Tuesday , 22 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » مصطفی جانِ رحمتؐ فرشِ مکیں سے عرشِ لامکاں تک۔۔۔
مصطفی جانِ رحمتؐ فرشِ مکیں سے عرشِ لامکاں تک۔۔۔

مصطفی جانِ رحمتؐ فرشِ مکیں سے عرشِ لامکاں تک۔۔۔

’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے محبوب بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو رات کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنادیا ہے، اس لئے کہ اس (بندہ کامل) کو ہم اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہ (اللہ تعالیٰ) خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے‘‘۔
معراج النبی ﷺ عالم بیداری کا واقعہ ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے اس واقعہ کا ذکر قسم کھا کر کیا ہے اور یہ ایک معجزہ ہے اور مزید یہ کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ کام میں نے خود کیا ہے ’’میں لے گیا‘‘ اور نبی کریمؐ نے تو دعوی ہی نہیں کیا کہ میں گیا بلکہ اللہ فرماتا ہے کہ ’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی‘‘ اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے اس لئے معراج نبیؐ کا عالم بیداری میں کرنے سے انکار عظمت مصطفی ﷺ کا انکار نہیں بلکہ قدرتِ الٰہیہ کا انکار ہے۔ کچھ لوگ واقعہ معراج کو نبی اکرم ؐ کی زبان سے سن کر، مرتد ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ بات ماننے کے قابل نہیں۔ قرآن حکیم میں ارشاد ربانی ہے۔ ترجمہ : ’’اور ہم نے تو (شب معراج کے ) اس نظارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا ہے لوگوں کیلئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے ‘‘۔
حضرت صدیق اکبرؓ کے پاس کافر آئے اور کہنے لگے ’’کہ آپ کے نبی محمد ؐ نے دعوی کیا ہے کہ میں راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی اور پھر آسمانوں تک گیاہوں اور معراج کر کے واپس آگیا ہوں‘‘۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ ’’اللہ کی قسم اگر محمد ؐ نے یہ کہا ہے تو سچ کہا ہے‘‘۔
انس بن مالکؓ سے مروی ہے ’’معراج کی رات سے قبل تین فرشتے نبی کریم ؐ کے پاس آئے،اس وقت آپ ؐ مسجد الحرام میں آرام فرما تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا’’وہ کون ہیں‘‘ دوسرا بولا ’’ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں ‘‘، تیسرا بولا’’ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو‘‘پھر وہ چلے گئے۔ دوسری رات وہ پھر آئے جب کہ آپ ؐ کا جاگ دیکھ رہا تھا اور آنکھیں سو رہی تھیں۔ آپ کو اٹھا کر چاہ زم زم کے پاس لٹایا یہاں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا سینہ مبارک گردن تک خود اپنے ہاتھ سے چاک فرمایا اور سینہ و پیٹ کے تمام اعضاء نکال کر انہیںآب زم زم سے دھویا جب خوب دھو چکے تو ایک سونے کا طشت لایا گیا، اس میں سونے کا ایک بڑا پیالہ تھا جو حکمت اور ایمان سے پُر تھا، اس سے آپؐ کی رگوں اور سینے کو پر کردیا اور سینۂ مبارک پھر سے سی دیا گیا ‘‘ (صحیح بخاری)
حضرت محمد ؐ معراج کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں حطیم یا حجر ہ میں لیٹا ہوا تھا۔ میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ یہ جانور براق تھا جو اپنا قدم منتہائے نظر پر رکھتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا،آپ ؐ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ بیت المقدس میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی جس میں انبیاء کی امامت فرمائی۔ اس کے بعد آٖ ؐپ کے پاس دودھ اور شراب کے برتن لائے گئے۔ آپؐ نے دودھ پسند فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ’’آپ ؐ نے فطرت پائی، آپ کو ہدایت نصیب ہوئی اور آپ ؐ کی امت کو بھی‘‘ اس کے بعد آپ ؐ کا آسمانی سفر شروع ہوا۔ آپ ؐ نے ساتوں آسمانوں کو ایک ایک کر کے عبور کیا اور ہر آسمان میں ایک نیا ہی منظر دیکھا۔ کسی آسمان پر پیغمبروں اور فرشتوں سے،کسی آسمان پر دوزخ اور دوزخیوں سے اور کہیں جنت اور جنتیوں سے ملاقات ہوئی۔
ساتویں آسمان پر نبی کریم ؐ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ انہوں نے آپ ؐ سے فرمایا ’’اے محمدؐ اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہئے اور ان کو بتاےئے کہ جنت کی مٹی بڑی عمدہ ہے، اس کا پانی میٹھا ہے، پھر نبی کریم ؐ کو سدرۃ المتہی تک بلندکیا گیاوہاں بہت سے عجائبات کا مشاہدہ کرنے کے بعد آپ کو جنت میں لے جایا گیا۔ جنت میں آپ کو کوثر کا مشاہدہ کروایا گیا۔
’’میں ایک نہر پر آیا اس کے دونوں کنارے موتیوں اور قبوں کے تھے، میں نے پوچھا،’’جبرائیل علیہ السلام یہ کیا ہے ؟‘‘ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ’’یہ کوثر ہے ‘‘‘(صحیح بخاری ) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐنے فرمایا۔
پھر نبی کریم ؐ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ واپسی پر حضرت موسی کے پاس سے گذر ہوا توانہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ آپؐ نے پچاس نمازیں دن رات میں فرض ہونے کا بتایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکتی۔ آپ ؐ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں اور اور تخفیف کی درخواست کریں۔ میں لوٹ کر گیا تو اللہ نے دس نمازیں معاف فرمادیں۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر لوٹ کر جانے کا مشورہ دیا۔ اس طرح بار بار آپؐ لوٹ کر جاتے رہے اور اللہ تعالی نمازوں میں کمی کرتے رہے حتی کہ صرف پانچ نمازیں رہ گئیں۔ موسی علیہ السلام نے پھر واپس جاکر مزید کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا مگر آپ ؐ نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے کئی مرتبہ درخواست کرچکا ہوں اب مجھے شرم آتی ہے۔ اللہ تعالی نے پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر کرنے کی خوش خبری سنائی۔ (صحیح مسلم)

عبادات و برکات شبِ معراج
معراج پیغمبر اسلام کے ان واقعات میں سے ہے جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے۔ عام روایت کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے 27 رجب کی رات کو پیش آیا۔
حدیث مبارکہ یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اس سفر میں کیا واقعات پیش آئے۔ حدیث بخاری میں ہے، نبی اکرم ؐ نے فرمایا منازل طئے ہونے کے بعد اللہ تعالی مجھ سے قریب ہوا اور قرب میں اضافہ ہوا حتی کہ میرے درمیان اور جلوہ ربوبیت کے درمیان دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا اس کیفیت کا ذکر باری تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے۔ ترجمہ : ’’پس آپ اللہ تعالی کے قریب ہوئے اور وہ بھی قریب ہوا اور فاصلہ اتنا رہ گیا جتنا کہ کمان کا تیر سے ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب اس مقام پر پہنچ کر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مطمئن رہے اور لبوں پر تبسم تھا۔
حضور علیہ السلام کی آنکھ جو کچھ دیکھتی تھی قلب مبارک اس کی تصدیق کرتا تھا۔ بارگاہ رب تعالی نے یہ کمال ادب سکھایا کہ نگاہ مبارک ادھر ادھر نہ ہوئی یعنی پلک نہ جھپکیں اور جلوہ ربویت بغور دیکھا۔ قرآن حکیم میں اس کا بیان،اس قرب خاص میں طالب مطلوب کے خلوت راز میں راز و نیاز کے پیغام دےئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکﷺ کو اولین آخر یں ظاہری وباطنی علوم کا وارث بنایا۔ شب معراج معلی میں حضور اکرم ﷺ کو بارگاہ الہی میں تین تحفے عطا کئے گئے۔ رحمت حق نے مژدہ سنایا کہ امت محمدی ﷺ میں ہر بندے کو جو شرک کا مرتکب نہ ہو مغفرت سے سرفراز فرمایا جائے گا، امت پر نماز فرض ہوئی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی تسکین قلب کی خاطر مزید کرم نوازی فرمائی اور امت محمدی ﷺ پر خاص رحمت کی کہ ان پانچ نمازوں کی ادائیگی کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر مرحمت فرمانے کا وعدہ فرمایا۔ اس طرح مرضی الہی بھی پوری ہوئی اور مولی کریم نے اپنے محبوب ﷺ کو مطمئن بھی فرمایا، سورۃ البقرہ کی آخری آیات کریمہ نازل فرمائیں جس میں اسلام کے عقائد اور ایمان کی تکمیل پر امت محمدیہ ﷺ کیلئے مصائب کے خاتمہ کی بشارت ہے۔ 27 رجب کی رات اور دن کی فضیلت اور مسنون عبادات، 27 رجب کی رات کے کو حضور اکرم ﷺ کو معراج ہوئی اس رات کی فضیلت کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ نے بیان فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے 27 رجب کا روزہ رکھا اس کو ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ بروایت ابو مسلمؓ حضرت سلمان فارسی ؒ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہیکہ ماہ رجب میں ایک دن اور ایک رات ایسی ہے کہ اگر اس دن کا کوئی روزہ رکھے اور اس رات کو عبادت کرے تو اس کو ایک سو برس روزے رکھنے والے اور سو سال رات کی عبادت کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔
یہ رات وہ ہے جس کے بعد رجب کی تین راتیں رہ جاتی ہیں (یعنی ستائیسویں شب ) حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا معمول تھا کہ جب ستائیسویں رجب آتی تو وہ اعتکاف میں بیٹھے ہوتے تھے اور بعد نماز ظہر نفل پڑھنے میں مشغول ہوجاتے۔ اس کے بعد وہ چار رکعتیں پڑھتے اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ سورہ القدر تین بار اور سورہ اخلاص پچاس مرتبہ پڑھتے تھے پھر عصر تک دعاؤوں میں مشغول رہتے۔ انہوں نے فرمایا سرور کونین ﷺ کا یہی معمول تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جو شخص رجب کی ستائیسویں شب کو بارہ رکعت نفل کی نیت اس ترکیب سے پڑھے کہ سورۃ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورہ القدر اور بارہ دفعہ سورہ اخلاص اور اس کے بعد نوافل سے فارغ ہوکر تین مرتبہ سبوح قدوس ربنا و رب الملائکۃ والروح ایک سو بار درود شریف اور سو بار استغفراللّٰہ ربی من کل ذنب و خطبیءۃ و اتوب اِلیہ اور سو بار تسبیح یعنی تیسرا کلمہ شریف پڑھے اور اپنے لئے اپنے ماں باپ کیلئے اور تمام مسلمانوں کیلئے دعاء مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے پانچ نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ یعنی مخلوق کا عمر بھر محتاج نہ ہوگا،ایمان پر خاتمہ ہوگا،اس کی قبر کشادہ کردی جائے گی جنت کی ہوائیں اسے ملتی رہیں گی، اللہ تعالی کے دیدار سے مشرف ہوگا۔ لہٰذا اپنی عاقبت کو سنوارنے اور آخرت میں سرخرو اور کامیاب ہونے کیلئے ہمیں ایسے افعال سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہئے جو خدا کے غضب کا باعث ہے۔

قلبِ اطہر کو زم زم سے غسل دیا گیا
شب معراج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر کو آب زم زم سے دھویا گیا، آپؐ کا سینۂ اقدس چاک کیاگیا، ایمان و حکمت سے لبریز طشت اُس میں اُنڈیل دیاگیا۔ زندگی کا تعلق دل سے ہے، قلب مرکز حیات ہے، کائنات میں کوئی ایسا انسان نہیں جوبغیر دل کے زندہ رہ سکے، اوپن ہارٹ سرجری کے دوران بھی اطباء آلات کا استعمال کرتے ہیں جس کی مدد سے انسان زندہ رہتا ہے۔ سینۂ اقدس کا چاک کیا جانا، زم زم سے قلبِ اطہر کو دھویا جانا، انوار و حکمت کے طشت کا اُنڈیلا جانا، یہ تمام احوال کی خبر خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی ہے، مرکز حیات قلب باہر نکالے جانے کے باوجود بدستور آپؐ حیات ہیں، معلوم ہوا کہ وسائل حیات بظاہر منقطع ہونے سے آپؐ کے علم و ادراک اور حیاتِ طیبہ میں کوئی فرق نہیں آتا۔

انوارِ قرآن
قرآن کی نصیحت
’’اے ایمان والو! مصیبتوں پر صبر کرو‘دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہو‘ ہر وقت تیار و آمادہ رہو اللہ سے ڈرتے رہو‘ تا کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤ‘‘۔ (سورہ آل عمران: 200)
اہل جہنم کا حال
’’جو لوگ منکر (کافر) ہیں، ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے۔ نہ تو ان پر موت ہی کا حکم کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں‘ اور نہ دوزخ کاعذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر منکر (کافر) کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں‘‘۔ (سورہ فاطر: 36)

انوارِ حدیث
زہر اور جادو سے حفاظت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص صبح صبح (بغیر کچھ کھائے پئے) مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں استعمال کرلے، اس کو نہ تو اُس دن زہر سے نقصان ہوگا اور نہ جادو کا اثر ہوگا‘‘۔ (بخاری: 5769، عن سعدؓ)
دُنیا کی مثال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرا دُنیا سے کوئی واسطہ نہیں۔ میری اور دُنیا کی مثال تو بالکل اُس مسافر کی سی ہے جو (سخت گرمی میں) کسی پیٹر کے سائے میں آرام کرے اور پھر اُسے چھوڑکر چل دے‘‘۔ (ترمذی: 2377، عن بن مسعودؓ)۔

Comments

comments