Thursday , 13 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » ادب » حضرت وقارؔ خلیل ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی
حضرت وقارؔ خلیل ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی

حضرت وقارؔ خلیل ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی

۔۔۔ عقیل الرحمن عقیلؔ (منیجنگ ایڈیٹر)

اُردو زبان کے ممتاز ادیب، شاعر و صحافی حضرت وقار خلیلؔ کو اس دُنیائے فانی سے رخصت ہوکر 17 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ریاست کرناٹک کے گوگی شریف تعلقہ شاہ پور ضلع گلبرگہ کے علمی، ادبی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے وقار خلیل 11 رجب المرجب 2 نومبر 1998ء کو لاکھوں محبانِ اُردو اور سینکڑوں شاگردوں کو بادیدۂ نم چھوڑکر اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔ اس ممتاز شاعر و شفیق والد کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی خاطر ان کے فرزندوں نے پندرہ روزہ میگزین ’’وقار ہند‘‘ کی بنیاد ڈالی جو مختصر عرصہ میں ہندوستان کا مقبول عام اُردو میگزین بن چکا ہے۔ حضرت وقار خلیل کی برسی کے موقع پر ادب کا یہ گوشہ ملک کے اس عظیم شاعر کے نام معنون کیا جارہا ہے۔
والد محترم سید شاہ محمدخلیل الرحمن حسینی کوہ سوار المعروف وقارؔ خلیل صاحب 29 اگست 1930 کو اردوئے قدیم یعنی دکھنی زبان کے معروف صوفی سخنور حضرت محمود بحری صاحب ’’من لگن‘‘ کے جائے مدفن گوگی شریف تعلقہ شاہ پور ضلع گلبرگہ حال علاقہ کرناٹک میں پیدا ہوئے ۔ آبا و اجداد گوگی شریف سے چار میل پر عادل شاہی سلاطین کے شہر شاہ پور ضلع گلبرگہ میں زبان‘ ادب ‘تعلیم اور تصوف کی خدمت کے منصب پرفائز رہے۔ جد اعلی حضرت سید شاہ محمد اکبر حسینی کو عہد عالمگیر میں’’کوہ سوار‘‘ کا لقب عطا ہوا اور انہیں اعزاز و انعامات سے نوازا گیا۔ میرے دادا حضرت سید شاہ محمد ؐ چندا حسینیؒ نامی کوہ سوار نظامی نے زندگی کے پانچ دہے درس و تدریس میں گذارے بہ حیثیت استاد اردو انہوں نے ہزاروں طالب علموں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ وہ علامہ اقبالؔ کے عہد کے نامور سخنور اور صاحب طرز ادیب تھے۔ اسی طرح میرے والد حضرت وقارؔ خلیل کی ابتدائی تعلیم و تربیت والدین اور اسلاف کی صاف ستھری زندگی کے تناظر میں ہوئی۔ انہو ں نے میٹرک کامیاب ہونیکے بعد منشی اور 1947 میں ویسٹرن یونیورسٹی جالندھر سے منشی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔ والد صاحب کو سقوطِ حیدرآباد سے دو چار سال قبل حیدرآباد کو اپنا وطن ثانی بنانا پڑا ۔ حیدرآباد میں اُن دنوں روزنامہ ’’میزان‘‘ کا بڑا شہرہ تھا۔ اسی روزنامہ سے والد محترم الحاج وقارؔ خلیل کے صحافتی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ روزنامہ ’’میزان‘‘ کو حبیب ا للہ اوج صاحب نے 1943 ء میں جاری کیا تھا۔ روزنامہ ’’میزان‘‘ نے اپنے دور میں کافی مقبولیت حاصل کی تھی جس کا اہم سبب یہ ہے کہ یہ اخبار سہ لسانی تھا یعنی بیک وقت انگریزی‘ اردو اور تلگو زبان میں شائع ہوتا رہا ۔ ہر اشاعت میں وقارؔ صاحب بچوں کے ذوق و شوق اور ان کی ذہنی تربیت کے لئے کہانیاں ‘ نظمیں ‘پہیلیاں اور گیت وغیرہ لکھتے رہے۔ شری خوش حال چندجی نے 1923 ء میں روزنامہ ’’ملاپ‘‘ کی بنیاد ڈالی اس کے بعد اس اخبار کے مدیر شری یدھ ویر جی اور چیف ایڈیٹر رنبیر جی مقرر ہوئے ۔ حیدرآباد کا روزنامہ ’’ملاپ‘‘ ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ اس زمانے میں روزنامہ ’’ملاپ‘‘بچوں کے صفحہ کیلئے بھی کافی مشہور رہا ۔ اس صفحہ کو ابتداء میں جناب علاء الدین حبیب ترتیب دیتے تھے۔ بعد میں صفحہ باقاعدہ طور پر وقارؔ صاحب کے حوالے کردیا گیا ۔
وقارؔ صاحب اداریہ ’’دادا لکھتا ہے‘‘ کو پُر لطف و دلچسپ انداز میں پیش کرتے تھے ۔ اس زمانے میں وقارؔ خلیل صاحب ’’بال سبھا‘‘ کے نام سے اس صفحے کو ترتیب دیا کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد وقارؔ خلیل نے بچوں کیلئے ماہنامہ ’’انعام‘‘ حیدرآباد سے 1957 ء میں اپنی ادارت میں جاری کیا۔ اس رسالے نے قلیل عرصے میں حیدرآباد میں بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں کی گراں قدر خدمات سے متعارف کروایا۔ اس رسالے کی تعریف ممتاز شاعر جناب خورشید احمد جامیؔ اس طرح کرتے ہیں۔ ’’انعام‘‘ میں نے حد درجہ دلچسپی سے پڑھا صحافتی زندگی کے اس ہمت آزما دور میں مستقبل کے معماروں کیلئے ایک اچھے پرچے کا
اجراء وقت کی ایک اہم اور بڑی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے‘‘۔ حیدرآباد کے علمی‘ ادبی صحافتی اور شعر و ادب کے سازگار ماحول نے والد صاحب کے قلم کو جلا بخشی اور انہیں زندگی جینے کا حوصلہ بخشا۔ ترقی پسند تحریکوں کے ہم قدم رہ کر ادب ‘ زندگی ماحول اور معاشرہ سے جو کچھ انہوں نے حاصل کیا اسے اپنے تین شعری مجموعوں ’’شاعری‘‘ ’’سخن‘‘ اور ’’ورثہ‘‘ کے اوراق پر بکھیر دیا جو اُن کی متاع حیات ہے۔ حضرت وقارؔ خلیل اردو کے بہت بڑے معمار ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی دریافت اور ان کے تربیت یافتہ تھے اور ان ہی کی خواہش پر وہ 1956 سے 1998 ء تک ڈاکٹر زورؔ کے ادارہ ادبیات اردو اور ’’ایوان اردو‘‘ سے وابستہ رہے ۔ وہ ابتداء میں ماہنامہ ’’سب رس‘‘ کے مدیر اور آخر وقت تک اردو کے شعبہ امتحانات کے انچارج رہے۔
وقارؔ خلیل صاحب ابتداء میں افسرؔ تخلص کرتے تھے لیکن جامیؔ صاحب کے مشورے پر اپنا قلمی نام ’’وقارؔ خلیل ‘‘ رکھا۔ جامیؔ صاحب کے تلمذ پر انہیں بڑا ناز تھا اور وہ ان کی یادگار مسودات کو سر آنکھوں سے لگاتے رہے۔ وقارؔ صاحب کی شاعری کا موجودہ بلند معیار اس بات کا شاہد ہے کہ وہ ہر چند جامیؔ سے نہایت قلیل عرصہ کیلئے وابستہ رہے لیکن انکے فیض محبت نے وقارؔ صاحب کے فکر و اسلوب کو جلا بخشی ہے۔ دہلی اردو اکیڈیمی کی دعوت پر دہلی میں منعقدہ انڈو پاک اردو غزل سمینارمیں ’’دکنی غزل گو شعراء‘‘ کے زیر عنوان اُن کا مقالہ کافی پسند کیا گیا۔ خدا بخش اورنٹیل پبلک لائبریری پٹنہ کے زیر اہتمام دہلی میں منعقدہ سمینار میں ’’ادارہ ادبیات اردو کے نادر مخطوطات نے زیر عنوان مقالہ پڑھا ۔ انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار میں شرکت کی اور ’’ ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ کی شخصیت‘‘ کے زیر عنوان مقالہ پڑھا۔ الغرض وقارؔ صاحب نے کئی مجالس مذاکرہ میں شرکت کی اور بڑے محققانہ اور عالمانہ انداز میں اپنے مقالات پیش کئے ۔ وقارؔ خلیل صاحب کی اکثر نظمیں نئے ذہن کا پتہ دیتی ہیں اور بدلتے ہوئے شعری مزاج کی آ:ینہ دار بھی ہیں ان میں تازگی ہے ‘ زندگی ہے‘ سچائی ہے اور ان میں ان کی انفرادیت بھی نمایاں نظر آتی ہے ۔ برصغیر ہندو پاک کے نامور شاعر جناب فیض احمد فیضؔ لکتھے ہیں کہ وقارؔ خلیل صاحب کو برصغیر پاک و ہند کی نہایت محترم اور نامور شخصیت مخدومؔ محی الدین کی جنم بھومی سے نسبت ہے بلکہ وہ فخر سے کہتے ہیں
’’مخدوم کا بھی طرز بیاں ساتھ ساتھ ہے‘‘
اس کے بعد اورکسی تعارف کی ضرورت نہیں وہ ہندو پاک کے ادبی و شعری حلقوں میں خاصے جانے پہچانے شاعر ہیں ان کی نظموں اور غزلوں میں عصری احساس اور انسانی جدبات کی فراوانی ہے۔ مجھے امید ہے کہ زبان و ادب سے اُن کی دل بستگی نہ صرف قائم رہے گی۔ اس میں گراں قدر اضافہ بھی ہوگا۔‘‘پروفیسر قدیر امتیاز اپنے مضمون ’’تاریخی و تہدیبی ورثے کا شاعر و قارؔ خلیل‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں ۔’’ویسے ان کی غزلوں پر نظمیں بھاری ہیں میں انہیں نظم کا شاعر سمجھتا ہوں۔ نظم ہی ان کی شاعری کی پہچان بن سکتی ہے۔ انہوں نے اقبالؔ سے تراکیب و شعری وقار غالبؔ ؔ ؔ ؔ سے لہجہ ‘مخدوم سے انقلابیت اور فیضؔ سے رومانیت لی ہے اور ان سب کو شعر کی مٹی میں گوندنے سے ان کی شاعری کا خمیر بنا ہے‘‘ دنیائے ادب میں تحقیق کا میدان کافی وسیع ہے اس میدان میں کئی مشہور و معروف محققین اپنے کارنامے انجام دے رہے ہیں اسی طرح وقارؔ خلیل صاحب نے بھی تحقیقی میدان میں قدم رکھ کر اپنے قلم کا لوہا منوایا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست کرناٹک کے گلبرگہ یونیورسٹی سے مس حور النساء نے 1992 ء میں ان کی حیات اور ادبی خدمات پر ایم فل کا مقالہ لکھ کر ڈگری حاصل کی ۔ والد صاحب حضرت وقارؔ کی شاعری اس لحاظ سے بھی قابل قدر ہے کہ اس میں اخلاقی قدروں کا گہرا شعور ملتا ہے ۔ غزلیات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ انکے خیالات میں کتنی پاکیزگی ہے ۔ انکی غزل میں کلاسیکی انداز سے انحراف نہ کرتے ہوئے جدید انداز کو قائم و باقی رکھا گیا ہے ۔ والد صاحب کی قومی شاعری سرکاری رسائل‘ ریڈیو ‘ ٹیلی ویژن‘ اکسٹرنل سرویس اور بر موقع تقریبات میں پڑھی گئیں۔ اسکے علاوہ مقصدی نظمیں ‘نعت و منقبت‘ مضامین و تبصرے اور بہت کچھ انہو ں نے اپنے نام سے اور کبھی ابنِ نامیؔ کے قلمی نام سے شائع کروائیں ۔ اس کے علاوہ کئی رسائل‘ اخبارات اور ہفتہ وار جرائد کی ترتیب و تزئین میں اہم کردار ادا کیا ۔ والدِ محترم حضرت وقار نے کئی ادیبوں اور شاعروں کی وفیات بھی لکھیں وہ محل اور موقع پر اظہار سے نہ کتراتے ۔ والد صاحب کے تخلیقی سفر کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ انہوں نے ماحول اور معاشرہ کی حقیقتوں کو اور اسالیب کے تناظر میں رقم کرنے کی سعی کی ہے ۔ اور زندگی کی سچائیوں ‘ آرزوں ‘تمناوں اور المیوں کو اپنی شعری تخلیقات میں وہ نظم کرتے رہے ۔ والد صاحب جناب سید محی الدین قادری زورؔ ‘ فیض احمد فیضؔ ‘ احمد ندیم قاسمیؔ ‘مخدومؔ محی الدین ‘فراقؔ ‘ اور خورشید احمد جامی اور میرے دادا حضرت سید شاہ محمدؐ چندہ حسینی نامیؔ کوہ سوار نظامیؒ سے بہت زیادہ متاثر تھے ۔ وہ ایک شاعر گر بھی تھے ۔ ان کی طبعیت میں سنجیدگی سادگی خود داری اور ملنساری تھی وہ اپنے سینے میں قوم کیلئے تڑپتا ہوا دل رکھتے تھے۔
کسی فنکار کی شخصیت اور اس کا مرتبہ و مقام معلوم کرنے کیلئے اس کے بارے میں معاصرین و اصحاب فکر و فن اور علم و نظر کی آراء اور تاثرات کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے ۔ مختلف اصحاب فکر و فکن اور معاصرین نے حضرت وقارؔ خلیل صاحب شخصیت و سیرت ‘شاعری ‘مضمون نگاری اور کالم نگاری وغیرہ کے بارے میں جو رائیں دی ہیں اور اس سلسلے میں جو مواد دستیاب ہوا ہے وہ درج ذیل ہے ۔ ’’وقارؔ خلیل ایک نامور ترقی پسند شاعر ہیں اور انہو ں نے ترقی پسندی کی روایت کو اپنے کلام کے ذریعہ آگے بڑھایا ہے۔‘‘ (پروفیسر جگن ناتھ آزاد ) ’’وقارؔ خلیل سے ربط اتنا ہی قدیم ہے جتنا زورؔ صاحب سے یا ادارہ سے ۔ اس ادارہ کے ایک رکن ’’وقارؔ خلیل بھی ہیں ۔ ’’وقارؔ خلیل کو میں سراپا رہینِ سعی اور عمل پہیم تصور کرتا ہوں شاعری سے ان کی ایسی محبت ہے جو ان کی زندگی کے عملی پہلو کو تقویت پہونچاتی ہے اور بدلے میں اس سے حوصلہ حاصل کرتی ہے ۔ ان کا نام آتے ہی محنت کے تصور کی پرچھائیاں اُبھرنے لگتی ہیں ۔ وہ کن کن رسالوں اور اخباروں کیلئے کام کرتے ہیں کیا‘ کیا لکھتے ہیں اور ’’سب رس‘‘ کیلئے انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا ‘اس کی چکی کی مشقت کے ساتھ انہوں نے شاعری کی آگ کو بھی روشن رکھا۔‘‘ (پروفیسر گوپی چند نارنگ)
’’حیدرآباد آنے سے دسیوں بیسیوں سال پہلے رسالہ ’’ سب رس‘‘ اور ادارہ ادبیات اردو کی معرفت ’’وقارؔ خلیل کا نام سنا تھا ۔ سوچا تھا کوئی بھاری بھرکم ‘مقطع ریش والے بزرگ ہوں گے ۔ انہیں دیکھا تو کھودا پہاڑ نکلاچوہا والی بات ہوئی ۔ مخنی ‘ لڑکا نما شخصیت‘غزل کے عاشق، شرمانے والے اور اس پر علمی اکتسابات کا یہ عالم۔ عالم ہمہ انسانہ ماو ار روما………
شاہ پور کرناٹک کو بجا طور پر ان کا وطن مالوف ہونے کا فخر ہونا چاہئے ۔ لیکن ہم تو انہیں حیدرآبادی اور آندھرائی ہی کہیں گے۔‘‘ (پروفیسر گیان چند جین )
’’وقارؔ خلیل صاحب اردو کے ایک کہنہ مشق شاعر ہیں وہ گذشتہ تین دہوں سے حیدرآباد کی ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔‘‘ (ڈاکٹر غلام عمر خان)
’’وقارؔ خلیل اردو دوستوں کیلئے نیا نام نہیں ہے ۔ چار دہائیوں میں مسلسل گھلنے والے نجیف حبثہ والا یہ اردو کا پرستار تقریبا دو دہائیوں سے برابر مجلات اور جرائد پر اپنے خونِ جگر سے نقش و نگار بناتا رہا ہے۔‘‘ (عبدالوحید قاسمی ‘دہلی)
’’میں ’’وقارؔ خلیل صاحب کو ایک مدت سے جانتا ہوں وہ اردو ہال کی ادبی اور شعری محفلوں میں اکثر شریک رہتے ہیں اور مجھے بیسیوں دفعہ ان کا کلام سننے اور محظوظ ہونے کا موقع ملا ہے ۔ ’’وقارؔ صاحب ترنم کی مدد کے بغیر اپنا کلام سناتے ہیں اور پھر سامعین سے داد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔‘‘ ( حبیب الرحمن ‘انجمن ترقی اردو اے پی )
’’وقارؔ خلیل ہندوستان کی آزادی کے وقت 18 سال کے تھے۔ اس لئے ان کا ترقی پسند ادیبوں اور فنکاروں سے متاثر ہونافطری ہے ۔ بلکہ یہ اثر اتنا گہرا ہے کہ اُن کے فن اور فن پاروں میں اسی کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ یعنی مقصدیت پر زیادہ زور ‘ گو انہو ں نے بہت اچھی غزلیں ‘ حمد‘ نعتیں اور نظمیں بھی لکھی ہیں مگر ان کی انفرادیت نے وہاں بھی اپنا رنگ جمائے رکھا ۔ یعنی جب وہ حمد کہہ رہے ہیں تو اس میں غزل کی چاشنی اور غزل کہہ رہے ہوں تو نظم کا مزہ اور نظم لکھ رہے ہوں تو اس میں بچوں کی سیدھی سادی حقیقت پسندی اور آخرکار وہ جب بچوں کےئے نظم کہتے ہوں تو اپنی شخصیت کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں ۔ یعنی سادگی ‘معصومیت اور غیر مصلحتی اس شعر میں ان کی تصویر جھلکتی ہے ۔
تم مصلحت شناس نہیں ہو مگر وقارؔ
چلنے لگی ہے سب کی دوکاں سب مزے میں ہیں
(سید مجیب الرحمن)
’’وقارؔ خلیل بلا شک و شبہ اعلی پایہ کے شاعر‘ ادیب اور صحافی ہیں ان کا کلام ہند و پاک کے ادبی رسائل میں انتہائی احترام کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے۔ ’’وقارؔ صاحب کا سب سے اہم وصف ان کی ’’انا ‘‘ ہے ‘‘ (شخصی انٹرویو محمود انصاری ایڈیٹر ’’منصف‘‘)
’’وقارؔ خلیل اُن چند فنکاروں میں شامل ہوتے ہیں جنہوں نے شعر و ادب کو وسیلہ روزگار بھی بنایا۔ وہ ادب ‘شعر اور صحافت سے عرصہ دراز سے وابستہ ہیں۔ (پروفیسر سلیمان اطہر جاوید)
’’شعر و ادب میں جن شخصیتوں نے بے لوث خدمات انجام دیں ۔ ان میں وقار خلیل کا نام بھی نمایاں رہے گا۔ ایسے چند اور سچے ‘ بے لوث خدمت گذار اردو کو مل جائیں تو اردو کے دن پلٹ جائیں گے‘‘۔ (رفیع الدین قادری )۔ ’’لکھنا پڑھنا ’’وقارؔ صاحب کی زندگی اور اوڑھنا بچھونا تھا۔ ادارہ ادبیات اردو سے استفادہ کیلئے جتنے ریسرچ اسکالرس وہاں جاتے ہیں انہیں کبھی فہرست پڑھنے کی فرصت نہیں ملتی اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے ۔ جبکہ چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا ’’وقارؔ خلیل وہاں موجود ہوں۔ موضوع چاہے قدیم دکنی ادب ہو یا جدید شاعری‘ شخصیت سے متعلق ہو یا تحریکات اور رجحانات کے بارے میں ’’وقارؔ صاحب موضوع سے متعلق بیس پچیس کتابوں کے نہ صرف حوالے دیں گے بلکہ ادارہ کے کتب خانہ کے ایک ایک گوشہ سے چھان کر آپکے سامنے ڈھیر لگادیں گے گویا انہوں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ آپ نے اُن کی خدمات سے استفادہ کر کے ان کو ممنون کیا ہے ۔ دراصل ’’وقارؔ صاحب کی یہ بے لوث خدمات صرف اردو کیلئے ہوتی ہیں۔ نہ جانے کتنے درجن پی ‘ ایچ ‘ڈی ’’وقارؔ صاحب نے کروادےئے ۔ ‘‘ (احمد جلیس)

Comments

comments