Thursday , 13 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » ادب » بہ یادِ حضرت وقارؔ خلیل
بہ یادِ حضرت وقارؔ خلیل

بہ یادِ حضرت وقارؔ خلیل

۔۔۔ حامد اکمل

حضرتِ وقار خلیل کی شبیہہ میر ے دماغ میں ایک کنبہ پرور شفیق بزرگ کی ہے ۔ ان کا اپنا بھرا پرا خاندان ہے، اس سے کہیں بڑا ان کا ادبی خاندان تھا جو حیدر آباد سے لے کر ان کے آ بائی ضلع گلبرگہ تک پھیلا ہوا تھا ۔ حیدر آباد کے وسیع ادبی حلقہ میں ان کے رفقا ء میں ڈاکٹر غیاث صدیقی مر حوم ،انور معظم ، سرینواس لاہوٹی ، شاذ تمکنت ، رحمن جامی، خورشید احمد جامی، صلاح الدین نیر ، راشد آزر ، مغنی تبسم ، راج بہا در گوڑ جیسے ممتاز اصحابِ قلم شامل تھے ۔ انہیں عظیم تر قی پسند شاعر مخدوم محی الدین کے ہم عصر ہو نے کا بھی شر ف حاصل تھا ۔ دوسری طرف اُن کے حلقے میں غیاث متین ،احمد جلیس ، انور رشید ،قدیر زماں ، رؤف خلش ، اعظم راہی ، مسعود عابد اور حسن فرخ جیسے نئی نسل کے ادیب و شاعر بھی شامل تھے ۔ اُردو اخبارات کے مدیران میں خاص طور پر عابد علی خان، محبوب حسین جگر(سیاست )،عبدالطیف قادری (رہنمائے دکن )،محمود انصاری (منصف)کے علا وہ نئی نسل کے ادیب محمود خاور (مدیر برگِ آوارہ)سمیت سبھی رسائل و جرائد سے وہ قلمی معاونت کر تے تھے ۔ حیدر آ باد کے ان اخبارات کے لیے وہ ادبی رپورٹر کی حیثیت رکھتے تھے ۔ شذرات ،ادبی تجزیے اور کتابوں پر تبصرے نہایت دقتِ نظر سے لکھتے تھے ۔ ادارہ ادبیاتِ اردو سے اُن کی وابستگی سات جنموں کے بندھن کی طرح اٹوٹ تھی ۔ ماہ نامہ سب رس کی مجلس ادارت کے رکن کی حیثیت سے اس کی اشاعت کی ذمہ داری بھی انہوں نے سنبھالی تھی ۔
گلبرگہ کے مر دم خیز تعلقہ شاہ پور کے ایک عالم و صوفی شاعر حضرت سید شاہ محمد چندا حسینی نامی نظامی کوہ سوار کے گھر اُن کی ولا دت گو گی شریف میں ۱۹۳۰ء میں ہوئی اُن کا نام سید شاہ محمد خلیل الرحمن کو ہ سوار رکھا گیا ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جب انہوں نے حیدر آباد کا رُخ کیا تو وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے لیکن گلبرگہ اور شاہ پور سے اپنا تعلق قطع نہیں کیا ۔ گلبرگہ کے ادبی حلقے میں حضرت سلیمان خطیب ، پروفیسر عاقل علی خاں ، ڈاکٹر وہاب عندلیب ، عنایت الرحمن صدیقی ، سید فضل الرحمن شعلہ ، پروفیر محمد عبدالکریم کاظمی، پروفیسر محمد ہا شم علی ،مولوی محمد علی (سابق وزیر کرناٹک )، راہی قریشی ، ڈاکٹر ناصر بن علی اور صابر شاہ آبادی سے لے کر خمار قریشی ، حکیم شاکر ،خالد سعید اور راقم الحروف تک ان کے اعزاء و اقربا میں شامل تھے۔ یہاں کئی چھوٹے بڑے ادبی جلسوں و مشاعروں اور سمیناروں میں انہوں نے شر کت کی اور اپنی رو شن�ئ طبع سے ان محفلو ں کو منور کیا ، گلبرگہ کے غالبؔ صدی مشاعرے ، سلیمان خطیب کے اعترافِ خدمات اور جشن کے مشاعر ے کے علاوہ انہوں نے کئی مشاعروں میں شر کت کی۔ گلبرگہ میں ان کے آخری مشاعروں میں کل ہند فیض سمینار کا مشاعرہ اور انضمامِ حیدر آباد کر ناٹک کی گولڈن جوبلی کا مشاعرہ شامل ہے ۔ فیض سمینار کے انعقاد کے سلسلے میں جب میں نے حیدر آباد میں اُن سے ملاقات کی تو انہوں نے مقالہ نگاروں اور شعراء کے انتخاب میں میری رہنمائی کی۔ گلبرگہ سے ان کی محبت بڑی والہانہ تھی جس کا اظہار وہ ہندوستان بھر کے ادبا و شعرا کے سامنے کرتے رہتے تھے۔
مرحوم، امتیاز علی تاج نے جو حیدر آباد دور در شن سے وابستہ تھے ،دور درشن دہلی کے لیے ایک اسٹوڈیو مشاعر ے کا اہتمام کیا تھا جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا ۔ مشاعرے کے ٹیلی کاسٹ کے بعد حیدر آباد میں وقار صاحب سے ملا قات ہوئی تو کہنے لگے ’’میاں اکمل ،ڈاکٹر مغنی تبسم کے ساتھ میں نے یہ مشاعرہ دیکھا ، مغنی تبسم نے بلا شبہ بڑی دل لگتی بات کہی کہ وقار صاحب اس مشاعرے میں صرف ایک ہی شاعر تھا جس نے مجھے متاثر کیا ۔ میں نے پو چھا کون ؟ تو انہوں نے تمہارا نام لیا ۔ اپنا سینہ تو فخر سے پھول گیا پیارے‘‘۔ یہ ان کی محبت کی انتہا تھی ابتداء یہ تھی کہ کسی اخبار یا رسالے میں میرا کلام یا مضمون شائع ہو تا اور ان کی نظر سے گزرتا تو وہ اُسی وقت ایک پوسٹ کارڈ لکھ کر میری ہمت افزائی فرماتے۔
گلبرگہ میں ۱۷ ستمبر ۱۹۹۹ء کو انضمامِ حیدر آباد کی گولڈن جوبلی کے مشاعرے میں وقار خلیل شریک ہو ئے اس موقع پر تماپوری سر کل پر پو لیس ایکشن کے محرک سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمے کی نقاب کشائی ہو نے والی تھی ۔ اُس شام بعض تنظیموں کی جانب سے اس کے خلاف جلو س منظم کیا جانے والا تھا جس کی پو لیس نے اجازت نہیں دی ماحول میں ہلکی سی کشید گی تھی ،تماپوری سرکل سے قریب منی ودھان سودھا کے میدان میں ۱۰ بجے رات یہ مشاعرہ منعقد ہو ا۔ اس کا اہتمام کرناٹک اردو اکیڈیمی نے کیا تھا۔ اکیڈیمی کی رکن ڈاکٹر شمیم ثریا (دختر سلیمان خطیب ) کنوینر تھیں ۔ کشیدہ حالات کے سبب اُن کی خواہش پر میں نے اس کے ناظم کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔ مشاعرے کے اختتام پر مہمان شعراء کو اُن کی قیام گاہ تک پہنچا کر میں گھر لوٹا۔ صبح وقار خلیل صاحب سے ملنے کے لیے قیام گاہ پہنچا تو وہ علی الصبح حیدرآباد رو انہ ہو چکے تھے ۔ یہ گلبرگہ کا اُن کا آخری مشاعرہ تھا۔
وقار خلیل صاحب کے اولین مجموعہ کلام ’’شاعر ی‘‘ کی اشاعت پر اُن کے ہمدم دیرینہ وہاب عندلیب نے بصد اصرار اس کی رسم اجراء کا اہتمام گلبرگہ کے جواہر ہند اسکول میں ’’ ایک شام وقار خلیل کے نام ‘‘ سے کیا۔ گلبرگہ کے نوجوان خوش گلو فنکار سید طیب علی یعقوبی نے وقار صاحب کی غزلیں اور ایک نظم ’’زندگی مختصر ہے بہت ہے ‘‘ ساز پر پیش کر کے سماں باندھ دیا۔ کچھ عرصے بعد انجمن حیاتِ نو ، شا ہ پور نے جشن وقار خلیل کا اہتمام کیا اور ان کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کر کے اُن کی خدمات کا اعتراف کیا عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس وقت اُن کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں یہی کیفیت میں نے جشن خطیب میں ،سلیمان خطیب کی دیکھی تھی ۔
ایقان لٹریری اینڈ کلچرل فورم گلبرگہ کے کل ہند فیض سمینار میں انہوں نے پیش کر دہ مقالات کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا تھا مشاعرے میں دو طرحی مصرعوں پر غزلیں سنائیں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان کا کلام ہی حاصل مشاعرہ تھا ۔
گلبرگہ میں مر کزی حکومت کے ڈائرکٹوریٹ آف ویژول پبلسٹی کے دفتر میں حیدر آباد سے شجاعت علی تبادلہ ہو کر آ ئے انہوں نے عید اور راکھی بندھن پر قومی یکجہتی مشاعرہ کا اہتمام کیا جو حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی صاحب سجادہ نشین بارگاہِ بندہ نوازؒ کے زیر نگرانی صدر صوفہ حویلی میں منعقد ہوا تھا جس میں وقار صاحب بھی شریک تھے اس تقریب میں ہندو بہنوں نے شعراء حضرات کو راکھیا ں باندھی وقار صاحب نے راکھی باندھنے والی لڑکی کو نذرانہ پیش کیا اور مجھ سے کہنے لگے ۔ بہن جب راکھی باندھتی ہے تو بھائی اُسے تحفہ پیش کر تاہے یہی ہماری تہذیب ہے۔
وقار خلیل صاحب ایک بلند پایہ شاعر ، مفکر ،مبصر ، محقق اور نقاد تھے انہوں نے اُردو کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے علاوہ ساتھی ادیبوں کی ہمیشہ رہنمائی اور مدد کی ۔ ان کی شاعری اور ادبی خدمات کے جائزے کے لیے ایک علاحدہ مضمون کی ضرورت ہے ۔ ایک ریسرچ اسکالر نے اُن پر ایم فل کیا ایک اور طالب علم نے پی ایچ ڈی کی ان مقالوں کی تلخیص کے ساتھ اُن کے مبسوط انتخابِ کلام کی اشاعت ضروری ہے تاکہ ہم ایک نادرِ روز گار شخصیت کو دفتر نسیاں کے حوالے ہو نے سے بچا سکیں ۔ میں نے وقا ر خلیل صاحب جیسی صابر و شاکر اور متوکل دوسری شخصیت نہیں دیکھی وہ مصلحت پسند نہیں تھے درد مندی شفقت اور مدد کا جذبہ اُن کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ا تھا ۔ وہ زندگی کی کسی آسائش کے متمنی نہیں تھے ، دو وقت کی عزت کی روٹی اُن کے جذب�ۂ تشکر کی معراج تھی ۔وہ صرف یہی چاہتے تھے کہ تنگ دستی نہ ہو بنیادی ضرورتوں کی تکمیل آسانی سے ہو جائے اور اُن کی ذمہ داریوں کی تکمیل میں کوئی کو تاہی نہ ہو انہوں نے اپنے بچوں کی بہتر سے بہتر تعلیم و تر بیت پر توجہ دی ۔ ۱۹۹۰ء کے آس پا س اُن کی مشکلات کادور ختم ہو ا ۔اُن کے فرزندان نے انہیں حج بیت اللہ پر روانہ کیا۔ اس فریضہ کو انہوں نے نہایت خشو ع و خضوع کے ساتھ ادا کیا ۔ بارگاہِ نبوی ﷺ میں بڑے والہا نہ انداز میں حاضری دی۔ اُن کا خاندان آسو دگی کی راہ پر گامزن تھاکہ بزم ہستی سے اُن کی واپسی کا اعلان ہوا اور وہ ۲؍ نومبر ۱۹۹۹ء کو لبیک اللہم ،لبیک کہتے ہوئے مالکِ حقیقی سے جاملے۔
؂ حق مغفرت کرے عجب آزاد مر د تھا

Comments

comments