Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » بابری مسجد، سازشی کون پنڈت ولبھ پنت یا سردار پٹیل؟
بابری مسجد، سازشی کون پنڈت ولبھ پنت یا سردار پٹیل؟

بابری مسجد، سازشی کون پنڈت ولبھ پنت یا سردار پٹیل؟

۔۔۔ رشید انصاری بابری مسجد اب صرف ایک ایسی مسجد نہیں ہے جس پر وطن عزیز کی آزادی کے بعد مسلمانوں کی مجبوری اور کمزوری کا فائدہ اٹھاکر نہ صرف دھونس، دھاندلی، اقتدار کی قوت اور ظالمانہ وجابرانہ دہشت گردی کے ذریعہ منہدم کرکے اس پر (عارضی ہی سہی) مندر تعمیر کیا گیا اور اب بابری مسجد کا مستقبل اللہ کے بعد عدالت عظمیٰ کے ہاتھ میں ہے بلکہ اب یہ مسلمانان ہند کی عزت، غیرت اور حمیت کے لئے ایک آزمائش اور چیلنج ہے جس سے وہ صرف اس صورت میں دستبردار ہوسکتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ)…

Review Overview

User Rating: 4.85 ( 1 votes)
0

۔۔۔ رشید انصاری

بابری مسجد اب صرف ایک ایسی مسجد نہیں ہے جس پر وطن عزیز کی آزادی کے بعد مسلمانوں کی مجبوری اور کمزوری کا فائدہ اٹھاکر نہ صرف دھونس، دھاندلی، اقتدار کی قوت اور ظالمانہ وجابرانہ دہشت گردی کے ذریعہ منہدم کرکے اس پر (عارضی ہی سہی) مندر تعمیر کیا گیا اور اب بابری مسجد کا مستقبل اللہ کے بعد عدالت عظمیٰ کے ہاتھ میں ہے بلکہ اب یہ مسلمانان ہند کی عزت، غیرت اور حمیت کے لئے ایک آزمائش اور چیلنج ہے جس سے وہ صرف اس صورت میں دستبردار ہوسکتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہ ہو۔ 6؍دسمبر کو بے شک بابری مسجد کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں لیکن ہندوستانی مسلمان نے اس مسجد کو نہ بھلایا ہے اور نہ ہی بھلاسکتا ہے۔ آج اس مسجد پر 23؍دسمبر 1949ء کو زبردستی قبضے کے بارے میں اس وقت ملک کی مقتدر ہستیوں کے رویہ کا ذکر کریں گے خاص طور پر سردار پٹیل اور پنڈت جواہر لال نہرو (جن کا ہندتو وادیوں میں ان دنوں بڑا چرچا ہے) اور اس دور کے ماحول کا بھی کچھ ذکر کریں گے۔
آج بھی بلامبالغہ بے شمار مساجد پر اغیار کا قبضہ ہے جب ہم اتنی بہت ساری مساجد پر صبر کرسکتے ہیں تو بابری مسجد ہندتووادیوں کو دے کر ہم کچھ نہ سہی برادران وطن کو اپنے جذبہ خیر سگالی سے متاثر ضرور کرسکیں گے لیکن بات صرف ایک تاریخی مسجد کی نہیں ہے بے شک آج بے شمار تاریخی مساجد ویران ہیں بلکہ کھنڈر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ بابری مسجد ہمارے وقار، تشخص اور ملی غیرت و حمیت کی نشانی ہی نہیں ہے بلکہ ملک کے سیکولرازم، قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور دستور کی عظمت کی علامت ہے۔ قطع نظر مذہبی و شرعی احکام کے کہ ہر مسجد تاقیامت صرف مسجد ہی رہتی ہے۔ اس کا مقام، موقف اور حیثیت کسی صورت تبدیل نہیں کی جاسکتی ہے۔ مسلم موقف تاریخی، قانونی اور اخلاقی ہر لحاظ سے مضبوط ہے۔ اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے والے بات چیت کے ذریعہ بابری مسجد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بات چیت سے حل نکالے جانے کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے طور پر مسجد کی زمین رام مندر بنانے کے لئے حوالے کردیں۔ بات چیت سے مسئلہ کے پرامن حل کی منطق 1950ء میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی اختراع ہے۔
اسی سلسلے میں یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے بابری مسجد سے مسلمان عملاً دسمبر 1949ء میں محروم کئے گئے تھے لیکن (جب وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ہندوووٹ بینک میں اپنا حصہ بڑھانے کے لئے مسجد کا قفل کھول کر وہاں باضابطہ پوچا پاٹ کا عدالتی حکم کے ذریعہ انتظام و اہتمام کروایا تھا اور بابری مسجد کو عملاً مندر بنادیا تھا، مسلمان کیوں خاموش رہے اور اس کے بعد مسلمانوں کو بابری مسجد کاخیال کیوں آیا؟ اچانک نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوتوا یا سنگھ پریوار کیلئے اس مسجد کی اہمیت اس قدر زیادہ ہوگئی بلکہ سنگھ پریوار کے بارے میں تو کہا جاسکتا ہے کہ 1984ء کے پارلیمانی انتخابات میں صرف دو نشستیں ملی تھیں۔ بی جے پی کیلئے رام جنم بھومی کا انتخابی موضوع انتہائی کارآمد تھا۔ دوسری طرف ملک میں اندرا گاندھی کی عائد کردہ ہنگامی حالت (ایمرجنسی) کے بعد ہونے والے انتخابات میں کانگریس کی شکست میں اہم رول ادا کیا تھا۔ اس کے بعد اندرا گاندھی کو دوبارہ برسر اقتدار لانے میں بھی مسلمانوں نے اہم رول ادا کیا تھا بلکہ یوں کہا جاے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلمانوں کو پہلی بار اپنی اہمیت کا احساس ہوا تھا اور ان میں بیداری پیدا ہوئی تھی۔ آزادی کے بعد قوم پرست مسلمان قائدین کے بزدلانہ اور حوصلہ شکن مشوروں اور نصیحتوں (مصلحت سے کام لو، وقت کے تقاضے سمجھو اور حالات آپ کیلئے ساز گار نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ) کو مسترد کرکے اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا شروع کردیا تھا۔ اسی لئے بابری مسجد کے سلسلے میں زور زبردستی اور دھاندلی کو قبول نہیں کیا۔
دسمبر 1949ء میں بابری مسجد میں رات کے اندھیرے میں چوری سے مورتیاں بٹھانے کے بعد 1986ء میں مسجد کو عملاً مندر بنانے تک کے عرصہ میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی۔ جب بابری مسجد میں مورتیاں بٹھانے کا وہ زمانہ بڑا پرآشوب تھا۔ 1948-49کے دو سال شمالی ہند خاص طور پر یو پی و بہار میں حالات مسلمانوں کیلئے بے حد ناسازگاروناخوش گوار تھے۔ ہر طرف ڈر اور خوف کا ماحو ل تھا۔ مسلمان کانگریسی قائدین کا اول تو مسلم عوام پر اثر نہ تھا اور جوتھے وہ کسی ظلم و زیادتی پر احتجاج کیا کرتے؟ الٹا حوصلہ مند مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ان کا معمول تھا۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد ہندو فرقہ پرستوں کے حوصلے بہت بلند تھے۔ مرکزی کابینہ اور صوبوں میں وزرائے اعلیٰ اور کابینی وزرأ اور کانگریس کے بعض اہم قائدین مسلم دشمن نہ سہی خاصے فرقہ پرست تھے جن میں سردار ولبھ بھائی پٹیل، پرشوتم داس ٹنڈن (جو بعد میں صدر کانگریس ہوئے)، شیاماپرشاد مکرجی (مرکزی وزیر اور جن سنگھ کے بانی) پنڈت گووند ولبھ پنت (وزیر اعلیٰ یو پی) ، کے ایم منشی (مرکزی وزیر) وغیرہ وغیرہ فرقہ پرست جماعت ’’ہندومہاسبھا، کا آر ایس ایس کے علاوہ زور تھا جن سنگھ (جو بعد میں بی جے پی بنی)ہندومہاسبھا کے لیڈروں نے ہی قائم کی تھی۔ مسلمانوں کے لئے ناساز گار اور فرقہ پرستوں کے لئے انتہائی ساز گار ماحول میں بابری مسجد میں مورتیاں بٹھانے کا کام بے خوف و خطر ہوا۔ جس طرح 6دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کا انہدام کارسیوکوں نے بے خوف و خطر کیا تھا اسی طرح بابری مسجد میں نہ صرف مورتیاں بٹھائی گئیں 1992ء میں یو پی کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے کارسیوکوں کو کھلی چھوٹ دے تھی۔ اسی طرح 1949ء کے یو پی وزیر اعلیٰ پنڈت گووند ولبھ پنت کو بابری مسجد سے مورتیاں ہٹانے، خاطیوں کو سزا دینے اور بابری مسجد کو مندر بنانے اسے بند رکھنے کیلئے مہم چلانے والوں کے خلاف کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ پنت کو سردار پٹیل کی زبردست حمایت حاصل تھی۔
جس طرح بابری مسجد کی شہادت سنگھ پریوار کی ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھی اسی طرح 23؍دسمبر 1949ء میں بابری مسجد میں بتوں کی تنصیب بھی ہندومہاسبھا کی ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھی جس میں ہندومہاسبھا کے قائدین اور مقامی سادھو اور فیض آباد کا ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کے نائر جس نے مسجد میں بت رکھنے والوں کی نہ صرف بھرپور مدد بلکہ اس مجرمانہ سازش کی منصوبہ بندی کی اور پنڈت پنت کو یہ گمراہ کن رپورٹس دیں کہ مسجد سے مورتیاں ہٹانے سے بہت خون خرابہ ہوگا (ان رپورٹس پر وزیر اعلیٰ پنت نے آنکھ بند کرکے یقین کرلیا تھا کیونکہ پنت بھی چاہتے تھے بابری مسجد میں نصب کردہ مورتیاں نہ ہٹائی جائیں اور پنت کو سردار پٹیل کی سرپرستی حاصل تھی۔ پٹیل کے ذکر سے پہلے اس بارے میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اسی سے پنت اور سردار پٹیل کی حرکات کا پتہ چلتا ہے۔پنڈت جواہر لال نہرو نے ڈاکٹر بی سی رائے وزیر اعلیٰ مغربی بنگال 18؍مئی 1950ء کو اپنے خط میں لکھا تھا کہ ایودھیا میں ایک قدیم مسجد (جس کو بابر نے تعمیر کیا تھا) پر مقامی سادھووں اور پنڈتوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ میں افسوس کے ساتھ بتارہا ہوں کہ یو پی کی حکومت نے اس معاملے سے نمٹنے میں بڑی کمزوری دکھائی ہے۔ (ص97۔ ایودھیا۔ دی ڈارک نائٹ‘Ayodhya The Dark Night کرشنا جھا اور دھریندر جھا) اسی کتاب کے (ص96) کے مطابق 17؍اپریل کو پنڈت جواہر لال نہرو نے پنڈت پنت کو لکھا تھا ’’میں اپنے پرانے ساتھیوں سے تنازعات میں الجھنا نہیں چاہتا ہوں میں اس بات سے سخت مضطر ب ہوں کہ فرقہ پرستی ان لوگوں کے ذہن اور دل پر چھاگئی ہے جو ماضی میں کانگریس کے اہم ستون مانے جاتے تھے ۔ ایودھیا میں جو ہوا وہ بے حد خراب تھا لیکن اس سے بھی بدتر یہ بات ہے کہ ایسی چیزیں ہمارے ہی لوگوں کی مرضی سے ہوں اور اسے جاری رہنے دیا جائے۔اسی کتا ب کے مطابق پنڈت جواہر لال نہرو کو پنت کی نیت اور عزائم پر شبہ تھا وہ پنت کے تاخیری حربوں کو سمجھ چکے تھے۔ بابری مسجد پر ناجائز قبضہ سے نہرو بے حد مایوس اور مضطرب تھے ۔ پنت نے جس طرح کا رویہ اختیار کیا تھا وہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ مسئلہ حل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔پنڈت نہرو کے ان خیالات سے ہی بابری مسجد میں مورتیوں کے رکھے جانے کے بعد (دسمبر 1949ء ) انتظامیہ، سادھو سنتوں اور پنڈت پنت کی حکمت عملی اور اقدامات میں ان کی بدنیتی اور فرقہ پرستی کے بارے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی ہم یاد دلادیں کہ اس دور میں یو پی کے وزیر داخلہ لال بہادر شاستری تھے۔ بابری مسجد مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں سنگھ پریوار کو عدالتی کارروائیوں سے زیادہ بات چیت اور مذاکرات سے دلچسپی رہی ہے۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ اڈوانی اور دوسرے قائدین کا حربہ ہے کیونکہ بابری مسجد کو رام جنم بھومی قرار دینے والوں کا قانونی موقف کمزور تھا۔ مذاکرات اور بات چیت سے واحد مراد یہ تھی کہ مسلمان بابری مسجد خاموشی سے رام مندر بنانے کے لئے حوالہ کردیں لیکن یہ حربہ تو سنگھ پریوار کے مردآہن سردار پٹیل کا ہے جوکہ انہوں نے پنڈت پنت کو اپنے مراسلے مورخہ 9؍جنوری 1950ء میں لکھا تھا’’میرا خیال ہے کہ یہ ایسا تنازعہ ہے جس کا حل باہمی طور پر دونوں فرقوں کی باہمی خیرسگالی اور رواداری کے جذبہ سے نکالا جانا چاہئے مجھ کو احساس ہے کہ جو قدم اٹھایا گیا ہے اس میں جذبات کا زیادہ دخل ہے اس کے ساتھ ساتھ ایسے معاملات کو اس صورت میں نمٹایا جاسکتا ہے کہ ہم کو مسلم فرقہ کی رضامندی حاصل ہوجائے۔ سردار پٹیل کا مکمل خط ’’بابری مسجد ۔ شہادت کے بعد مرتبہ محمد عارف اقبال (ص457, 456) بہ حوالہ اے جی نورانی’’بین اسٹریم‘‘ 4؍اگست 1990) بات چیت سے مسئلہ کو حل کرنے کی اختراع کے علاوہ پٹیل نے غاصبانہ قبضہ کو بھی تنازعہ بتایا۔ کسی کارروائی پر پٹیل نے زور نہیں دیا بلکہ غیرقانونی و ناجائز کارروائی پر سزا کی جگہ تصفیہ کی منطق سردار پٹیل کی اس ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے جس کے لئے وہ بدنام ہیں۔
23دسمبر کے بعد کے نائر اور ان کی بیوی شکنتلا نائز نے ماحول کو نہ صرف گرمادیا بلکہ یوں ظاہر کیا کہ مندر سے مورتیاں ہٹانا عملاً ناممکن ہے حد تو یہ ہے 26؍دسمبر کو پنت کے نام پنڈت نہرو کا وہ ٹیلی گرام جس میں کہا گیا تھا کہ مورتیاں فوراً ہٹاؤ بے اثر ہوکر رہ گیا اس میں نائر سے زیادہ غلطی پنت کی ہے جس نے عمداً بے عملی کا مظاہرہ کیا۔ اس مسئلہ پر نہرو کی بے چینی اس سے بھی ظاہر ہے کہ وہ ایک مرحلہ پر اپنے خط مورخہ 5؍فروری میں پیشکش کی کہ وہ ایودھیا آنا چاہتے ہیں لیکن پنت نے ان کو روک دیا۔ پنت فی الحقیقت کچھ کرنا نہیں چاہتے تھے اسی پالیسی پر نرسمہا راؤ نے مسجد کی شہادت کے وقت 1992ء میں عمل کیا تھا۔ پنت کی بے عملی کی وجہ ان کو سردار پٹیل سے ملی حمایت اور تائید بھی اور نہرو پٹیل کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ پنت کو اس سلسلے میں نائر کے علاوہ گرودت (سٹی مجسٹریٹ فیض آباد اور سیول جج فیض آباد بیر سنگھ جو اس سازش کے انتظامیہ کے مہرے تھے) سے بہت مدد ملی تھی۔
مسجد میں مورتیاں بٹھانے والے بابا ابھی رام داس جن کا نام اصل ایف آئی آر میں درج تھا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مورتیاں بٹھانے کے سلسلہ میں ہندومہاسبھا کے قائدین کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں۔ کرشن کمار نائر ڈپٹی کمشنر فیض آباد نے پولیس کی ابتدائی کارروائی میں سٹی مجسٹریٹ گرودت اور بعد میں سیول جج فیض آباد ببر سنگھ کی مدد سے بابری مسجد کا سارا مقدمہ ہی بگاڑ دیا تھا۔23دسمبر کی اصل ایف آئی آر میں شامل دفعہ 145جس کا تعلق جائز اور ناجائز قبضہ سے ہے جس سے بابری مسجد پر ناجائز قبضہ مجسٹریٹ برخواست کرسکتا تھا، کو نظر انداز کرکے اس کو حق ملکیت کا مقدمہ بنالیا گیا جس کے نتائج آج تک مسلمان بھگت رہے ہیں۔ دفعہ 145کا ہٹانازبردست بے قاعدگی تھی۔ ان بے قاعدگیوں کو وزیر اعلیٰ پنت نے نظر انداز کیا۔ اس نا انصافی اور بے قاعدگی پر کسی جانب سے کوئی اعتراض کا نہیں ہونا بے حد حیرت انگیز ہے۔ عام مسلمان تو کسی شمار قطار میں نہ تھے لیکن مولانا ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی، رفیع احمد قدوائی، حسرت موہانی اور آصف علی جیسے اکابرین کی خاموشی کا راز اللہ ہی جانتا ہے۔ لگتا ہے کہ آزادی کے بعد کی قوم پرست مسلم قیادت کسی ظلم پراف تک کرنے کی روادار نہ تھی۔ بابری مسجد کے بارے میں 1980ء کی دہائی تک عام طور پر عوام و خواص لاعلم تھے۔ بابری مسجد کے سلسلہ میں گووند ولبھ پنت، سردار پٹیل کے ساتھ راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کے جرائم ناقابل فراموش ہیں۔
rasheedmansari@ymail.com

Comments

comments