Thursday , 22 February 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » شب برأت۔ برکت و رحمت
شب برأت۔ برکت و رحمت

شب برأت۔ برکت و رحمت

اِسلام نے مسلمانوں کی زندگی میں ہر سال چند ایسی مقدس راتیں رکھی ہیں جن کے اہتمام سے وہ دنیا و آخرت میں کامیاب و سرخر وہوجاتے ہیں۔ ان ہی چند مخصوص راتوں میں قرآن شریف میں بطور خاص تین راتوں کا ذکر آیا ہے۔ 1:شب معراج۔ 2 :شب برأت اور 3 :شب قدر۔
شب برأت یہ برکتوں والی رات ہے جس میں بندگان خدا کو بخشش کا مثردہ جانفزاء سنایا جاتاہے۔ اس رات کا ذکر قرآن حکیم کی آیات کریم،(سورہ دخان) میں تفصیل سے ملتا ہے۔ سورہ دخان کی اس آیت اِنا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین سے تمام مفسرین ’’شب براء ت‘‘ مراد لیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کثرت سے احادیث مبارکہ بھی ملتی ہیں۔ چنانچہ حضرت سید نا علی مرتضیؓ سے روایت ہیکہ سیدنا رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اس رات قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تبارک و تعالی اس رات سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتاہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ کیا ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ میں اس کو بخش دوں !کیا ہے کوئی رزق چاہنے والا کہ میں اس کو رزق عطا کروں! کیا ہے کوئی مصیبت کا مارا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں! یہ سلسلہ صبح فجر تک جاری رہتا ہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اس حدیث مبارکہ سے محدثین نے پندرھویں شب میں قیام و عبادت اور دن کا روزہ رکھنا کی طرف اشارہ فرمایا اور حدیث شریف کے مطابق اللہ تعالی اپنی رحمت کی صفت کو نزول اجلال فرمارہے ہیں اور صفت رحمت کی عام تجلی فرمائی جارہی ہے۔

شب برأت میں گنہگاروں کو بخشش کا پروانہ
برأت کے معنی چھٹکارہ پانے کے ہیں۔ اس رات میں اللہ تعالی قبیلہ بنو کلب کے بکریوں کے بالوں کے برابر امت محمدیہ کے لوگوں کی بخشش و مغفرت فرماتے ہیں۔ اس مقدس رات میں گنہگاروں کو بخشش کا پروانہ مل جاتا ہے۔ نیک بختوں،سعادت مندوں اور نمازیوں کو قرب حق کی خوشخبری مل جاتی ہے جو بندگانِ خدا دربارِ الٰہی میں حاضر رہتے ہیں ان پر رحمتوں کی بارش نازل ہوتے رہتی ہے اور جواس کی طرف ہمہ تن لو لگائے رہتے ہیں انہیں رب العالمین کی طرف سے درجہ قبولیت کا عہد نامہ مل جاتا ہے۔ چنانچہ شب براء ت میں اذکار وظائف،عبادات و تلاوت،ذکر و اذکار میں مشغول رہنا۔ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔

موت و حیات و تقسیم رزق کے فیصلہ کی رات
اللہ تعالیٰ ہر سال شب برأت میں سال بھر کے تمام علیحدہ علیحدہ احکامات اور فیصلہ جات فرشتوں کے ذمہ فرما دیتے ہیں۔ فرشتے لوحِ محفوظ سے تمام احکامات حاصل کرلیتے ہیں۔ چنانچہ جس میں لکھا ہوتا ہے کہ اس سال کون پیدا ہوں گے،کون دنیاسے رخصت ہونگے،کس کو کتنا رزق ملے گا، کس کی عمر میں اضافہ ہوگا، ہر ایک کا حساب و کتاب فرشتوں کے ذمہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مقدس رات جو ہمارے فیصلے کی رات ہے ہم اپنا قیمتی وقت مساجد میں عبادتوں میں گذاریں، ذکر و اذکار تلاوت قرآن میں مصروف رہیں۔ کثرت سے استغفار طلب کریں۔ خوب اللہ پاک کی حمدو ستائش بیان کریں۔

بعض گنہگار اس رات بھی محروم
حضرت ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا رسول اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ شب برائت میں بندوں کی طرف مغفرت اور رحمت کی تجلی فرماتا ہے لیکن مشرک و کینہ پرور کے سواء تمام بخش دےئے جاتے ہیں۔ چنانچہ محدثین فرماتے ہیں کہ اس رات بعض گنہگاروں کی مغفرت نہیں ہوتی جو گناہ کبیرہ کامرتکب ہوتے ہیںیعنی والدین کے نافرمان، شرابی، زانی، کینہ پرور،غیبت کرنے والا، حرام کاری کرنے والا اور مسلسل گناہ کرنے والا،بد عقیدہ،رشتہ داری کا ٹنے والا،یقیناًیہ رات مغفرت و بخشش کی رات ہے۔ اللہ پاک ہر بندہ کی مغفرت و بخشش فرماتے ہیں، لیکن چند گنہگار ایسے ہیں جو محروم رہتے ہیں، لیکن وہ بھی اس رات کو صدق دِل سے توبہ کرلے اور اپنے گناہوں پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کرے تو یقیناًاللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔

شب برأت میں زیارت قبور
قبروں کی زیارت کرنا مستحب ہے حکم مطلقاً ہر خاص و عام ہے احادیث شریفہ میں زیارت قبور سے متعلق عام اجازت ہے لیکن بطور خاص شب برأت میں زیارت کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت سیدنا عائشہ صدیقہؓ سے روایت مروی ہے کہ اُم المؤمنینؓ نے فرمایا: میں ایک رات حضور اکرم ؐ کو نہ پائی۔ میں نکلی اور دیکھا کہ آپؐ بقیع ( قبرستان) میں تشریف فرما ہیں۔ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کیا تمہیں اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تم پر زیادتی کریں گے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے خیال کیا کہ آپ کسی اور زوجہ مطہرہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں تو حضور اکرمؐ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ شب برأت کو آسمان دُنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ چنانچہ اس رات میں حضور اکرم ؐ کا بقیع (قبرستان) تشریف لیجانا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات زیارت قبور کو جانا مسنون عمل ہے۔

Comments

comments