Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » قارئین کے خطوط » قارئین کے خطوط
قارئین کے خطوط

قارئین کے خطوط

محترم ایڈیٹر صاحب! السلام علیکم
اُمید کرتا ہوں کہ آپ اور تمام اِسٹاف بفضلہ تعالیٰ بخیر ہوں گے۔ جنوری کا پہلا شمارہ ملا۔ الحمدللہ، دیکھنے لائق و دیدہ زیب سرورق ’’گنبدِ خضریٰ‘‘ قابل تعریف ہے۔ معصوم مرادآبادی کا ’مودی سرکار کی قلعی کھل گئی‘ سابقہ مضمون کی طرح اثر انگیز رہا۔ خصوصی رپورٹ، شبیر بٹ، محمود خاور کا رہا اور خاص کر بیورو رپورٹ (سال 2014ء) معلومات کے ذخائر لئے ہوئے ہے، جو کافی پسند آئی اور معلومات میں مزید اضافہ ہوا۔ دیگر کالم اِسلامیات، تاریخ و سیاحت، کھیل اور بزم اطفال حسب سابق دِلچسپ رہے۔ ویسے بھی ہم تمامی افراد ’’وقار ہند‘‘ کو دو ہی دن میں چٹ کر جاتے ہیں اور اگلے شمارے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگتے ہیں۔ اس کی جتنی بھی تعریف کریں، کم ہے۔ آپ سے ایک التماس ہے کہ اُردو طلباء کے لئے اِنعامی مقابلہ ضرور رکھیں۔ عرض کرنا یہ چاہتا ہوں کہ ’’وقار ہند‘‘ مجھے کافی دیر سے ملتا ہے جس کی بناء پر کئی دشواریاں اُٹھانی پڑتی ہیں۔ بعض دفعہ فون بھی کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا کوئی ترکیب کیجئے کہ ’’وقار ہند‘‘ دیر سے نہ ملے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ’’وقار ہند‘‘ اور بھی اچھا ہوتا جائے اور ترقی کرتا جائے۔ آمین۔
شیخ حسن تبریزی، دارالھدیٰ، چماڈ، کیرالا
محترم جناب! السلام علیکم
میں نے آپ کا میگزین انٹرنیٹ پر دیکھا ہے اور مجھے یہ میگزین ’’وقار ہند‘‘ بہت اچھا لگا۔ جناب عالی! میرا تعلق بھی صحافت سے ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوگی، اگر آپ مجھے اپنی ٹیم کا حصہ بنائیں۔ میرا تعلق پاکستان کے شہر ملتان سے ہے۔ آپ کی اور آپ کے میگزین کا دعاگو۔
ذوالقرنین حیدر باجوہ، ملتان، پاکستان
ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘! السلام علیکم
ماہِ جنوری کا پہلا شمارہ ذریعہ پوسٹ ملا۔ اس کے لئے میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس شمارہ کا ٹائٹل (سرورق) نہایت شاندار ترتیب دیا گیا۔ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یقیناًآپ اُردو کے کام کے تئیں وقف ہوگئے ہیں۔ اس شمارے کے تمام گوشے تاثر چھوڑ گئے۔ میں اس کی ستائش کرتا ہوں۔ آپ کی جانب سے میگزین ’’وقار ہند‘‘ کے آغاز کے دن کے تعلق سے کوئی آرٹیکل آپ نے کبھی شائع نہیں کیا۔ میں ’’وقارہند‘‘ کے لئے نیک تمنائیں رکھتا ہوں اور اس میگزین کو میں اِسٹال سے خریدکر بعض دوستوں کو تحفتاً پیش کرتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کا اور ہمارا مضمون کیوں نہیں آرہا ہے؟ خیر، کوئی بات نہیں۔ میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خصوصی شمارہ کی خصوصی مبارکباد دیتا ہوں۔
مختار احمد فردین، حیدرآباد
بخدمت گرامی ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘! السلام علیکم
’’وقار ہند‘‘ کا تازہ شمارہ ملا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ اس بار نعت شریف طبع کرائے ہیں۔ ہر بار کم از کم ایک نعت شریف طبع ہو تو سب کے لئے سعادت کی بات ہوگی۔ اِسلامیات کے تمام مضامین بے حد پسند آئے، خصوصاً ’میلاد نامہ‘ بہت پسند آیا۔ ایسا لگتا ہے کہ لکھنے والے نے باوضو ہوکر درود شریف پڑھ کر اپنے قلم کو بوسہ دے کر مضمون کی شروعات کی ہوگی۔ دعاء ہے کہ آپ سب کا اللہ خیر کرے اور آپ کا جریدہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دائم و قائم رہے اور آپ کے والد مرحوم کے درجات بلند ہوتے رہیں۔ آمین۔
غوث محی الدین سحرؔ کڑپوی
مکرمی ایڈیٹر! آداب
’’وقار ہند‘‘ کا تازہ شمارہ ملا۔ بہت پسند آیا۔ محمد عبدالرحیم قریشی کی خصوصی رپورٹ دِل کو بھاگئی۔ سرورق دیدہ زیب اور دِلکش رہا۔ کشمیر کی مسلم شناخت ختم کرنے کی سازش سے متعلق شبیر بٹ کا مضمون واقعی حقائق پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنگھ پریوار اس خوبصورت وادی میں مسلم آبادی کے توازن کو بگاڑنے کے لئے نت نئے حربے اختیار کررہا ہے، مگر کشمیر کے سیکولر اور مسلم عوامی نمائندے واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے سنگھ پریوار کی سازشوں کو ناکام بنانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
عبدالسلیم فاروقی، نلگنڈہ
جناب عظیم الرحمن! السلام علیکم
کچھ عرصہ قبل آپ کا انتہائی دیدہ زیب رسالہ ’’وقار ہند‘‘ میلاد النبیؐ 15 جنوری 2015ء کو محمد ذکی الدین لیاقت کے ذریعہ پاکر دِلی مسرت ہوئی۔ اس رسالہ کو ایک ہی نظر میں دیکھا، لیکن بار بار ’’وقار ہند‘‘ کے لئے دِل سے دعائیں نکلتی رہیں۔ مزید کہ بھائی وقار خلیل میرے اچھے دوست تھے۔ اب صرف مرحوم کی یادیں باقی رہ گئی ہیں۔ اب میں 80 سال کا ہوگیا ہوں۔ وقت قریب آتا جارہا ہے۔ کسی حادثہ پر میں گھر پر رہنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔ رسالہ پسند آیا۔
رضی الدین معظم، شاہ گنج، حیدرآباد
ڈےئر ایڈیٹر! السلام علیکم
’’وقار ہند‘‘ کا تازہ شمارہ وصول ہوا۔ مضامین اچھے لگے۔ گوشہ اسلامیات کا کیا کہنا۔ ’’سوشیل میڈیا پر بِلاتحقیق احادیث شریف نشر کرنا‘‘ مضمون معلوماتی رہا۔ اس گوشہ کے دیگر مضامین معلوماتی اور دماغ کے
دریچے کھول دینے کے مماثل ہیں۔ سرماےۂ اَدب میں طنز و مزاح سے بھرپور افسانہ ’’گفٹ‘‘ بہت بہت اچھا لگا۔ رشید انصاری کا مضمون بھی دِل کو بھاگیا۔ اُمید ہے کہ مستقبل میں بھی اس معیار کو برقرار رکھا جائے گا۔
اعجاز حفیظ، پربھنی، مہاراشٹرا
جناب مدیر ’’وقار ہند‘‘! السلام علیکم
اُمید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے۔ نیا شمارہ دیکھ کر دِل باغ باغ ہوگیا۔ اس شمارے کے تمام گوشوں کے مضامین اور مشمولات نے روح کو تازگی بخشی ہے۔ گوشۂ نسواں، بزم اطفال اور لائف اسٹائل معیار کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ خصوصی رپورٹ کو بھی بہتر پایا۔
وصی اللّٰہ خاں نوید، اوکھلا، نئی دہلی
عظیم الرحمن ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘! آداب
’’وقار ہند‘‘ کے شمارے پابندی کے ساتھ وصول ہورہے ہیں۔ اس کا اشاعتی سفر قابل رشک اور کامیابی کے ساتھ منازل طئے کررہا ہے۔ اس کے لئے آپ اور آپ کی ٹیم قابل مبارکباد ہے۔ اداریہ ہمیشہ فکر انگیز ہوتا ہے جو آپ کے صحافتی اقدار کا عکاس ہوتا ہے۔ تازہ شمارہ میں اِسلامیات کے مضامین، ناول کا سلسلہ اور خصوصی رپورٹ اچھی لگی جسے بار بار پڑھتا ہی رہا۔ رشید انصاری اور معصوم مرادآبادی کا بھی کیا کہنا جو حقائق کو قلمبند کرنے ہی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اللہ سے دعاء ہے کہ اس خوبصورت میگزین کو نظر بد سے بچائے۔ آمین۔
امجداللّٰہ خاں نعیم، بیگم پیٹ، حیدرآباد
مکرمی و محترمی مدیر ’’وقار ہند‘‘! تسلیمات
اتفاق سے میرے ایک کرم فرما نے ’’وقار ہند‘‘ کا تازہ شمارہ روانہ کیا ہے۔ پہلی ہی نظر میں یہ میگزین دِل کو بھاگیا اور دِل سے دعائیں نکلتی رہیں کہ خدارا، اس خوبصورت میگزین کو خراب نظروں سے محفوظ رکھ۔ مضامین معیاری ہیں۔ ہر گوشہ قابل مطالعہ اور معلوماتی ہے۔ سیاست کے چند مضامین خبروں کے اسٹائل میں شائع ہورہے ہیں جس پر آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس شمارہ میں جہاں شرعی سوالات کے جوابات دےئے جارہے ہیں، وہیں طبی مشاورتی کالم شروع کیا جائے تو سونے پہ سہاگہ ہوجائے گا۔ اُمید ہے کہ اس جانب توجہ دیں گے۔
عبدالرحمٰن قیصر، ناندیڑ، مہاراشٹرا

Comments

comments