Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » قارئین کے خطوط » قارئین کے خطوط
قارئین کے خطوط

قارئین کے خطوط

* محترم ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘! تسلیمات
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ ماشاء اللہ، ’’وقار ہند‘‘ واقعی اُردو کا ایک دِلکش اور معیاری رسالہ ہے۔ اکثر دیگر زبانوں میں تو کئی جرائد مل جاتے ہیں، مگر اُردو میں تو گنے چنے ایسے رسالے ملتے ہیں۔ اس میگزین میں معیاری مضامین پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ سیاحت کے کالم میں ہندوستان کے مشہور شہروں پر روشنی ڈالیں اور بیرون بالخصوص گلف ممالک کے سیاحتی مراکز پر مضامین کو شامل اشاعت کریں۔ دُنیا بھر کی اُردو سے متعلق خبروں کو میگزین میں جگہ دیں۔ طب یونانی کے ڈاکٹروں کے مسائل بھی شامل کریں، کیونکہ یہ سب مسلم معاشرے سے جڑے ہوئے ہیں اور میڈیکل سوال و جواب کا کالم شروع کریں۔ دعاء ہے کہ اللہ آپ کی صحت کے ساتھ آپ کی عمر دراز کرے۔ آمین۔
ڈاکٹر تسنیم ذاکر، بنگلور، کرناٹک* میاں عظیم! السلام علیکم
1955 ء میں میری شادی کے موقع پر مرحوم تمکین کاظمی اورمراد عزیز زور صاحب نے وقار خلیل سے میرا تعارف کروایا اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اوجؔ اور شاہد صدیقی کے علاوہ کنول پرشاد سے وقار خلیل کی جدوجہد اور کلام پر بہت کچھ سننے میں آتا۔ دکن کے نامور صحافی وپریس انفارمیشن کے اسحاق ایوبی اور شیخ محمد صاحب بھی آپ کے والد کے مداح تھے۔ سلیمان اریب اور راج بہادر گوڑ کابھی تعاون انھیں حاصل تھا، مگر چونکہ میں مذہب کا پابند اور نام نہاد ترقی پسندوں کا مخالف تھا۔ کئی وجوہات کے باعث پارٹی سے وقار کی وابستگی اور روسی سفارتخانہ کا پہلا لفافہ (پریس ریلیز سپلائی والا) بغل میں دابے پھرنا مجھے قطعاً پسند نہ تھا اور اس ضمن میں میرا ٹوکنا انہیں برا معلوم ہوتا تھا دوری بڑھتی گئی اور پھر میں ارض مقدس چلا گیا حسن چشتی ،شریف اسلم اور دیگر ذرائع سے خیرو خبر ملتی رہی چونکہ ریسرچ ورک اور ڈیوٹی کی مجبوری ، شاذ و نادر ہی کسی خاص موقعوں پر اعتماد صدیقی یا پھر بزم اتحاد کے جلسوں میں چلاجاتا مگر افسوس کہ جس وقت وقار جدہ آئے میں پیرس گیا ہوا تھا وصال کے عرصہ بعد ایک پاکستانی کے ذریعہ ’’وقار ہند‘‘ نظر نواز ہوا ۔ بتا نہیں سکتا کہ کس درجہ مسرت ہوئی۔ اللہ جل جلالہ کا کرم ہیکہ ’’رابطہ‘‘ (پاکستان) کے بعد اگر کوئی سلیقہ کا میگزین نکلا تو وہ’’ وقار ہند‘‘ہے ۔ مجھے خوشی ہیکہ وقارؔ کے خوابوں کو اللہ تعالی نے بہترین تعبیر عطا فرمائی اور تم جیسی اولاد سے سرفراز فرمایا اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہند وپاک کا کوئی بڑے سے بڑا ادیب یا صحافی یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کی اولاد ماں باپ کی آرزؤں کے مطابق اردو ادب اور صحافت کی خدمت انجام دے رہی ہے یہ صرف اللہ رب العزت کے کرم و فضل کا نتیجہ ہیکہ ’’وقار ہند‘‘نے مقام پیدا کیا اور تمہیں کامیابی نصیب ہوئی ۔ میری دعا ہیکہ اللہ تعالی تمہیں کامیابی کی معراج عطا فرمائے ۔
حسن الدین سہروردی، کوٹلہ عالیجاہ ،حیدرآباد

* بخدمت عالی ایڈیٹرصاحب ’’وقار ہند‘‘! السلام علیکم
تازہ شمارہ موصول ہوا، بہت خوب ہے۔ آپ کے اداریہ کا آخری جملہ تمام میڈیا والوں کیلئے قابل توجہ اور قابل عمل ہے۔ اگر دنیاکامیڈیا آپ کی اس آواز کو بلند کریں تو اقوام متحدہ مذکورہ قانون بنانے پر مجبور ہوجائے گا۔ سوشیل میڈیا غیر مستند احادیث شریفہ نشر کرنے سے احتیاط کرے ورنہ ہمارے حضور اکرم ﷺ کی ناراضگی کا موجب ہوگا اور وز محشر شدید عذاب کا باعث ہوگا ۔ آپ کا یہ مشورہ بھی مقدس ہے ۔ حکیم حبیب الرحمن خان ہنگولی کا مضمون اچھا ہے آپ ہر بیماری کا نسخہ تحریر کردیتے ہیں یہ آپ کی فراخدلی ہے ۔ آپ کا ہر انتخاب لا جواب رہتا ہے۔ مبارکباد قبول ہو ۔
غوث محی الدین سحر کڑپوی، کڑپہ، اے پی

* محترم ایڈیٹر عظیم الرحمن! السلام علیکم
اُمید کہ خیریت سے ہوں گے ۔ نئے سال کا پہلا شمارہ ملا۔ ہمیشہ کی طرح تمام مضامین دلچسپ او رپسندیدہ رہے، خاص طور پر اِسلامیات میں ’’میلاد نامہ‘‘مضمون بہت پسند آیا ۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے تشریف لانے سے دُنیا اور دِین کی سب نعمتیں ملیں۔ اگر خوشی کے قابل کوئی چیز ہے تو حضرت رسول اللہ ﷺ کی میلاد ہے، اس پر بے حد خوش ہونا چاہئے ۔ اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہیکہ اس میگزین کو کافی ترقی دے ۔(آمین)
اشر ف علی اشرف، پدا پلی ،کریم نگر

* مکرمی ایڈیٹر! آداب
’’وقار ہند‘‘کا نیا شمارہ پڑھ کر خوشی ہوئی اداریہ بے مثال رہا۔ گوشہ نسوان حوا کی بیٹی پر ظلم و تشدد کیوں مضمون بہت پسند آیا بے ساختہ دل سے دعا نکلتی ہے جو بااثر ہوتی ہے اس میگزین کو مزید ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کی ضرورت ہے اس کیلئے انعامی مقابلوں کو شروع کریں تو مناسب رہے گا امید کہ یہی معیار برقرار رہے گا ۔
نشرا ترنم، کریم نگر، تلنگانہ

* مکرمی مدیر صاحب’’وقار ہند‘‘!۔تسلیمات
’’وقار ہند‘‘ پابندی سے وصول ہورہا ہے ۔ ہر شمارے کو بہتر پایا نئے سال کے اولین دو شماروں کے مضامین پسند آئے۔ اداریئے نہ صرف اچھے لگے بلکہ غیر جانبدار بھی رہے ۔ اسلامیات کے مضامین کا کیا کہنا، معلومات کا خزانہ ہیں۔ اسلامیات میں شرعی سوالات و جوابات کے سلسلہ کو موخر کردیا گیا جو مجھے اچھا نہیں لگا اس سلسلہ کو بحال کیا جائے تو احسن ہوگا۔ حضرت غوث اعظمؒ کے خطابات قابل مطالعہ ہیں ۔ سیاسیات کے مضامین بھی اچھے لگے۔ امید ہیکہ اس معیار کو برقرار رکھا جائے گا۔
عبدالحمید ماجد، ناندیڑ

* محترم ایڈیٹر صاحب! السلام علیکم
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ عرض ہے کہ پندرہ روزہ ’’وقار ہند‘‘ واقعی ایک اردو کا واحد رسالہ ہے جو کافی عمدہ پرنٹ اورگیٹ اپ میں شائع ہورہا ہے ۔ میرے چند مشوروں پر غور کریں تو نوازش ہوگی۔ رسالہ میں صحت سے متعلق ڈاکٹروں سے سوال و جواب کا کالم شروع کیا جائے اس کالم میں ایلوپیتھک ،آیوروید، ہومیو و یونانی کے ڈاکٹروں کو بھی جگہ دیں ۔ ویسے تو یونانی طریقہ علاج اردو سے جڑا ہوا ہے ۔ بزنس کے صفحہ پر کئی بائیکس اور کاروں کے بارے میں بھی جانکاری دیں ۔ کیرئیر اینڈ گائیڈنس کے صفحہ میں بھی مختلف طلبہ کے سوال و جوابات کا کالم شروع کریں جو وقت کا تقاضہ بھی ہے ۔ دعا ہیکہ اللہ اس رسالہ کو مزید ترقی کی بلندیوں پر لے جائے اور نظر بد سے بچائے۔ (آمین)
ذاکر حسین، بنگلورو

* محترم ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘! السلام علیکم
جنوری کے دو شمارے زیر مطالعہ رہے ۔ دونوں کے اداریے پسند آئے ۔ ان دو شماروں کے مشمولات کی ترتیب بھی معیاری رہی۔ سرمایہ ادب میں چکبستؔ پر مضمون پسندآیا ۔ ادب اور اسلامیات میں دو ناولوں کی اشاعت کا سلسلہ قابل ستائش ہے ۔ راقم ان دو ناولوں کا پابندی کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے ۔ یہ ایک اچھی کاوش ہے ۔
اعجاز احمد صدیقی، اورنگ آباد
* ڈیئر ایڈیٹر! آداب
’’وقار ہند‘‘ کو آپ جس نفاست اور پابندی سے شائع کررہے ہیں۔ اس کی مثال ماضی میں ملنی مشکل ہے ۔ دیدہ زیبی کے لحاظ سے اس میگزین کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ اس میگزین کے مضامین کا مواد بھی عمدہ اور معیاری ہے ۔ سیاسیات میں معصوم مراد آبادی،رشید انصاری کے مضامین کے علاوہ خصوصی رپورٹ بھی دل کو بھاگئی ۔ امید ہیکہ اس معیار کو برقرار رکھا جائے گا۔
مشتاق احمد فرید، تالاب کٹہ، حیدرآباد

***

Comments

comments