Monday , 26 February 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » حرام کمائی کی سزا
حرام کمائی کی سزا

حرام کمائی کی سزا

کسی ملک کے ایک چھوٹے سے گاوں میں شیرو نامی گاؤلی رہتا تھا ۔ اس کے پاس بہت سی بھینسیں تھیں‘ وہ ان کا دودھ نکالتا اور فروخت کر تااور اس سے جو آمدنی ملتی، اس سے خود کا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا۔ ابتداء میں وہ ایمانداری سے دودھ فروخت کیا کرتا تھا اور حلال روزی کماتا مگر چند دنوں بعد اس کا کاروبار بڑھنے لگا‘ وہ شہر کی کئی ہوٹلوں کو بھی دودھ سربراہ کرنے لگا۔ وہ‘ جلد امیر بننے کے چکر میں دودھ میں پانی ملانے لگا۔
وہ اکثر اونچے دام میں پانی ملا ہوا دودھ فروخت کرتا تھا۔ لوگ اعتراض کرتے تو وہ کہتا تھا لینا ہے تو لو ورنہ یہاں سے چلے جاؤ‘ کئی افراد مجبوری میں اس کے یہاں سے دودھ خریدتے تھے۔ پانی ملا دودھ فروخت کر کے شیرو‘ کافی دولت مند ہوگیا۔ اب وہ لوگوں سے غرور و تکبر سے پیش آنے لگا۔ ایک دن شیرو پیسوں کی تھیلی لے کر قریبی گاوں جانے لگا۔ گرمیوں کے دن تھے۔ دوپہر میں اسے شدت کی پیاس لگی‘ وہ جاتے جاتے ایک گھنے جنگل میں پہنچا۔ یہ جنگل گاؤں کے قریب تھا۔ اس جنگل میں اسے ایک نہر دکھائی دی اس کے کنارے ایک درخت بھی تھا جس پر ایک بندر بیٹھا تھا۔ شیرو نے تھیلی‘ درخت کے نیچے رکھدی اور کپڑے اتار کر نہر میں پانی پینے اُترا۔ اسے تیراکی کا بھی شوق تھا۔ وہ نہر میں کود پڑا اور تیرنے لگا کچھ دیر بعد شیرو اوپر آیا اور درخت کے پاس پہونچا تو وہاں پیسوں کی تھیلی غائب تھی۔ اوپر دیکھا تو تھیلی بندر کے ہاتھ میں تھی‘ بندر تھیلی کا منہ کھول کر پیسے پھینکنے لگا‘ پیسوں کی بارش کی اطلاع ملنے پر قریبی گاوں کے لوگ بھی یہاں اکھٹا ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تھیلی پیسوں سے خالی ہوگئی۔ بندر کی حرکت سے شیرو پریشان ہوگیا۔ اس کی کمائی کو بندر نے یکلخت ختم کردیا ۔ لوگوں نے شیرو سے کہا کہ پانی ملا کر دودھ فروخت کرنے کا انجام ایسا ہی ہوگا۔ شیرو نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی بھی پانی ملا کر دودھ فروخت نہیں کرے گا۔

Comments

comments