Thursday , 13 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » ادب » وقارؔ خلیل مرحوم ایک ’مرد خلیق‘
وقارؔ خلیل مرحوم ایک ’مرد خلیق‘

وقارؔ خلیل مرحوم ایک ’مرد خلیق‘

۔۔۔ سینئر صحافی غضنفر علی خان

سرزمین حیدرآباد ہمیشہ گلہائے صد رنگ کا چمن زار رہا ہے۔ ہر دور میں یہاں صاحبِ فن پیدا ہوتے رہے ہیں ن کے وجود سے یہ گلستان ادب ہمیشہ سرسبز و شاداب رہا۔ ان ہی ادبی شخصیتوں میں ایک نام وقار خلیل صاحب کا بھی ہے جو اپنی شاعری، اپنی ادب نوازی، اپنی سخن گری کے لئے نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ ساری اُردو دنیا میں مشہور ہیں۔ وقار خلیل کثیر گو نہیں تھے، لیکن ان کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جو بے حد مقبول رہے۔ ان کے کلام کی شگفتگی کلام میں ان کی اپنی ایک خاص خوشبو ہوا کرتی تھی۔ گرج دار اور بلند آواز سے وہ مشاعروں میں اپنی انفرادیت کے نقش چھوڑ جاتے تھے۔ سہل زبان اور الفاظ ان کی شاعری کو ایک نیا تنوع دے جاتے تھے۔ الفاظ کے استعمال کا ایک خاص قرینہ بھی انھیں آتا تھا اور جو لفظ وہ اپنے شعر میں استعمال کرتے تھے، وہ بقول مرزا غالب ’’گنجینہ معنی کا طلسم‘‘ ہوجایا کرتے تھے۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اس کو بڑے احترام سے استعمال کیا کرتے تھے۔ موضوعات کا تنوع بھی ان کی سخن گوئی کی خاصیت تھی۔ ان کے استعمال کئے ہوئے لفظ کا نعم البدل نہیں ہوتا تھا۔
وقار خلیل فطری شاعر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ حیدرآباد کی ادبی نشستوں میں وہ اپنا صاف ستھرا اِمیج رکھتے تھے۔ یوں تو ہر دور میں ادبی چپقلشیں ہمیشہ ہی رہی ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تاریخ ادب ان کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہے، لیکن وقار خلیل نے اس سے خود کو ہمیشہ دور رکھا۔ وہ بے حد محتاط انسان تھے۔ کبھی ازراہ مذاق بھی کوئی ایسا تبصرہ محفل میں نہیں کیا کرتے جو کسی کے لئے دِل آزاری کا موجب بن جائے۔ مزاح میں بھی وقار خلیل اعتدال کو برقرار رکھتے۔ کئی مشاعروں میں ان کے کلام کا گہرا اثر ہوا کرتا تھا۔ وہ ایک اچھے شاعر تھے، لیکن اس سے بہت زیادہ اچھے انسان تھے۔ مجسم شرافت، سنجیدہ مزاج، نہایت درجہ مہذب، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو والی بات ان پر صادق آتی ہے۔ کیونکہ ’’کہ میری نوک قلم سے کسی کا دِل نہ دُکھے‘‘ ان کا اولین اُصول تھا۔وہ مختلف اصناف میں طبع آزمائی کیا کرتے۔ غزل اور نظم دونوں میں وہ اپنا خاص تاثر چھوڑ جاتے اور لوگ کافی دنوں تک (مشاعروں کے بعد) اس پر تبصرہ کیا کرتے تھے۔ ایک اور خاص بات جس کے تذکرے کے بغیر وقار خلیل صاحب کے بارے میں بات نامکمل رہ جائے کہ وہ ان کا اخلاص تھا۔ ہر وقت تبسم چہرہ، اپنے ہر درد کی پردہ پوشی میں وہ یکتا تھے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ کبھی اپنی ضرورت کا اظہار نہیں کرتے۔ کبھی اپنا دستِ طالب دراز نہیں کرتے۔ ان کے اسی طرز عمل نے ان میں ایسا نکھار پیدا کردیا تھا کہ ان کے قریبی دوست احباب کو تک ان کی تکالیف کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ چہرے بشرے سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس سے ملاقات کے لئے انھوں نے کتنا فاصلہ پیدل یا آر ٹی سی بس سے طئے کیا۔ ان صعوبتوں کو برداشت کرنے کے وہ عادی ہوگئے تھے۔ زندگی بھر لوگ آسودگی کی تلاش میں گزار دیتے ہیں، لیکن وقار خلیل کو نہ صرف کبھی آسودہ حالی کی تلاش رہی، نہ کبھی اس کے پیچھے دوڑے۔ ان کی خودداری ان کا سب سے بڑا وصف خاص تھا۔ ساری زندگی کشمکش کرتے رہے، لیکن کبھی ستم گر زندگی سے تنگ آنے کی شکایت نہیں کی۔ شاید انھیں زندگی کی تگ و دو ہی سے پیار تھا۔ کئی احباب جو ان سے قریب تھے، وہ کبھی بھی یہ جان نہ سکے کہ انھیں کیا ضرورت لاحق ہے اور وہ کن حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ دراصل انھیں خود کو باوقار بنانے کا فن آتا تھا۔ زیر نظر میگزین ’’وقار ہند‘‘ ان ہی کی یاد میں ان کے صاحبزادوں کا ایک طرح سے خراج ہے۔ حالانکہ آج کل اُردو زبان میں جریدہ، میگزین یا روزنامہ شائع کرنا کسی سنگ گراں سے پانی حاصل کرنے کے مماثل ہے۔ راقم خود بھی اس ادبی کاوش سے بڑے انہماک کے ساتھ وابستہ رہا۔ میں نے قریب سے دیکھا کہ کس قدر اپنے شفیق والد جناب وقار خلیل کی یاد تازہ رکھنے کے لئے یہ میگزین نکالا جارہا ہے۔ میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ’’اللہ کرے مرحل�ۂ شوق نہ ہو کم‘‘۔ یہ اشاعت اولاد کی اپنے والد کے لئے بے پناہ محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ وقار خلیل ادبی اداروں، اخبارات سے وابستہ رہے۔ ادارہ ادبیات اُردو، روزنامہ ’سیاست‘ کا اس سلسلہ میں ذکر کرنا ضروری ہے۔ آخر وقت تک بھی ان کی وابستگی ان اداروں سے رہی۔ ان کی طبیعت میں کسی بھی ادارہ خاص طور پر روزنامہ ’سیاست‘ سے یک گنا شغف تھا، ایک وفاداری تھی، ایک وضع داری تھی جس کو زندگی بھر وقار خلیل صاحب نے دِل و جان سے برقرار رکھا۔ ’سیاست‘ کے ایڈیٹر جناب عابد علی خان مرحوم اور اخبار کے نگہبان جناب محبوب حسین جگر صاحب سے ان کی محبت قابل تعریف تھی اور اسی طرح ان بزرگوں نے بھی وقار خلیل صاحب کی ہر وقت پذیرائی کی۔ ان دونوں کے بعد موجودہ ایڈیٹر جناب زاہد علی خان اور نیوز ایڈیٹر عامر علی خان نے بھی ان شریفانہ قدروں کو برقرار رکھا۔ ادارہ ادبیات اُردو نے جو حیدرآباد کی ادبی دُنیا کی شناخت ہے، وقار خلیل صاحب کی خدمات کی ہمیشہ ستائش کی۔ وقار خلیل صاحب اُردو زبان کی شائستگی اور اس کی مخصوص تہذیب کے نمائندہ تھے۔

Comments

comments