Thursday , 16 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » سیاسی بازآبادکاری
سیاسی بازآبادکاری

سیاسی بازآبادکاری

نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت اپنے حواریوں کو عہدے سونپ رہی ہے۔ ہاؤرڈ یونیورسٹی کے ماہر معاشیات ہونے کے باوجود اپنی زندگی کو کانگریس کی مخالفت کیلئے وقف کرنے والے سبرامنیم سوامی کو راجیہ سبھا کا رکن بنادیا گیا ہے۔ سبرامنیم سوامی ہی وہ شخصیت ہے جنہوں نے 2G اسپکٹرم اسکام کو عدالتوں تک پہنچایاتھا جس کے بعد بی جے پی نے کانگریس حکومت کو بدعنوان ثابت کرتے ہوئے 2014 کے عام انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ سبرامنیم سوامی نے اپنی سیاسی جماعت جنتا پارٹی کو مودی کی قیادت پر اعتماد ظاہرکرتے ہوئے بی جے پی میں ضم کردیا۔ یہ وہی سبرامنیم سوامی ہی ہیں جنہوں نے راہول گاندھی کی دوہری شہریت پر سوال اٹھائے اور سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈرا پر بھی کئی الزامات عائد کئے۔ مودی حکومت نے سوامی کو جو مسلمانوں کے بھی کٹر مخالف ہیں راجیہ سبھا کی رکنیت سے سرفراز کرتے ہوئے ان کی خدمات کا تحفہ پیش کیا ہے۔ گذشتہ سال ستمبر میں مودی حکومت نے سبرامنیم سوامی کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا چانسلر بنانے کا پیشکش کیا تھا لیکن سوامی نے یہ عہدہ حاصل کرنے سے انکار کردیا ۔ سبرامنیم سوامی سرگرم سیاست میں واپس آنا چاہتے تھے اس کیلئے وہ مودی کابینہ میں وزارت کے خواہشمند تھے۔ کابینہ میں وزارتی عہدے کیلئے پارلیمنٹ کا رکن ہونا ضروری ہے اس لئے بی جے پی نے انہیں راجیہ سبھا کا رکن بنادیا ہے اور جلد ہی انہیں مودی کابینہ میں کوئی عہدہ دے دیا جائے گا ۔ سبرامنیم سوامی نے عام انتخابات سے قبل میڈیا کو بتایاتھا کہ بی جے پی حکومت میں انہیں وزیر فینانس کا عہدہ دیا جاسکتا ہے لیکن انتخابات کے بعد سوامی نے بتایا کہ اس عہدہ کے راستے میں کچھ رکاوٹیں ہیں پھر انہیں گورنر کے عہدے کی بھی پیشکش کی گئی انہوں نے اس سے بھی انکار کیا تھا۔ دوسری طرف بی جے پی نے سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو بھی راجیہ سبھا کا رکن بناتے ہوئے اُن کے اس قربانی کی قیمت پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو انہوں نے لوک سبھا انتخابات میں دی تھی۔ سدھو نے حلقہ امرتسر سے ارون جیٹلی کو موقع دینے کیلئے امیدواری سے دستبرداری اختیار کی تھی ان اطلاعات کے درمیان کہ پنجاب میں 2017 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے سدھو کو پنجاب کے چیف منسٹر کے عہدے کیلئے امیدوار بنانے کااعلان کیا تھاتاہم صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے سدھو کو فوری راجیہ سبھا کی رکنیت پیش کردی ۔ صدر جمہوریہ کی جانب سے جن دیگر ارکان کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیاگیاہے اُن میں نریندر جادھو ،ملیالم اداکار سریش گوپی ،صحافی سوپن داس گپتا اور باکسر میری کوم شامل ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ راجیہ سبھا کیلئے مزید دو نشستیں نامزد عہدوں کیلئے مخلوعہ ہیں اور ان دو عہدوں پر بی جے پی رجت شرما اور انوپم کھیر کو نامزد کرنا چاہتی ہے۔ انوپم کھیر نے برسر عام یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ نریندر مودی کے چمچے ہیں اور انہیں وزیراعظم کا چمچہ کہلانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اس کھلے عام اعتراف کے انعام کے طور پر مودی انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت دینے والے۔ انوپم کھیر کو گذشتہ سال مودی حکومت نے پدما شری ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ اپنے آٖپ کو مجاہد آزادی کا پوتا کہنے والے انوپم کھیر نے ادیبوں کی جانب سے ملک میں عدم رواداری کے خلاف ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کئے جانے کی وجہ سے نریندر مودی حکومت کو ہونے والی شرمندگی سے بچانے کیلئے دہلی میں فلمی شخصیتوں اور موافق بی جے پی ادیبوں کی ایک ریالی منعقد کی تھی اور وزیر اعظم پر تنقید کرنیو الوں کو نشانہ بنایا تھا۔دہلی یونیورسٹی کے تنازعہ کے موقع پر بھی انوپم کھیر نے کنہیا کمار اور دیگر طلباء کو برا بھلا کہا تھا۔ چنانچہ مودی نے انہیں انعام کے طور پر راجیہ سبھا کی رکنیت پیش کردی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت، بی جے پی کے موافقت اور اپوزیشن بالخصوص کانگریس کی شد و مد سے مخالفت کرنے والوں کی سیاسی باز آباد کاری کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ یہ نامزدگیاں اسی سلسلہ کی کڑی لگتی ہے۔

Comments

comments