Tuesday , 22 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » اِمامِ اعظم ابوحنیفہؓ نامور فقیہہ اور عظیم مجتہد
اِمامِ اعظم ابوحنیفہؓ نامور فقیہہ اور عظیم مجتہد

اِمامِ اعظم ابوحنیفہؓ نامور فقیہہ اور عظیم مجتہد

اِمام الائمہ،آفتاب علم و فضل،امام المجتہدین،جلیل القدر تابعی فقہ حنفی کے موسس و بانی حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ؒ 80 ھ میں عراق کے مشہور شہر ’’کوفہ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اسم گرامی نعمان بن ثابت بن نعمان بن زبان ہے۔ جبکہ ’’ابو حنیفہ‘‘ آپ کی کنیت اور ’’امام اعظم، امام الائمہ اور سراج الامۃ ‘‘ آپ کے القاب ہیں۔
فقہ حنفی کے بانی، امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ؒ آفتاب شریعت مہتاب طریقت، پیشوائے سالکین اور واقف رموز حقائق تھے آپؓ کی تعریف میں ہر محدث امام فقیہ مدح سرا ہے، یہی آپؒ کی جلالتِ شان کی اعلی دلیل ہے۔ آپؒ کودیگر ائمہ پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپؒ نے صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو منور کیا، جن میں حضرت انس بن مالکؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ ، حضرت عبداللہ بن اوفیؓ، حضرت واثلہ بن اسقعؓ وغیرہ شامل ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق سے بھی آپؓ کا رشتہ انتہائی عقیدت و احترام کا تھا، آپؒ کے تلامذہ میں حضرت فضیل بن عیاضؒ ، حضرت ابراہیم بن ادہمؒ ، حضرت بشر حانیؒ اور حضرت داود طائیؒ جیسے صاحب علم و عمل اور اپنے وقت کے امام و ولی شامل ہیں۔ آپؓ ایسے وقت اشاعت اسلام کا آغاز فرمایا کہ جب اسلام کی خدمت کیلئے ایک صحیح فقیہہ و مجتہد کی ضرورت تھی چنانچہ عہدِ نبویؐ میں اسلام پورے جزریۃ العرب میں پھیل چکا تھا، حجاز کے علاوہ جو قبائل زیادہ فاصلے پر آباد تھے، وہ دین کی باتیں سیکھنے آتے اور واپس آکر اپنے قبیلوں میں انہی تعلیمات کو سکھاتے تھے۔ حضور اکرم ﷺ بھی مدینہ منورہ سے عمال کو مختلف قبیلوں میں بھیجتے،تا کہ وہ انہیں دین سکھائیں جیسا کہ حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو موسی اشعریؓ اور حضرت علیؓ کو قبائل کی طرف بھیجا گیا۔ خلافت راشدہ میں اسلام دوسرے ملکوں تک پہنچ گیا جہاں حضرات صحابہ کرامؓ نے لوگوں کی دینی تربیت فرمائی،مسائل میں رہنمائی کی اور صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد فتاوی دیا کرتی، جن میں حضرت عمرؓ ، حضرت علی مرتضیؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بڑی شہرت حاصل کی۔ صحابہ کرامؓ کے ساتھ ہی تابعین نے بھی دین متین کی خدمت کی اور عوام الناس کو مسائل سے آگاہ کیا۔ چنانچہ مدینہ منورہ،مکہ معظمہ،کوفہ،بصرہ،دمشق،مصر اور یمن میں بڑی بڑی درسگاہیں اور دارالافتاء قائم تھے۔
فقہ حنفی کی تدوین و اشاعت: اللہ تعالیٰ نے حضرت امام ابو حنیفہؓ کو انتہائی فہم و فراست سے نوازا تھا۔ امام صاحب نے جب یہ دیکھاکہ علم ایک جگہ یا ایک فرد کے پاس نہیں ہے اور وہ اطرافِ عالم میں منتشر ہوچکا ہے، اب ضرورت ہے کہ اسے یکجا کیا جائے،ورنہ وہ ضائع ہوجائیگا، پھر اسکی اصل صورت بدل جائیگی۔ امام ابو حنیفہؓ کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ ایک صدی میں بڑا تغیر واقع ہوچکا ہے اور آئندہ ادوار میں یہ تغیر رک نہیں سکتا،اس لئے اس علم کو یکجا کرنا چاہئے،قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے ایسا دستور عمل مرتب کرنا چاہئے۔ جس میں تمام چیزوں کی رعایت ہو، اس لئے اسلامی قانون کی تدوین اور اس کے اصول متعین کرنا ضروری ہوا۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ آج سے پہلے جو اہل علم و فضل تھے، وہ آج نہیں ہیں اور زمانہ تیزی سے انحطاط کی طرف جارہا ہے، آج دنیا میں جو اہل علم و فضل ہیں، ان سے استفادہ کرنا چاہئے، جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ان کے آثار سے استفادہ کرنا چاہئے اور اسے اصول و ضوابط کے تحت مرتب و مدون کرنا چاہئے۔ امام ابو حنیفہ ؒ نے 120 ھ سے ہی اپنی درسگاہ اس نہج پر ترتیب دی اور فقہِ اسلامی کی تدوین کا کام شروع کردیا۔ درمیان میں کچھ عرصے کیلئے تدوین کا کام رکا بھی لیکن 132ھ سے پھر پابندی سے اس کام کو جاری رکھا اور بالآخر 150 ھ میں اس کام کی تکمیل ہوئی اور امت مسلمہ کیلئے ایک عظیم سرمایہ علم و حیات محفوظ ہوا۔
* تدوینِ فقہ: امام صاحبؒ نے مجلسِ تدوین فقہ انتہائی غور و خوص کے بعد کوفہ میں قائم کی، کیونکہ کوفہ میں عربی و عجمی تہذیبیں موجود تھیں اور قسم قسم کے مسائل وہاں اٹھتے رہتے تھے، اہلِ علم بھی بہت تھے۔ جبکہ عرب کے دوسرے شہروں کی تہذیب خالص عربی اور سادہ تھی۔ ایک قانون ساز کیلئے ضروری ہے کہ وہ دنیا کی تہذیبوں کا بنظرغائر مطالعہ کرے اور ان سے پیدا شدہ مسائل و ضروریات کیلئے معمولی باتوں کو بھی نظر انداز نہ کرے۔ امام صاحبؒ نے فقہ کی تدوین کیلئے ایک مجلسِ شوری جو مجلسِ مباحثہ تھی، مرتب فرمائی امام صاحب نے اپنے مسلک کو مشورے پر رکھا اور مجلس سے کٹ کر فقہ کو اپنی ذات پر موقف نہیں رکھا۔ آپ نے تدوین فقہ کیلئے اپنے ہزاروں شاگردوں میں سے چالیس ماہرِ فن اشخاص منتخب فرمائے، یہ سب وہ حضرات تھے جو درجہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے اور پھر ایک خصوصی مجلس قائم تھی جو عمومی مجلس کے کام کو دوبارہ جانچتی۔ اس خصوصی مجلس کے اراکین میں امام ابو یوسفؒ ، امام زقرؒ ، دوادطائیؒ ، احمد بن عمروؒ ،یوسف بن خالدؒ ، یحیی بن زائدہؒ ، امام محمد ؒ ، عبداللہ بن مبارک ؒ اور خود امام ابو حنیفہ ؒ شامل تھے۔ وکیع بن الجزاح جو اپنے وقت کے مشہور و معروف محدث تھے۔ امام صاحب کی مجلس تدوین فقہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں، امام ابو حنیفہ ؒ کے کام میں کس طرح غلطی باقی رہ سکتی تھی جب کہ واقعہ یہ ہے کہ ان کی مجلسِ تدوین فقہ میں ابو یوسف،زفر، محمد جیسے لوگ جو ماہر قیاس و اجتہاد ہیں، موجود ہیں اور یحیی بن علی جیسے ماہریِن حدیث کے ساتھ تھے۔ قاسم بن معین جیسے لغت اور عربی کے ماہر موجود تھے اور دواد بن نصیر طائیؒ ، فضیل بن عیاض جیسے صاحب زہد و تقوی موجود تھے۔ جس مجلس کے ایسے اراکین ہوں گے، وہ غلطی نہیں کرسکتے کیوں کہ غلطی کی صورت میں صحیح امر کی طرف یہ لوگ لانے والے تھے۔
* اِمام صاحبؒ کا طریقہ استنباط: سید نا امام ابو حنیفہ ؒ نے مسائل کے استنباط کا یہ طریقہ اختیار فرمایا تھا کہ سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتے پھر سنت نبوی ؐ کی طرف، پھر آثار صحابہؓ اس کے بعد قیاس۔ امام صاحب کی نظر احادیث کے بارے میں بہت دور بین تھی، امام ابو حنیفہؒ حدیث کے قوی،ضعیف، مشہور،آحاد کے علاوہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا جب وصال ہوا تو آخری امر کیا تھا، جس پر آپ ﷺ کا عمل تھا اور اسی کواپناتے، اگر صحابہؓ کا اختلاف سامنے آتا تو بنائے برفقہ ان میں سے فقہ کی روایت کو ترجیح دیتے۔ آپ نے مسائل اس طرح استنباط کئے کہ جن مسائل کا ابھی وجود بھی نہیں ہواتھا، ان پر بھی بحث کرتے، امام ابو حنیفہؒ فرماتے تھے ’’اہل علم کو چاہئے کہ جن باتوں میں لوگوں کے مبتلا ہونے کا امکان ہے، انہیں بھی سوچ لیں تا کہ اگر وہ ظہور پذیر ہوں تو انہیں انوکھی بات نظر نہ آئے، بلکہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر کوئی ان امور میں مبتلا ہوجائے تو شرعاً ابتلاء کے وقت کیا کرنا چاہئے اور مبتلا ہونے کی صورت میں شریعت نے کیا حکم دیا ہے۔‘‘ اپنے وقت کے مشہور محدث حضرت قیس بن ربیعؒ فرماتے ہیں:’’امام صاحب ان مسائل کو بھی سب سے زیادہ جانتے تھے جن کا وجود تک نہیں ہوا تھا۔‘‘
امام ابو حنیفہ ؒ نے مجلس تدوین میں ان تمام مسائل پر بحث فرمائی، جن کے واقع ہونے کا امکان ہوسکتا تھا۔ آپ ؒ کے گرد تلامذہ کا مجمع ہوتا تھا، آپ جزائیات پیش کرتے اور جواب حاصل کیا کرتے، اگر سب کا جواب ایک ہوتا تو مسئلہ اسی وقت قلم بند کرلیا جاتا ورنہ پھر بحث کا سلسلہ جاری رہتا اور پھر دلائل کے بعد بھی فیصلہ ہوتا،اسے قلم بند کیا جاتا۔ اگر کبھی ایسا ہوتا کہ بعض اراکین اپنی رائے پر قائم رہتے اور ہر ایک مثبت دلیل رکھتا تو اس صورت میں سب کے اقول قلم بند کرلئے جاتے تھے اور اس کا بھی التزام کیا جاتا کہ جب تک کہ شوری کے خصوصی اراکین جمع نہ ہوں کوئی مسئلہ طئے نہ کیا جائے۔
تراسی ہزار دفعات پر مشتمل اسلامی قانون : امام ابو حنیفہؒ اور ان کے چالیس رفقاء نے رات دن کی محنت شاقہ کے بعد تقریبا 22 سال کی مدت میں اسلامی قانون کو مدون کیا۔ قانون کا یہ مجموعہ 83 ہزار دفعات پر مشتمل تھا۔ جس میں 38 ہزار مسائل عبادات سے متعلق تھے اور باقی مسائل کا تعلق معاملات و عقوبات سے تھا۔ اس مجموعے کی ترتیب اس طرح تھی کہ پہلے طہارت کے مسائل پھر نماز کے مسائل، عبادت کے بعد دوسرے ابواب ان کے بعد معاملات اور عقوبات کے ابواب اور آخر میں میراث کے مسائل،آج بھی فقہ حنفی کی تمام کتب اسی ترتیب پر ہیں۔ امام صاحبؒ اور ان کی جماعت کا مرتب کردہ مجموعہ اسلامی قوانین اگرچہ 144 ھ سے قبل مرتب ہوچکا تھا مگر بعد میں اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور اضافے کے بعد اس مجموعے کے بیان کردہ مسائل کی تعداد پچاس لاکھ ہوگئی تھی۔ اس مجموعے کو امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں ہی شہرت حاصل ہوئی، اس کے جس قدر اجزء تیار ہوتے، ہاتھوں ہاتھ چلے جاتے، آپ کا یہ مدون شدہ قانون اس وقت کے تمام علماء اور والیان ریاست کے کام آیا، عدالتوں میں سرکاری طور پر اسے داخل کرلیا گیا۔ یحی بن آدمؒ فرماتے ہیں خلفاء حکام، ائمہ امام صاحب کے مدون کردہ فقہ کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، بالآخر اسی پر عمل ہونے لگا۔‘‘ دستور اسلامی کے اول مولف امام ابو حنیفہؒ ہیں،دیگر تمام ائمہ نے ان سے استفادہ کیا۔ علامہ شبلی نعامی نے لکھا ہے کہ امام صاحب ؒ نے جو مسائل مدون فرمائے، ان کی تعداد بارہ لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔
اِمام ابو حنیفہ ؒ کا فقہی مجموعہ جو آپ ؒ نے اور آپ ؒ کی جماعت نے مدون فرمایا، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے قلم سے آج بھی موجود ہے، ان کتابوں کے نام مشہور و معروف ہیں۔
1۔ جامع صغیر: اس کتاب میں امام محمدؒ نے امام ابو یوسفؒ کی روایت سید امام صاحب کے تمام مسائل جمع فرمائے ہیں۔ اس کتاب کے مسائل کی تعداد 532 ہے جس میں 170 مسائل میں امام محمد ؒ نے اختلاف بھی کیا ہے۔
2۔ جامع کبیر: یہ کتاب بھی جامع صغیر کی طرح ہے مگر اس میں مسائل زیادہ ہیں، اس کتاب

میں امام صاحبؒ کے اقوال کے علاوہ امام ابو یوسف ؒ اور امام زفرؒ کے اقوال بھی موجود ہیں، ہر مسئلے کی دلیل بھی موجود ہے، بعد کے فقہاء نے اصولِ فقہ کے مسائل اسی کتاب سے اخذ کئے ہیں۔
3۔ مبسوط: یہ امام محمدؒ کی سب سے پہلی کتاب ہے، اصل کے نام سے مشہور ہے، اس میں امام محمد نے ایسے ہزاروں مسائل جمع کئے ہیں جن کا امام صاحب نے جواب دیا ہے وہ مسائل بھی ہیں جن میں امام ابو یوسفؒ اور امام محمد ؒ نے اختلاف کیا ہے، اس کتاب میں امام محمدؒ نے پہلے آثار پھر ان سے ماخوذ مسائل اور آخر میں امام ابو حنیفہ اور ابن ابی لیلی کا اختلاف ذکر فرمایا ہے۔
4۔ زیادات: اس کتاب میں وہ مسائل ہیں جو جامع صغیر اور جامع کبیر میں درج ہونے سے رہ گئے تھے۔
5۔ السیر الصغیر: اس کتاب میں حکومت و سیاست اور جہاد کے مسائل ہیں،جب اس کتاب کو امام اوزاعیؒ نے دیکھاتوپسند فرمایا اور یہ بھی کہا کہ اہل عراق کو سیر سے کیا واسطہ، امام محمد ؒ نے جب یہ جملہ سنا تو سیرِ کبیر لکھ ڈالی۔
6۔ السیر الکبیر: یہ کتاب ایک سو ساٹھ اجزاء پر مشتمل ہے، جب امام محمد ؒ اس کتاب کی تالیف سے فاروغ ہوئے تو خلیفہ وقت اور امام اوزاعیؒ نے اس کتاب کو بہت پسند فرمایا، یہ امام محمدؒ کی آخری کتاب ہے۔ ان کتب کے علاوہ کیسا نیات،جرجانیات،ہارونیات، امالی امام محمد،نوادر ابن رستم وغیرہ بھی ہیں۔
غرض امام صاحب نے نے اسلامی فقہ کی تدوین ایک جمہوری اور شورائی انداز میں نہایت ہی محنت شاقہ کے تحت فرمائی اور آپ ؒ نے امت پر یہ احسان فرمایاکہ تدوینِ فقہ کی ضرورت کو محسوس کیا اور امت کا شیرازہ بکھرنے سے بچالیا اور امت کو ایک اسلامی دستور مہیا فرمایا جس میں اقوام عالم کے مزاج کی رعایت موجود ہے اور حالات و ضروریات کے تحت انسانی زندگیوں میں جو نشیب و فراز پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا پورا طور پر خیال رکھا گیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی ہمیشہ سے دنیا کی بیشتر مسلم آبادی کا مسلک رہا ہے اور ہے۔ اللہ تعالی اس سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کیلئے وہ باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔

Comments

comments