Thursday , 15 November 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » مشرقی وسطی » اسرائیل اور مصر سے محصور غزہ رہائش کے قابل نہ رہے گا؟
اسرائیل اور مصر سے محصور غزہ رہائش کے قابل نہ رہے گا؟

اسرائیل اور مصر سے محصور غزہ رہائش کے قابل نہ رہے گا؟

یورپ سے نکل کرارض مقدس پر قبضہ کرنے والے یہودیوں نے فلسطینیوں پر عرصہ حیات اتنا تنگ کردیا ہے کہ اب بچے کچے علاقے بھی ان کی رہائش کے قابل نہیں رہ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین جنگوں اور 8 سال سے اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی حالت اتنی ابتر ہوچکی ہے کہ اگر حالات میں سدھار نہ لایا گیا توآئندہ 5 برسوں میں یعنی 2020تک غزہ رہائش کے قابل نہیں رہے گا۔ فلسطینی علاقے میں معاشی حالات کو بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان گذشتہ سال ہوئی جنگ کے نتیجہ میں نصف ملین فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ جنگ کی تباہی کے سبب وہاں ملازمتوں کے مواقع ختم ہوتے جارہے ہیں۔ گذشتہ چھ برسوں کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان 3 جنگیں ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے غزہ کا متوسط طبقہ تقریباً ختم ہوچکا ہے اور پوری کی پوری آبادی یا تو غربت میں چلی گئی ہے یا پھر اقوام متحدہ کی امداد پر گزارا کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ غزہ میں بنیادی گھریلو پیداوار 15فیصد کم ہوگئی‘ بے روزگاری کی شرح 44 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ 72 فیصد خاندانوں کے پاس خوراک کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ان حالات میں رپورٹ کے مطابق غزہ کے رہنے والوں کے پاس تعمیر نو کیلئے نہ تو کوئی وسائل ہیں اور نہ ہی باہر سے تعمیر نو کی کوئی اشیاء آنے کی امید ہے۔
غزہ پٹی جس کو دنیا کی سب سے بڑی کھلے آسمان والی جیل تصور کیا جاتا ہے صرف 362 مربع کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے مشرق میں بحیرہ روم ہے۔ جنوب مغرب میں مصر کی سرحد ہے۔ اس ٹکڑے میں تقریباً 18 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ اس پٹی میں 8 پناہ گزین کیمپ ہیں جہاں اسرائیل کی بربریت اورجنگوں سے تباہ حال ہوکر بھاگ آنے والے افراد پناہ لیتے ہیں۔ ان کیمپوں میں الشاطی کیمپ میں 87 ہزار‘ البریج کیمپ میں 34 ہزار‘ دائیرابلاح میں 21ہزار جبلیہ میں ایک لاکھ 10 ہزار‘ خان یونس میں 72 ہزار‘ مغازی میں 24 ہزار‘ نصیرت میں 66 ہزار‘ اناح میں ایک لاکھ 4ہزار فلسطینی رہتے ہیں۔ غزہ میں 2007ء میں حماس کی حکومت منتخب ہوئی تھی تب سے اسرائیل اور مصر نے اس پٹی کی معاشی ناکہ بندی کررکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی محاصرہ ہٹانے سے ان کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ اگرچہ یوروپی اور دیگر ممالک اس ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہیں لیکن اسرائیل کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ حماس کی دہشت گردی (اسرائیل فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دیتا ہے) میں اضافہ ہوگا۔ اسرائیل نے 1947ء اور 1967ء کی عرب۔اسرائیل جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا، ان میں سے بہت کم علاقے اس نے واپس کئے ہیں۔ اگر چہ 1947ء میں 40ہزار یہودیوں کو فلسطین میں بسایا گیا تھا، آج ان کی آبادی 8,23,830 ہوگئی ہے اور فلسطین کے22 ہزار مربع کلو میٹر رقبہ پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ برسوں کے محاصرے کی وجہ سے غذائی اشیاء ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت سے تنگ آکر غزہ والوں نے سرنگوں کے ذریعہ راستہ بناتے ہوئے مصر میں داخل ہوکر ضرورت زندگی کا سامان مہیا کرنے کی کوشش کی لیکن اسرائیل اور مصر نے ان سرنگوں کو بھی تباہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چاروں طرف فوج سے گھرے ہوئے غزہ کے مکینوں کیلئے زیر زمین راستوں کا استعمال کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس طرح غزہ اور مصر کے درمیان سرنگوں کا جال بنا ہوا ہے۔ اگرچہ غزہ۔مصر کے درمیان اناح سرحد کو قاہرہ کی حکومت کھولنے سے انکار کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں فلسطینیوں کے مستقبل کے تعلق سے خصوصاً غزہ والوں کے بارے میں جس مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے، وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ اگرچہ 2007ء سے اب تک اسرائیل غزہ پر 3مرتبہ حملہ آور ہوا تاہم 2014ء کی جنگ کو اب تک کی سب سے خونریز لڑائی تصور کیا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار یعنی اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائی میں 2200 نہتے‘ بے قصور فلسطینی شہری شہید ہوئے جبکہ اسرائیل کے 67 سپاہی اور صرف 6 شہری مارے گئے۔ غزہ کا قصور یہ تھا کہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر راکٹ برسائے تھے، لیکن اس کو بہانہ بناتے ہوئے اسرائیل نے پورے غزہ کو ہی تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ بین الاقوامی برادری یہودیوں کی اس جارحیت کا تماشا دیکھتی رہ گئی اور ان میں افسوس کہ مسلم حکمران بھی شامل تھے۔ ایک اندازے کے مطابق 50 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں ایک لاکھ 70 ہزار مکان تباہ ہوئے(جن میں مساجد‘ اسکول‘ ہسپتالوں کی تعداد شامل نہیں ہے) 360 فیکٹریوں کو نقصان پہنچا اور ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہوگئی۔ اسرائیل نے غزہ میں ایسے میٹریل کے داخلے پر پابندی لگائی جن کا دوہرا استعمال ہوسکتا ہے یعنی ان کو کسی تخریب کاری کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر غزہ میں سمنٹ لانے پر پابندی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجو اس کا استعمال سرنگیں بنانے میں کرتے ہیں۔ سوال یہ ہیکہ اگر غزہ میں سمنٹ نہیں آئے گی تو تباہ حال عمارتوں‘ فیکٹریوں‘ذخائر آب کی تعمیر کس طرح ہوگی۔ اقوام متحدہ کے دباؤ کے بعد اگر چہ اسرائیل نے غزہ کی تباہ حال بستیوں کی تعمیر نو کیلئے سمنٹ اور لوہے کو کیرم شلوم کی سرحد سے لانے کی اجازت دی لیکن غزہ کی تعمیر نو کیلئے عطیہ دینے کا وعدہ کرنے والے ممالک کی جانب سے رقومات کے حصول میں تاخیر یا سست روی نے غزہ کی تعمیر کو بھی سست کردیا ہے حماس اور فلسطینی اتھاریٹی کے درمیان حالیہ جو نااتفاقی پیدا ہوئی ہے وہ بھی غزہ پٹی کی تعمیر نو میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری حماس کو فلسطینیوں کا نمائندہ تصور نہیں کرتی‘ اس کے پاس فلسطینی اتھاریٹی ہی حقیقی نمائندہ ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی ادارے اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کیلئے مسلسل اپیل کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں انفراسٹرکچر اور مکانات کی تعمیر نو کیلئے ساز و سامان لانے کا صرف یہی ایک راستہ ہے جس سے مقامی معیشت بحال ہوگی۔ اقوام متحدہ کا کہنا کہ غزہ اس وقت بھی رہائش کے قابل نہیں ہے اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد مکانات، اسکولس، دواخانہ سب کچھ تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔سڑکیں ، انفراسٹکچر خستہ حال ہے اس لئے انکو کارآمد بنانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر آئندہ پانچ برسوں میں یہ علاقہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہ جائے گا۔اکٹوبر2014میں مصر نے غزہ کی تعمیر نو کے لئے عطیہ دہندگان کا ایک اجلاس طلب کیا تھا اس اجلاس میں ناروے نے 5.4ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا اسرائیل کی جنگ کے بعد غزہ میں نقصان کا تخمینہ ایک ارب ڈالر لگایا گیا تھا تاہم صرف 8فیصد رقم یعنی 338 ملین ڈالر ہی فلسطینی عہدیداروں کے ہاتھ لگی ہے دو بڑے عطبیہ دہندگان سعودی عرب اور قطر نے 1.5ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن صرف 10فیصد رقم ہی جاری کی گئی عطیہ دینے والوں کی اس لاپرواہی کی وجہ سے غزہ میں تعمیری کام روک دینا پڑا چند برسوں میں زمین کے اس ٹکڑے پر تین جنگیں لڑی گئیں، یہودی مملکت نے غزہ والوں پر ہلا کت خیز بموں، میزائیلوں کا استعمال کیا اس جنگ کے مہلک اثرات سے غزہ والوں کو بچانے کے لئے دواخانے ہیں لیکن یہاں ڈاکٹرس ، سازو سامان ، ادویات کی شدید قلت ہے کئی ہسپتال ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں غزہ پٹی کی 80فیصد آبادی یعنی تقریباً 18لاکھ افراد امدادی ایجینسیوں پر انحصار کرتے ہیں کیوں کے انکے پاس نہ رہنے کی جگہ ہے نہ فصل اگانے کے لئے زمین ہے جو کچھ تھا اس کو اسرائیل تین جنگوں میں تباہ کر چکا ہے اس کامقصد یہی ہے کہ جس غزہ پٹی کو وہ 1967کی جنگ میں قبضہ کرنے کے بعد بین الا قوامی کے دباو کی وجہ سے واپس کرنا پڑا تھا اس طرح کے حالات پیدا کرکے اس جگہ کو انسانوں سے خالی کروا کر آسانی سے دوبارہ قبضہ کر سکے۔
غزہ کی ہر دن حالت بد سے بدتر ہورہی ہے، اس صورت حال پر کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا ہے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے وقت بہ وقت سنگین صورت حال سے واقف کروا رہے ہیں، لیکن عرب یا مغرب کے کسی بھی ملک کے حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے جو امداد ددی جا رہی ہے، وہ غزہ کے مکینوں کی غذائی ضروریات کو پور ا کرنے میں ناکافی ہے ایسی صورت میں غزہ کی تعمیر نو ایک بہت بڑا سوال بن گیا ہے۔ یہاں کے حالات انسانی المیہ کی نئی تارخ رقم کر رہے ہیں اور اسرائیل کی تائید کرنے والے یوروپی اور مغربی ممالک اس طرف سے اپنی توجہ ہٹا کر دوسری طرف مبذول کر رہے ہیں کبھی دولت اسلامیہ کے کارنامے بیان کرکے تو کبھی پناہ گزینوں کے بحران کا سہارا لے کر غزی میں اس قوت 60فیصد آبادی کے پاس ایک وقت کے کھانے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے اقوام متحدہ کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ آئندہ 15برسوں میں یہ تناسب دوگنا ہو جائے گا غزہ میں جو پانی دستیاب ہے وہ 95فیصد تک پینے کے قابل نہیں ہے صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر 10میں سے 8خواتین کو روزگار کی تلاش میں گھر سے باہر نکالنا پڑتا ہے ان حالات میں بھی غزہ کے عوام کا صبر وتحمل قابل داد ہے اور اس کسمپرسی کی زندگی میں بھی وہ صیہونیوں کا جو ان سے طاقت میں کئی گنا زیادہ ہے ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔

Comments

comments