Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » نصیحت تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن!!
نصیحت تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن!!

نصیحت تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن!!

امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ہندوستان کے دورے کے موقع پر نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کو رواداری کا درس دے کر ان لوگوں سے زبردست داد و ستائش حاصل کی جو زعفرانی جماعت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہندوتوا طاقتوں کے بے لگام ہوجانے سے نالاں تھے۔ اوباما کی نصیحت یا مشورہ جو بھی تھا وہ ہندوستان کی ان طاقتوں کو شرمسار کرنے کیلئے کافی تھا جنہوں نے مودی کے اقتدار میں آتے ہی ہندوستان کو ہندو راشٹر سمجھنا شروع کردیا تھا اور دستور سے سیکولرازم‘ رواداری کے الفاظ کو مٹاتے ہوئے‘اقلیتوں کی گھر واپسی کروانے کے علاوہ ناتھو رام گوڈسے کو قومی ہیرو بنانے کی تیاری کرلی تھی۔ اوباما نے ایک نہیں دو مربتہ ہندوستان میں بڑھتی عدم رواداری پر تشویش کا اظہار کیا لیکن کیا صدر امریکہ یہ بتاسکتے ہیں کہ ان کے ملک میں 9/11 کے بعد اور اس سے پہلے بھی مسلمانوں کے ساتھ کتنی رواداری برتی گئی اور برتی جارہی ہے۔ امریکہ خود کو جمہوریت کا علمبردار اور انسانی حقوق و آزادیوں کا چیمپئن بتاتا ہے لیکن جب سے اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کی ہے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم نے شدت اختیارکرلی ہے۔ ابھی اوباما کی نصیحت کو چند دن بھی نہیں گذرے کہ شمالی کیرولینا کے چیاپل ہل میں کریک اسٹیفن نامی ایک شخص نے اپنے 3 مسلمان پڑوسیوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا کیونکہ اس کو ان خواتین کا حجاب پسند نہیں تھا۔ کہاں ہے امریکہ میں وہ رواداری جس کی نصیحت اوباما یہاں کر کے گئے ہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں کی سرکاری طور پر جاسوسی کی جاتی ہے اور اس کو ملک کی سلامتی سے جوڑا جاتا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق یہاں سکھوں کو اس لئے نشانہ بنایا جاتا ہے چونکہ ان کی داڑھی اور پگڑی کی وجہ مقامی لوگ ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 9/11 کے بعد ہر سال مسلمانوں کے خلاف نفرت سے متعلق 20 تا 30 جرائم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ صرف 2001 میں ایک سال کے دوران مخالف مسلم 500 واقعات پیش آئے۔ معمولی نوعیت کے واقعات ہر سال 100 تا 150 کے درمیان ہیں۔ دنیامیں ایک وقت جب یہودیوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن آج مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم شدت اختیارکررہی ہے۔ حالیہ جب اوباما نے ہندوستان میں عدم رواداری پر تشویش ظاہر کی تھی تب انہوں نے امریکی مسلمانوں کی ستائش بھی کی لیکن یہ ستائش امریکیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت کو کم کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوئی۔ ایک طرف امریکہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور ان کو راست امریکی عوام کا دشمن بتاتے ہوئے ان کی سلامتی کیلئے مسلم ممالک پر حملوں کا جواز تلاش کرتا ہے پھر کس طرح وہ امریکی عوام کو مسلمانوں کا دوست بناسکتا ہے۔ امریکہ میں ہی نہیں ہر مغربی ملک میں اب یہ صورتحال ہے کہ ہر غیر مسلم اپنے مسلم پڑوسی سے خائف ہے۔ برطانیہ‘ خصوصا لندن میں بھی مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جارہا ہے جب سے داعش منظر عام پر آئی ہے اور یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ مغربی ممالک کے نوجوان خصوصاً لڑکیاں گھروں سے فرار ہوکر داعش میں شامل ہورہی ہے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ جہادی ویڈیوز اس نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

 

Comments

comments