Thursday , 15 November 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » مسلم دنیا » تاجکستان دولت اسلامیہ کے نشانے پر؟ ملک میں بغاوت کی کوشش ناکام!
تاجکستان دولت اسلامیہ کے نشانے پر؟ ملک میں بغاوت کی کوشش ناکام!

تاجکستان دولت اسلامیہ کے نشانے پر؟ ملک میں بغاوت کی کوشش ناکام!

سوویت یونین سے آزاد ہونے والے پانچ ممالک پر مشتمل خطہ کو وسطیٰ ایشیاء کہا جاتاہے۔ ان ممالک میں قازقستان (آبادی 17 ملین)‘ کرغزستان (آبادی 5.7ملین) ‘ تاجکستان (آبادی 8ملین)‘ ترکمنستان (آبادی 5.2 ملین) ‘ از بکستان (آبادی 30 ملین) شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی افغانستان کو بھی ان ممالک کی فہرست شامل کرلیاجاتاہے۔ ان ممالک کی 80 تا 90 فی صد آبادی مسلمان ہیں اور ان میں ترک نسل کے افراد کی اکثریت ہے۔ یہاں کی پہاڑ‘ ندیاں‘ سرسبز وشاداب وادیاں ہیں یہاں کے رہنے والوں کی مہمان نوازی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ 15ویں صدی میں یورپ اور چین کے درمیان تجارت کا اہم راستہ کہلانے والی شاہراہ ریشم ان ہی علاقوں سے گذرتی ہے۔ یہ تمام ممالک 1920 ء سے 1990 ء تک روس کے قبضہ میں رہے اور جب سوویت یونین بکھر گیا تو ان ممالک کو بھی آزادی ملی لیکن روسی کلچر کی چھاپ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے اکثر اسلام پسند اور اعتدال پسندوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس کسی ملک میں اسلام پرستوں کی کسی سیاسی جماعت کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے تو فوراً ہی اس جماعت کو کچلنے کیلئے برسر اقتدار پارٹی ان پر دہشت گردی کے الزامات لگادیتی ہے اس طرح ان ممالک میں پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ دنوں ازبکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایک مسلح گروپ نے گشت پر مامور پولیس فورس پر گھات لگاکر حملہ کردیا جس میں 4 پولیس جوان مارے گئے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ دارالحکومت کی ایک نواحی بستی وحدت میں پیش آیا۔ یہاں بھی 4پولیں جوان مارے گئے تاہم یہاں سیکوریٹی فورس اور مسلح گروپ میں جو جھڑپ ہوئی اس میں 9 حملہ آور بھی مارے گئے اور 6 کو زندہ گرفتار کرلیا گیا۔ تاجک سیکوریٹی عہدیداروں نے اس حملے کی ذمہ داری سابق وزیر‘ نائب وزیر دفاع عبدالحلیم نذر زادہ پر عائد کی ہے جن کو ان حملوں سے چند دن پہلے ہی عہدے سے سبکدوش کردیا گیاتھا۔ تاجک حکومت کا کہنا ہے کہ نائب وزیر دفاع کو ان کے جرائم کی وجہ سے عہدے سے برطرف کیا گیاہے۔ عبدالحلیم نذر زادہ نے 1992ء سے 1997ء تک لڑی گئی خانہ جنگی میں متحدہ تاجک اپوزیشن کا ساتھ دیاتھا۔ انہوں نے ایک اسلامک پارٹی بھی قائم کی تھی جس کے صدر دفتر کو اس کی دارالحکومت میں مہربند کردیا گیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہیکہ اس پارٹی کو ختم کرنے کے بعد گزشتہ 4 میعادوں سے ملک کے صدر منتخب ہوتے آرہے امام علی رحمانوف کو پارلیمنٹ میں کسی اپوزیشن کا سامنا نہیں رہا ہے۔ حکومت نے اس پارٹی پر بھی شام اور عراق پر قابض دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیاہے۔
تاجکستان وسطی ایشیاء کا وہ ملک ہے جس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان‘ مغرب میں ازبکستان‘ شمال میں کرغزستان اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ واحد ملک ہے جہاں روس اور امریکہ دونوں کے فوجی اڈے قائم ہیں۔ یہ علاقہ تاریخ میں مختلف سلطنتوں کے تحت رہا۔ ساتویں صدی میں اسلام یہاں داخل ہوا۔ عباسی دور کے آخر میں جب سلطنت اسلامیہ مختلف حصوں میں بٹ گئی تو سامانی سلطنت یہاں وجود میں آئی اسی کے دور میں سمرقند اور بخارا آباد ہوئے جو تاجکوں کے ثقافتی مراکز بنے‘ بعد میں منگولوں نے عارضی طورپر اس پر قبضہ کرلیا۔ سلطنت روس کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ امارت بخارا میں شامل تھا۔ 1865ء میں روسی سلطنت نے قبضہ کرلیا۔ 1917 ء میں سلطنت کے زوال کے بعد وسط ایشیاء میں بسماچی تحریک شروع ہوگئی جنہوں نے روسی افواج سے زبردست مقابلہ کیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کی اس بغاوت کو کچل کر ان علاقوں کو سوویت یونین میں شامل کرلیا گیا۔ اگرچہ یہ علاقے خود مختار تھے لیکن سوویت روس کے ماتحت تھے۔ 1970ء کی دہائی میں مختلف نظریات کی حامل فقیہ اسلامی تحریکیں یہاں چلتی رہیں لیکن ان کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔ اگرچہ 1980ء کی دہائی کے آخر میں تاجکوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کیا تھا لیکن 1990ء میں سوویت یونین ہی ٹوٹ کر بکھر گیا اور اس طرح تاجکستان کو آزادی مل گئی۔
آزادی کے فوری بعد ملک بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے۔ مختلف قبائل ایک دوسرے سے مقابلہ آرا ہوگئے۔ ان حالات کے درمیان موجودہ صدر امام علی رحمانوف جو ایک زمیندار اور کسان ہیں برسر اقتدار آگئے۔ 1997ء میں رحمانوف نے اسلام پسندوں سے معاہدہ کیا کہ ان کو اقتدار میں 30 فیصد حصہ دیا جائے گا اس طرح ملک میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوگیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امام علی رحمانوف 1999ء میں ہوئے انتخابات میں پھر صدر منتخب ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور 2013ء میں چوتھی مرتبہ صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
امام علی رحمانوف پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی نظریات اور اس کی حمایت کرنے والوں کو کچل رہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ کے بعد انہوں نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کی داڑھیاں زبردستی منڈھوادیں۔ برطانوی اخبار دی میل کی اطلاع کے مطابق پولیس داڑھی رکھنے والے نوجوانوں کو دیکھتے ہی پکڑ کر ان کو اصلاح خانے لے جاکر ان کی داڑھیاں صاف کرواہی ہے۔ مذہبی اعتبار سے کٹر سنی رحمانوف خواتین کے اسکارف اور مذہبی لباس کے بھی سخت خلاف بتائے جاتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی کے کانوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے خواتین سے کہا تھا کہ جب ہمارے ملک کا لباس اتنا خوبصورت ہے تو دوسروں کا لباس پہننے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر آپ کو دوسروں کا لباس اتنا ہی پسند ہے تو آپ کو میں ان ممالک میں بھیج دوں گا۔ یہ چند واقعات رحمانوف کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جب کہ انہوں نے تاجکستان کو ایک ماڈرن ملک بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ یہاں مسلمانوں کو مذہبی رسومات کی برسر عام ادائیگی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے حامل اس علاقہ پر اہل مغرب کی بہت دنوں سے نظر ہے۔ اس لئے وہ اس ملک میں جہاں اسلام پسندوں کی یہ حالت ہے کہ (مثل مشہور ہے کہ) اگر کسی کو اسلام کو اصل حالت میں دیکھنا ہے تو وہ گرگان توبے چلا جائے۔ اسلامی تحریکوں کو پھلنے پھولنے سے روکنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وسطی ایشیا کے کسی بھی ملک میں سب سے پہلے برطانیہ اور امریکہ نے کسی ملک میں اپنا سفارتخانہ قائم کیا تھا تووہ تاجکستان ہی تھا جو کہ رقبہ‘ وسائل‘ آمدنی‘ آبادی کے لحاظ سے دیگر ممالک سے چھوٹا ہے۔
حالیہ واقعات کو حکومت‘ صدر امام علی رحمانوف کیلئے بغاوت قرار دیتی ہے جب کہ ان کے خلاف 1997 اور 1998 میں بھی بغاوتیں ہوچکی ہیں۔ اس وقت بغاوت کاجو الزام سابقہ نائب وزیر دفاع جنرل نذر زادہ پر لگایا جارہا ہے وہ 1990ء کی دہائی میں تاجکستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران وہ حکومت کے خلاف لڑنے والی متحدہ تاجک اپوزیشن کے رکن تھے۔ انہوں نے بحالی اسلام پارٹی قائم کی تھی۔ 1997ء میں معاہدے کے بعد ان کو کابینہ میں شامل کرلیا گیاتھاتاہم گزشتہ ہفتہ ان کی پارٹی کا تعلق دولت اسلامیہ سے قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگادی گئی۔ حالیہ حملوں کے بعد ملک کے سلامتی دستوں نے ان کے حامیوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے۔ ابھی تک 150 سے زیادہ افراد گرفتار کرلیئے گئے ہیں جب کہ تادم تحریر ملک کے مختلف مقامات کی سیکوریٹی فورسس کے دھاوے جاری تھے۔ ان دھاوؤں میں کچھ افراد کو ہلاک بھی کیا گیاہے۔
جہاں تک تاجکستان پر داعش یا دولت اسلامیہ کے اثرات کا سوال ہے خود آئی ایس ایس کے دعویٰ کے مطابق تاجکستان کے 200 جنگجو شام اور عراق میں مختلف محاذوں پر لڑ رہے ہیں اور 500 سے زیادہ شہید بھی ہوچکے ہیں۔ تاجک سیکوریٹی عہدیداروں نے داعش میں شامل ہونے کیلئے ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کی تعداد 600 کے قریب بتائی ہے۔ حکومت کی حیرانی کی اس وقت انتہا نہیں رہی جب تاجکستان کی اسپیشل فورس کے سربراہ گل مراد کلیموف نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرلی اور اعلان کیا کہ انہوں نے حکومت کے مخالف اسلام اقدامات کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہے۔ گل مراد کئی ہفتوں سے لاپتہ تھے۔ تاہم کچھ ماہ پہلے ان کا ویڈیو منظر عام پر آگیا جس میں دولت اسلامیہ کا سیاہ لباس پہنے گل مراد نے ملک میں پولیس کے ظلم و جبر کے علاوہ روس میں تاجک مزدوروں کے ساتھ روا سلوک پر بھی برہمی ظاہر کی ہے۔ ان حالات نے اسلام بیزار صدر امام علی رحمانوف کو اور بھی برہم کردیا ہے۔ نوجوانوں کی داڑھی منڈھوانے کے حکم دینے کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ایسے تمام دینی مدارس کے خلاف کاروائی کی جائے جو رجسٹر نہیں ہیں۔ حکومت نے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے جو یہ طے کرے گی کہ ملک کو کتنے مذہبی لیڈروں یعنی علماء کی ضرورت ہے اور پھر ان کو مدارس میں تعلیم دینے کیلئے بھیجے گی۔

Comments

comments