Thursday , 16 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عظمت و رفعت کا عظیم شاہکار
معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عظمت و رفعت کا عظیم شاہکار

معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عظمت و رفعت کا عظیم شاہکار

آیت سبحان سے واقعہ معراج کا آغاز کیا گیا ہے۔ سبحان کا لفظ ہرعیب اور نقص سے اللہ کی تقدیس کیلئے ہے اور اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو اس سے موصوف نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؒ روایت کرتے ہیں کہ معراج کی شب رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں دی گئی۔ 1۔ پنچ وقتہ نماز۔ 2۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیات۔ 3۔ اور امت میں سے جس نے شرک نہ کیا ہو اس کی بخشش اور مغفرت۔،(مشکوۃ)
اللہ تعالیٰ نے معراج کی شب اپنے بندے حضرت محمدﷺ کو رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی آپ نے مسجد اقصی میں انبیاء و رسل کو نماز پڑھائی اور آپﷺ کو بہت نشانیاں دکھائی گئیں، جس شخص نے یہ کہا کہ صرف آپﷺ کی روح کو معراج کرائی گئی تھی او ریہ جسمانی معراج نہیں تھی یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ واقعہ آپ ﷺ کی نبوت دلیل کے طور پر پیش نہ کیا جانا او رنہ ہی اس حقیقت کا منکرین انکار کرتے۔ اگر یہ صرف خواب کا واقعہ ہوتا تو مشرکین اس کا انکار نہ کرتے۔ کیونکہ خواب میں کسی عجیب و غریب چیز کو دیکھنے پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی او رنہ ہی کوئی اس کا انکار کرتا، اللہ تعالی نے فرمایا: اسرا بعبدہ۔ یہ نہیں فرمایا کہ اسری بروح عبدہ۔ نبی کریمﷺ کا براق پر سوار ہونا بھی اس کا تقاضا کرتا ہے کہ جسمانی معراج تھی کیو نکہ کسی سواری پر سوار ہونا جسم کا تقاضا ہے نہ کہ روح کا۔ (جامع البیان )
تمام انبیاء علیہم السلام اللہ تعالی کے کامل بندے ہیں لیکن سیدنا محمدﷺ اللہ تعالی کے کامل ترین اور محبوب ترین بندے ہیں۔اس آیت میں فرمایا سبحان ہے وہ جو اپنے عبد کو رات کے ایک قلیل وقت میں لے گیا۔ ایک سوال یہ ہے کہ رسول کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ یوں کیوں نہیں فرمایا۔ سبحان ہے و ذات جو اپنے رسول کو لے گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول وہ ہے جو اللہ کے پاس سے بندوں کی طرف لوٹ آئے اور عبدوہ ہے جو بندوں کی طرف سے اللہ کے پاس جائے۔ یہ اللہ کے پاس سے آنے کا نہیں۔ اللہ کی طرف جانے کا موقع تھا۔ اس لئے یہاں رسول کا ذکر نہیں عبد کا ذکر مناسب تھا۔ حضرت سید نا محمدﷺ کیلئے اللہ تعالی نے فرمایا اللہ آپ کو لے گیا۔
حضرت موسیٰ ؑ کے متعلق فرمایا، موسیٰ ؑ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے کہا، بے شک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں۔ حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام از خود گئے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالی لے جانے والا تھا اور وہی لانے والا تھا اور ان دونوں صورتوں میں جو فرق ہے وہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔ تمام انبیائے کرام ﷺ معراج کی شب بیت المقدس میں جمع ہوئے، تو آپ ہی تمام نبیوں کے امام ہوئے اور میدان حشر میں آپ ؐ ہی اللہ تعالی کے حضور سب کی شفاعت فرمائیں گے،یہی وہ مقام محمود ہے جو آپؐ کے سوا کسی کو حاصل نہیں اور جس کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صرف آپ ہی سے وعدہ فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بیت المقدس میں انبیاء علیہم السلام کو نماز پرھائی۔ انبیاء کی سات صفیں تھیں اور تین صفیں مرسلین کی تھی اور فرشتوں نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ یہ آپ کی خصوصیت ہے اور اس میں یہ حکمت تھی کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ آپﷺ تمام انبیاء کے امام ہیں۔

شبِ معراج کیسے گزاریں؟
متبرک ایام میں رجب کا مہینہ بھی ہے،جس کی ستائیسویں شب اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج عطا فرمائی، اہل ایمان کو چاہئے کہ بالخصوص یہ متبرک شب، عبادت الٰہی، ذکر و تسبیح،نوافل اور دعاؤں میں گذاریں، کثر ت سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں در ود سلام کا نذرانہ پیش کریں۔ اس متبرک رات امت مسلمہ کو حضور اکرم ﷺ کی معرفت نماز کا تحفہ عطا کیاگیا جس میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور مومنوں کی معراج ہے۔ لہٰذا تمام مسلمان مرد و خواتین کی ذمہ داری ہیکہ نماز پنجگانہ بہ پابندی ادا کریں، اس رات کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانیں، بطور خاص صلوۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا اہتمام کریں،قرآن کریم کی تلاوت کریں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں اگر فوت شدہ نمازیں ذمہ میں باقی ہوں تو انہیں ترتیب وار ادا کرلیں، اور توبہ و استغفار کریں، اپنے مرحومین کیلئے ایصال ثواب کریں، زیارت قبور تو مطلقاً سنت ہے تاہم اس موقع پر زیارت قبور صالحین سے ثابت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ
۔۔۔ الحاج وِقارِ خلیل صاحب مرحوم

رسولِ اکرمؐ ‘سلام تم پر درود تم پر
خدائے برتر نے عرش پر آپ کو بلا کر
شرف تکلم کا بخش کر‘
انبیاء میں افضل‘بلند و برتر کسے تھا جانا‘ تمہیں کو جانا‘
ہم عاصیوں کا شمار کیا ہے‘ حساب کیا ہے
ہم اُمتی ہیں کرم ہو ہم پر
مقامِ احمدؐ ‘ پیمبروں کی حدِ نظر سے بھی ماورا ہے
جنابِ آدمؑ کہ جدِ اعلیٰ:
حضورؐ ہی کی تو معرفت سے خدا سے مانگا کئے اُجالا
خلیل ؑ نے آپ کے توسل سے جب دعا کی
وہ معجزہ یا دعا کا ثمرہ کہ آگ گلزار ہوگئی تھی
جناب ایوبؑ کی دعاء نے قبولیت کا شرف جو پایا
وسیلہ کس کا تھا‘آپؐ کا تھا
خدا نے اُن کو شِفاء کی تعبیر سے نوازا
جنابِ عیسیٰ ؑ مسیح نے بھی ظہور انوارؐ کی دی بشارت
کہا کہ رُتبہ فزوں ہے بے شک
جو طُور پر روشنی کی پہلی جھلک سے موسیٰ ؑ نے ہوش کھوئے
حضورِ اکرمؐ کی آمد آمد‘ خدائے برتر سے گفتگو کا تھا پیش خیمہ
جنابِ یوسف ؑ کا حُسن بھی تو جمال احمد کا ایک پر تو
اے ہادی اول و آخر،سلام تم پر‘ درود تم پر
ہم عاصیوں پر نظر کرم کی
خدائے برتر کی بارگہہ میں‘ عرب کے سلطاں‘عجم کے سلطاں
دیارِ مشرق‘دیارِ مغرب
اور ہندکے گوشے گوشے میں رہنے والے سبھوں کی جانب سے
کملی والے !خدائے برتر سے اتنا کہئے
کہ میری اّمت پہ رحم فرما!
خطائیں سب کی معاف فرما!!
’’فضیلتیں دے‘ بشارتیں دے‘محبتیں دے‘عنایتیں دے‘‘
رسولِ اکرمؐ! ہر اُمتی کی یہی دعا ہے
خدائے برتر سے آپؐ کہئے
ہر اُمتی ہیں عزیز میرے‘ مرے وسیلے سے بخش دے تُو
ہم عاصیوں پر نظر کرم کی
کہ ہم خدا کی زمیں پہ اپنے رسول کی رہگزر پہ ثابت قدم چلیں گے
یہ عہد کرتے ہیں کملی والے
پناہ دیجے‘پناہ دیجے
رسولِ اکرمؐ ‘شہِ مکرم‘حضور سلم‘ درود تم پر سلام تم پر

Comments

comments