلاف کوئی کارروائی ہوسکتی ہے قابل غور بات یہ ہے کہ ایک سوامی اور مذہبی شخصیت کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو دھوکہ دینے والے ایسے خود ساختہ بھگوانوں کی جانب سے اپنے ہی آشرم اور مٹھوں میں خواتین کا جنسی استحصال کرنے کا یہ واقعہ نیا نہیں ہے ۔ بی جے پی کی ان کو سرپرستی حاصل رہی ہے ۔ راگھو یشورا سوامی کا تعلق بھی ریاست کے کئی بڑے بی جے پی قائدین بشمول سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا سے رہا ہے ۔ کرناٹک میں سوامی نرتیہ نندا اور ایک کنڑا اداکارہ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

Comments

comments