Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » قارئین کے خطوط » قارئین کے خطوط
قارئین کے خطوط

قارئین کے خطوط

ایڈیٹر انچیف عظیم الرحمن ’’وقار ہند‘‘حیدرآباد! السلام علیکم
بہت عرصے کے بعد ’’وقار ہند‘‘ نامی اردو رسالہ نظروں سے گذرا‘ اس کو پڑھ کر انتہائی مسرت پیدا ہوئی کہ اردو زبان کی وسعت‘ حفاظت اور ترویج کیلئے آج بھی آپ جیسے عظیم دانشور ہمارے اندر موجود ہیں۔ رسالہ انتہائی دیدہ زیب اور موجودہ دور کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر پہلو کو احاطہ کئے ہوئے نظر آیا ۔ خاص کر کشمیری مسلمانوں کے مسائل کو دوسرے رسالوں کی طرح نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ ان کو بھی ملت کا ایک حصہ سمجھ کر ان کے درد کو محسوس کیا ہے۔ ایک زمانے میں دکن سے ہی نشیمن اور دہلی سے نئی دنیا جیسے رسالوں نے صحافتی میدان میں نام پیدا کرنے کی کوشش کی تھیں مگر وہ زیادہ دیر اس کو قائم نہ رکھ سکے ۔ اگرچہ اس وقت بھی ہندوستان کی کچھ ریاستوں سے اردو کے مختلف رسالے شائع ہورہے ہیں مگر آپ کا میگزین ان سب پر بھاری اور مثالی نظر آرہا ہے، کیونکہ آپ کے اس میگزین ’’وقار ہند‘‘ سے ملکی ‘ ملی اورعالمی سیاست کے مسائل کا بھر پور تجزیہ پیش ہورہا ہے۔ شاید مسلمانوں کو آج اس سے ‘خواب گراں سے بیدار ہونے میں مدد مل سکے گی۔ امید ہے کہ آپ اس میگزین کے ذریعہ حیدرآباد کی گذشتہ شان رفتہ کو بحال کرنے اور اردو زبان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے اس جریدہ کے معیار کو ہر قیمت پر بحال رکھنے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ اللہ تجھے عطا کرے زور قلم اور ۔ میری طرف سے دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد قبول فرمائیں اور اپنے دیگر ساتھیوں کو جو اس جریدہ کو آگے لے جانے میں اپنی قیمتی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہوئے ہیں‘داد تحسین پیش کررہا ہوں اور امید ہے کہ وہ اس میگزین کو ہمیشہ ایک ملی کاز کے طور پر لیتے رہیں گے۔
ڈاکٹر سیف اللہ خالد آرونی اننت ناگ (اسلام آباد) کشمیر

مکرمی ایڈیٹر صاحب! آداب
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے عرض ہے کہ پندرہ روزہ ’’وقار ہند‘‘واقعی ایک اردو کا واحد رسالہ ہے ۔ فبروری کے دو رسالے ملے‘ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ‘خصوصی رپورٹ ‘عالم عرب ‘مسلم دنیا سرمایہ ادب‘ اسلامیات بہت سارے اور مضامین قابل تعریف ہے ۔ دعا ہیکہ اللہ آپ کی صحت کے ساتھ آپ کی عمر دراز کرے ۔
عبدالرحیم عزیزی، پدا پلی تلنگانہ

محترم ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘ حیدرآباد! السلام علیکم
تازہ شمارہ ملا ۔ آپ کا اداریہ اتنا بے باک ہے کہ ہندوستان کا ہر مسلمان اس سے درس حاصل کرسکتا ہے ہم اپنے تمام فروعی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا مظاہرہ کریں تا کہ فرقہ پرستوں کے دلوں میں دہشت پیدا ہو اور وہ اپنے نا جائز منصوبوں سے باز آسکیں ۔ دیگر یہ کہ آپ نے مودی کے پُر فریب نعرہ کا بھی ذکر کیا ہے ۔ آپ کے اداریہ کا ہر لفظ غور و فکر کا متقاضی ہے ۔ کاش ہمارے قارئین کرام آپ کا پیغام دوسروں تک پہنچا پائیں تو مناسب اور قابل سعادت ہوگا ۔معصوم مراد آبادی کا مضمون بھی بہت اچھا ہے اور شبیر بٹ کا مضمون تو کجا ان کا ٹائٹل ’’شاخ نازک پر جو آشیانہ بنا‘‘ بہت بہت خوب ہے ۔ مجموعی طور پر آپ کے جریدہ میں ہر انتخاب قابل رشک اور مطالعہ ہے تعریف کرتے کرتے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ کا وجود ہی قابل تحسین ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو آپ کے کل متعلقین کو دنیوی اور دینوی سعادت عطا ہو۔ آمین۔
غوث محی الدین، سحر کڑپوی

مکرمی و محترمی مدیر ’’وقار ہند‘‘! تسلیمات
اُمید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے میں پہلی بار لکھنے کی کوشش کررہا ہوں لہذا آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے ۔ عرض ہیکہ ’’وقار ہند‘‘ مجھے کافی پسند ہے اس لئے یہ میگزین پڑھتا ہوں دیگر تمام میگزینوں سے یہ بالکل الگ ہے ۔ سرورق پر دونوں معصوم چہرے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ایک چہرہ مسلم قاتل کا تو دوسرا عوامی دھوکہ باز کا ‘ ان دونوں کو ہندوستان کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
محمد عبدالواحد، پدا پلی کریم نگر

جناب ایڈیٹر! تسلیمات
اُمید کہ بخیر ہوں گے۔ دیگر احوال یہ کہ پندرہ روزہ ’’وقار ہند‘‘ کا شمارہ زیر مطالعہ رہا ۔ من نے چاہا کہ اردو کی اس سماجی خدمت پر آپ کو مبارکباد پیش کروں ۔ بہر حال ہمارے شہر میں خاص کر اردو کی انجمنیں، تنظیمیں ‘یاران ادب ‘بزم ادب اور بزم غزالاں کے ارکان ’’وقار ہند‘‘ کے قاری ہیں اس کی نفیس طباعت پر آپ سب ہی حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں دعا گو ہوں کہ یہ میگزین اپنے وقار پر قائم رہے ۔ آمین
حمید الدین احمد ناز، بیدر

محترمی ایڈیٹر! آداب عرض
مزاج گرامی بخیر ہوگا یہ بڑا مسرت کا مقام ہیکہ ’’وقار ہند‘‘ پے درپے ترقی کی راہ پر گامزن ہے حالانکہ اس جریدہ سے میں تقریبا 3 برسوں سے منسلک ہوں اور باقاعدگی سے اس کا مطالعہ کررہی ہوں ۔ آپ جناب والا قدیم و جدید زمانے کے ادباء و شعراء کو بھی معیاری میگزین میں جگہ دے چکے ہیں اور دیں گے اس طرح آپ ان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کا سامان فراہم کررہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔
شاذیہ بیگم، کامٹی‘ناگپور

جناب ایڈیٹر! السلام علیکم
’’وقار ہند‘‘ کا تازہ شمارہ ملا۔ خصوصی رپورٹ اچھی لگی جو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس سے متعلق تھی۔ بورڈ نے کئی فیصلوں کا اعلان کیا ہے مگر ان فیصلوں پر عمل آوری کب سے ہوگی؟ بورڈ کے قائدین ہی شائد بتا پائیں گے ۔ اسلامیات کے مضامین بھی پسند آئے ہیں ۔ صحت کے مضامین کا پابندی سے مطالعہ کرتا آرہا ہوں ۔ اس کے تمام مضامین معلوماتی ہوتے ہیں۔اطفال‘ ادب اوردیگر مضامین بھی لاجواب ہیں۔
عامر احمد، پھسل بنڈہ، حیدرآباد

لائق احترام ایڈیٹر ’’وقار ہند‘‘! تسلیمات
نیا شمارہ‘ قدیم روایات کے مطابق آب و تاب سے جلوہ افروز ہوا ۔ سرورق پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قائدین کی تصاویر‘ بہت عرصہ بعد دیکھنے میں آئیں‘رشید انصاری‘شکیل رشید کے مضامین دل کو بھا گئے ۔ ہاشم پورہ قتل عام‘افغانستان کے بارے میں پڑھ کر افسوس تو ہوا ہے۔ آج مسلمان‘ انصاف کو ترس رہے ہیں مگر کوئی بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کررہا ہے۔ ادب میں میم صاحب افسانہ پسند آیا۔ دیگر گوشوں کے مضامین بھی اچھے لگے ۔
دولت خان، دیگلور ناکہ، ناندیڑ

مکرمی ایڈیٹر صاحب! آداب
نیا شمارہ دیکھا اور پڑھا‘سرورق اچھا لگا ۔ اداریہ ٹھیک ہے ۔ اطفال کی کہانیاں نصیحت آمیز ہیں‘ اطفال میں مسلم سائنسدانوں کے بارے میں نیا کالم شروع کریں تا کہ نئی نسل کو مسلم سائنسدانوں کے بارے میں جانکاری مل سکے ۔ امید ہیکہ اس جانب توجہ دیں گے۔
رسول خان منہاج، چارمینار، حیدرآباد

***

Comments

comments