Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » سعودی خواتین کو 2015ء سے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع
سعودی خواتین کو 2015ء سے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع

سعودی خواتین کو 2015ء سے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع

سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ نے اس سال ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے ذریعہ خواتین کو نہ صرف ووٹ دینے کا حق حاصل ہے بلکہ وہ انتخابات میں حصہ بھی لے سکتی ہیں۔ اس قانون کی منظوری کے بعد سعودی عرب کی خواتین کے لئے بلدیاتی انتخابات میں امیدوار بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے خواتین کو صرف بلدیہ کے انتخابات میں ووٹ دینے کا حق دیا گیا تھا۔ 2011ء میں جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے، تب خواتین نے صرف ووٹ ڈالا تھا جب کہ انھیں امیدوار کی حیثیت سے انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں تھی، تاہم اب جب کہ شاہ عبداللہ نے نیا حکمنامہ جاری کردیا ہے۔ خواتین 2015ء سے بلدی انتخابات میں امیدوار بھی بن سکتی ہیں۔ سعودی عرب میں سخت اِسلامی قانون نافذ ہیں، تاہم سوشل میڈیا کے ذریعہ مختلف ممالک کی خواتین کی جانب سے چلائی جارہی مہم اور اس پر سعودی خواتین کا ردعمل دیکھتے ہوئے حکومت آہستہ آہستہ ان سختیوں کو نرمی میں بدل رہی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے حال ہی میں خواتین کے لئے پابندیوں میں نرمی لاتے ہوئے دارالحکومت ریاض کے شاہ فہد انٹرنیشنل فٹبال اسٹیڈیم میں خواتین کو داخلہ کی اجازت دے دی۔ یہاں سعودی الہلال کلب اور آسٹریلیا کلب کے درمیان یکم نومبر کو ایک فٹبال میچ ہونے والا ہے۔ حکومت کی اجازت کے بعد اب خواتین یہ میچ راست طور پر اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھ سکتی ہیں۔ سعودی فٹبال فیڈریشن نے اس کا باضابطہ اعلان بھی کیا ہے۔ ویسٹرن سڈنی ونڈرس فٹبال کلب کی خواتین شائقین نے حکومت سعودی عرب سے درخواست کی تھی کہ انھیں اسٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کی اجازت دی جائے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ فیفا اور اے ایف سی کے تحت ہونے والے میچس میں وہ خواتین پر پابندی عائد نہیں کرسکتے۔ اس لئے ریاض میں ہونے والے فٹبال میچ میں خواتین کے داخلہ کی اجازت ہوگی۔ یہی نہیں، سعودی حکومت خواتین کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے بھی اقدامات کرنے پر غور کررہی ہے۔ خواتین ایک عرصے سے ڈرائیونگ کی اجازت دینے کا مطالبہ کررہی ہیں، تاہم مذہبی علماء کی مخالفت کی وجہ سے حکومت انھیں لائیسنس دینے سے گریز کررہی ہے۔ تاہم اب یہ بات سامنے آرہی ہے کہ سعودی خواتین کو بیرون ملک ڈرائیونگ کی اجازت دی جائے گی۔

Comments

comments