Thursday , 15 November 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » مشرقی وسطی » انسانیت ساحل پر۔۔۔ پناہ گزینوں کی بے بسی! عرب ممالک کی بے حِسی!!
انسانیت ساحل پر۔۔۔ پناہ گزینوں کی بے بسی! عرب ممالک کی بے حِسی!!

انسانیت ساحل پر۔۔۔ پناہ گزینوں کی بے بسی! عرب ممالک کی بے حِسی!!

دنیائے عرب میں پہلی جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی نقل مکانی نے ساری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ 2011ء سے اب تک عرب بہار کے نام سے انقلاب‘ تیونس‘ مصر‘ لیبیا اور اب شام و یمن کی جنگوں‘ خانہ جنگیوں نے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو نہ صرف تباہ و برباد کردیا ہے بلکہ ان کو بے آسرا‘ بے یار و مددگار بناکر چھوڑ دیا ہے۔ شام میں طویل خانہ جنگی نے ملک کی 3کروڑ سے بھی زیادہ آبادی کو نہ صرف گھر بار بلکہ ملک چھوڑنے پر مجبور کردیاہے۔ شام کے سرحدی ممالک اردن‘ ترکی‘ لبنان‘ عراق جتنے پناہ گزینوں کو پناہ دے سکتے تھے دے چکے اب یہاں بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ مجبور شامی اور دیگر علاقوں کے باشندوں نے انسانی اسمگلروں کے سہارے یوروپ کا رخ کرنا شروع کیا تاکہ وہاں پناہ حاصل کرکے اپنی اور اپنے بچوں کی جان بچاسکیں۔ شام کے سرحدی ممالک میں لاکھوں پناہ گزینوں کی وجہ سے کیمپوں کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ مزید پناہ گزینوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے ان کو وقت پر غذا فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ترکی میں سب سے زیادہ 20 لاکھ شامی پناہ گزین ہیں جب کہ عراق میں ڈھائی لاکھ‘ لبنان میں 12لاکھ‘ اردن میں ساڑھے 6لاکھ ‘ مصر میں ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں جب کہ دولت مند ترین سمجھے جانے والے سعودی عرب ‘ کویت‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات میں ایک بھی باشندے کو پناہ نہیں دی گئی ہے۔
ان حالات میں تباہ حال پناہ گزینوں نے بحیرہ روم پار کرکے یوروپ میں داخل ہونے کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگادی ہیں۔ یہی نہیں وہ مختلف وسائل کے ذریعہ ترکی کی سرحد سے بھی یوروپ میں داخل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے عیسائی اکثریتی یوروپی ممالک میں مسلمان پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر تشویش کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے ان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ خاص طورپر آسٹریا‘ ہنگری اور مقدونیا کی حکومتوں نے جو ترکی کی سرحد سے قریب ہیں پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند کردیئے۔ انہوں نے سرحدوں پر خاردار تاروں کا جال بچھادیا اور سیکوریٹی جوانوں کو تعینات کردیا لیکن پناہ گزینوں کا یہ سیلاب روکے نہیں رک رہا تھا۔ لوگ جو مصائب کا سامنا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے پناہ کے لئے کسی بھی حد سے گذرنے کے لئے تیار تھے۔ پھر انہوں نے اپنے بچوں اور خواتین کے ساتھ خاردار تاروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی سرحدیں عبور کرنا شروع کردیا۔ اس کوشش میں کئی لوگ خصوصاً بچے‘ خواتین لہو لہان بھی ہوئے۔ پناہ گزینوں کو روکنے کے لئے ان ممالک نے مزید سخت قدم اٹھانا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بار بار اپیلوں کو بھی نظرانداز کیا جانے لگا۔ ہزاروں پناہ گزین جو انسانی اسمگلروں کی جانب سے گنجائش سے زیادہ کشتیوں میں سوار کرکے لائے جارہے تھے بھوکے فاقے اجنبی سرزمین پربھٹک رہے تھے۔ پناہ گزینوں کو دیکھ کر یوروپی ممالک نے اس خوف سے سرحدی علاقہ کے لئے ٹرین سرویس بند کردی تھیں کہ کہیں یہ لوگ ان میں سوار ہوکر ملک کے اندرونی شہروں تک نہ پہنچ جائیں۔
ان حالات میں کئی پناہ گزینوں نے پیدل ہی سفر شروع کیا۔ اپنے بچوں کو کندھوں پر بٹھائے خواتین کے ہاتھ تھامے کئی خاندان کھیتوں اور جنگلوں کے راستوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کی ‘ کسی نہ کسی مقام پر ان کو پکڑلیا گیا۔ دردناک صورتحال کا اندازہ اس وقت ہوا جب ہنگری کے صدر مقام بڈاپسٹ کی ایک سڑک پر چاروں طرف سے بند ایک لاوارث ٹرک کو کھڑا دیکھ کر مقامی افراد نے پولیس کو طلب کرلیا جب پولیس نے ٹرک کا پچھلا دروازہ کھولا تو پولیس کا بھی دل کانپ گیا۔ اندر 72پناہ گزینو ں کی نعشیں‘ جانوروں کی طرح ایک دوسرے پر پڑی ہوئی تھیں۔ ان میں چند خواتین اور بچے بھی تھے۔ یہ لوگ سانس لینے کے لئے ہوا نہ ملنے اور دم گھٹنے کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے گئے تھے اور ان کے چند پیسوں کے عوض اس ڈبہ نما ٹرک میں منتقل کرنے والے انسانی اسمگلرس اسی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹرک کسی سرحدی علاقہ سے دارالحکومت کے لئے روانہ ہوا تھا۔ سفر کے دوران ہر 5 یا 6 گھنٹے بعد ٹرک کو کسی سنسان مقام پر کھڑا کرکے دروازہ کھولا جاتا تاکہ اندر موجود پناہ گزین سانس لے سکیں لیکن دارالحکومت کے اطراف سیکوریٹی کی وجہ سے ٹرک کا دروازہ نہ کھولا جاسکا اور پناہ گزینوں کی دم گھٹنے سے موت ہوگئی۔ ان واقعات کے بعد یوروپی ملکوں نے پناہ گزینوں پر اور بھی سختیاں شروع کردیں۔ ان کو سرحدی مقامات پر ہی روک کر بھیڑ بکریوں کی طرح خاردار تاروں کے درمیان قید کردیا گیا۔ ریلوے اسٹیشنس ان کی جائے پناہ بن گئے جہاں کھانے کے نام پر کچھ نہیں ہوتا تھا‘ صرف پینے کے لئے بوتلوں سے پانی دیا جاتا تھا۔ پناہ گزین جو ہزاروں کلو میٹر دور سے کسی نہ کسی طرح اپنی بچائی رقم کو خرچ کرکے یہاں تک پہنچے تھے قیدی بن کر رہ گئے۔ ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا۔ پناہ کی آخری امید بھی دم توڑنے لگی۔
پھر وہ ہوا جس نے ساری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔ ہر آنکھ کو نم کردیا۔ ان ممالک کے حکمرانو ں کے دل جنھوں نے پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند کردیئے تھے کانپ اٹھے ۔یہ وہ واقعہ تھا جس کو دنیا کے ہر شخص نے اپنے فیس بک‘ واٹس اپ‘ ٹوئیٹر پر دیکھا اور اس کو شیئر کیا۔ دنیا کے ہراخبار نے اس تصویر کونمایاں شائع کیا اور کہا جانے لگا کہ اس صدی میں شاید ہی ایساکوئی واقعہ ہوگا جس نے ساری دنیا کو پناہ گزینوں کی حالت زار سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تصویر تھی شام کے سرحدی علاقہ کوبانی کے رہنے والے دوسالہ ایلان کردی کی جس کے باپ نے داعش اور کردوں کے درمیان لڑائی کے دوران جب اپنے پڑوسی کے مکان کو اپنی آنکھوں کے سامنے ملبے کا ڈھیر ہوتے اور اس کے مکینوں کو اس ملبہ میں زندہ دفن ہوتے دیکھا تو جان بچانے کے لئے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ پناہ کی تلاش میں نکلنے کا قصد کیا۔ ایک ترک اسکالر نے عبداللہ کردی اور اس کے افراد خاندان کو دوسرے شامی باشندوں کے ساتھ یوروپ لے جانے کا جھانسہ دے کر ایک ایسی کشتی میں سوار کرایا جس میں گنجائش سے زیادہ لوگ تھے۔ جب کھلے سمندر میں جانے کے بعد کشتی تموج اور اونچی لہروں کی وجہ سے ہچکولے کھانے لگی تو یہ اسمگلر مسافروں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کشتی سے چھلانگ لگاکر فرار ہوگیا۔ کشتی کو لگنے والے جھٹکوں سے ننھا ایلان ‘عبداللہ کے ہاتھوں سے پھسل کر پانی میں جاگرا جس کو بچانے کی کوشش میں عبداللہ اپنی بیوی اور دوسرے بچے سے بھی محروم ہوگئے۔ اس وقت تک کشتی پانی میں الٹ چکی تھی اور مسافرین ڈوب رہے تھے۔ عبداللہ کردی کسی طرح 3 گھنٹوں تک الٹی ہوئی کشتی کو پکڑے رہا۔ پھر ترک کوسٹ گارڈس کا عملہ وہاں پہنچا اور انھوں نے عبداللہ کو بچالیا۔ اس وقت تک کئی نعشیں سمندر میں بہہ چکی تھیں۔ ننھے ایلان کی نعش بھی لہروں پر بہتی ہوئی ترکی کے ساحل پر پہنچی۔ سمندر کی لہریں بے رحم ہوتی ہیں لیکن ان لہروں نے ننھے ایلان کو اس طرح ساحل کی ریت پر چھوڑ ڈالا جیسے کہ وہ انسانیت سے محبت رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ یورپ کے ممالک نے بھی اس واقعہ کے بعد پناہ گزینوں پر اپنے دروازے کھول دیئے۔ اس واقعہ تک تقریباً ساڑھے 3لاکھ شاہی باشندے‘ مقدونیا‘ ہنگری‘ آسٹریا کی سرحدوں پر کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے تھے۔ تاہم ان کو جرمنی‘ ہنگری اور دوسرے ممالک نے قبول کرنے کا اعلان کردیا۔
شامی خاندان پر گذرنے والی اس بپتانے کئی لوگوں کے قلوب کو دکھی کردیا۔ ایلان کردی کی سمندر کے کنارے پڑی ہوئی اس نعش کی تصویر دیکھ کر ایک مصری ارب پتی نجیب ساویرس کا دل بھر آیا۔ انھوں نے شامی پناہ گزینوں کی عارضی باز آباد کاری کے لئے جزیدہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ انھوں نے اٹلی اور یونان کی حکومتوں سے ان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی اپیل کی۔ ترکی میں ایک نوبیاہتا جوڑے نے اپنے ولیمہ کی رقم پناہ گزینوں کو کھانے کھلانے کے لئے خیرات کردی اور ترکی کے جنوب وسطی شہر کیلس کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم 4ہزار شامیوں کے لئے دعوت کا اہتمام کیا۔ اس طرح دنیا کے کونے کونے سے لوگوں نے ان پناہ گزینوں کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا اعلان کیا لیکن اگر کسی کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگی تو وہ عرب کے دولت مند حکمراں تھے جو خود کو حرمین شریفین کا خادم کہتے ہیں جن کی دولت اور امارات کا چرچا ساری دنیا کرتی ہے جن کی کرنسی کی قدر ڈالر اور یورو سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی سرزمین تیل کی دولت ابل رہی ہے اور حج کے نام پر اربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی اللہ کے مہمانوں سے جو حاصل کررہے ہیں افسوس کہ ان کے ملک میں ایک بھی شامی باشندے کو پناہ نہیں دی گئی ہے۔
اسی لئے جرمنی چانسلر انجیلا مرکل نے طنزیہ لیکن صحیح کہا ہے کہ کعبہ تو اس طرف ہے پھر شامی پناہ گزین یورپ کی طرف کیوں آرہے ہیں۔ یہ یقیناًامت مسلمہ کے لئے ایک المیہ ہے کہ ہمارے لاکھوں بھائی‘ بہن ان کے روتے بلکتے بچے غیروں کے رحم و کرم پر ملک در ملک بھٹک رہے ہیں اور ہمارے اپنے جن سے امت مسلمہ نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں غیروں کی طرح منہ پھیر کر کھڑے ہیں اور شیعہ سنی کی لڑائی میں الجھ کر شام کی خانہ جنگی کو غیرضروری طول دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جرمنی میں ایک لاکھ ‘ یونان میں 88ہزار‘ سویڈن میں 40ہزار‘ آسٹریا میں 18ہزار‘ برطانیہ میں 5ہزار ( اس واقعہ کے بعد برطانیہ نے سالانہ 20ہزار افراد کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے) اٹلی میں 4ہزار‘ بلغاریہ میں 10ہزار‘ ہنگری میں ایک لاکھ سے زیادہ پناہ گزین پہنچ چکے ہیں۔
شامی پناہ گزینوں پر یوروپ نے دروازے تو کھول دیئے لیکن میڈیا کی اطلاعات نے ایک نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ عیسائیوں کے سربراہ پوپ فرانسس نے یوروپی ملکوں میں رہنے والے عیسائیوں سے اپیل کی ہے کہ ہر عیسائی خاندان کم سے کم ایک پناہ گزین خاندان کی ذمہ داری لے لے۔ یورپ کو ایک عرصہ سے عیسائی براعظم کی حیثیت حاصل رہی ہے جہاں سے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف 3صلیبی جنگیں لڑی گئیں اور پہلی جنگ عظیم چھیڑنے کا مقصد بھی دنیا کے تین براعظموں میں پہلی سلطنت اسلامیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا۔ لندن کے مشہور اخبارات نے جو اطلاعات شائع کی ہیں ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یوروپی ملکوں کی جانب سے اچانک پناہ گزینوں پر مہربانی کس گہری سازش یا منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں پناہ گزینوں نے عیسائی خاندانوں‘ مشنری اداروں کی جانب سے پناہ اور باز آبادکاری کے عوض اپنا مذہب فروخت کردیا ہے۔ پوپ نے عیسائیوں میں دوسری شادی کو عام کرنے کے لئے اصلاحات کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لندن کے اخبار ڈیلی میل نے اطلاع دی ہے کہ جرمنی میں سینکڑوں پناہ گزینوں نے اس امید میں گرجوں میں جاکر اپنا مذہب تبدیل کرلیا کہ ان کو اس سے رہنے کے لئے ٹھکانہ اور روزگار ملے گا۔ ان میں ایرانیوں اور افغانیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہاں یہ بات اس لئے بھی قابل ذکرہے کہ یوروپ کا رخ کرنے والوں میں صرف شامی باشندے ہی نہیں ہیں۔ ان میں لیبیا اور افریقہ کے شورش زدہ ممالک کے علاوہ افغانستان‘ کردستان اور دیگر ممالک کے افراد بھی شامل ہیں۔ جرمنی نے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 6ارب یورو خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اب مسلمان نہیں عیسائی ہوچکے ہیں کیونکہ اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے۔ اس لئے یہ پناہ گزین گھبراتے ہیں کہ ان کی اصلیت کا پتہ چل گیا تو ان کے ممالک ان کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے جہاں صرف موت ان کی منتظر ہوگی۔

Comments

comments