Tuesday , 22 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدارِ الٰہی و شرفِ ہم کلامی کا اعزاز
سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدارِ الٰہی و شرفِ ہم کلامی کا اعزاز

سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدارِ الٰہی و شرفِ ہم کلامی کا اعزاز

معراج النبیؐ کا بے مثال معجزہ بیداری کے عالم میں جسم مبارک کے ساتھ 27 رجب المرجب کی شب وقوع پذیر ہوا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ کی عمرمبارک لگ بھگ اکیاون برس آٹھ ماہ بیس دن تھی۔ یہ نبوت کا بارھواں سال تھا۔ واقعہ معراج المومنین حضرت خدیجہؓ کے وصال کے بعد ظہور پذیر ہوا۔
قرآن حکیم نے پندرھویں پارے کی ابتداہی اس آیۃ مبارکہ سے فرمائی جس میں اسرا و معراج کا ذکر ہے:’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے (خاص) بندے کو راتوں رات لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم الشان نشانیاں دکھائیں۔ بے شک و سنتا اور دیکھتا ہے۔ (پ ۱۵رکوع ۱)
سفر معراج کی دوسری منزل کا ذکر سورہ نجم میں کیاگیا ہے :’’اور اس بندے نے اللہ عزو جل کو دیکھا ایک (خاص) نزول کے ساتھ جب وہ بندہ ’’سدرۃ المنتہی‘‘ کے نزدیک موجود تھا نہ نگاہ جھپکی، نہ حد سے تجاوز ہوئی، بلا شبہ آپ ؐ نے شب معراج اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔‘‘ لیلہ کے معنی رات اور معراج کے معنی بلند کے ہیں۔ یہ رات اس لئے بابرکت اور عروج کی رات ہے کہ رسول کریم ﷺ نے آسمانوں کی سیر فرمائی اور اللہ رب العزت کی تجلی سے سرفراز ہوئے۔
بعض مفسرین نے اصطلاحی امتیاز کیلئے مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس کی سیر کو ’’اسرا ‘‘ اور بیت المقدس سے عرش بریں تک کے سفر کو ’’معراج‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس سفر مبارک میں رسول کریمؐ سب سے پہلے مسجد حرام سے مسجد اقصی اور پھر اس کے بعد آسمانوں کی سیر کیلئے تشریف لے گئے۔ قرآن حکیم نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ باوجود اتنے بڑے اعزام و اکرام کے نبی کریمﷺ کی عبدیت میں کوئی فرق نہیں آیا اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم نے نبی کو وہ اعزاز بخشا جو آپ سے پہلے کسی اور کونہ دیا۔
کتب احادیث میں اس طرح مذکور ہے کہ ایک شب سید الانبیاء ﷺام ہانیؓ کے مکان میں استراحت فرما رہے تھے کہ نیم خوابی کی حالت میں یکایک چھت شق ہوئی اور وہاں سے جبرائیل امین مع دیگر ملائکہ آئے، آپ کو بیدار کر کے مسجد حرام لے گئے۔ زم زم کے کنویں پر لا کر سینۂ اطہر چاک کیا۔ قلب مبارک کو دھویا۔ سونے کے طشت سے ایمان و حکمت آپؐ کے قلب اطہر پر منتقل کردیا۔ پھر دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگائی اور براق پر سوار کر کے آپ کو ساتھ لے گئے۔
امام مسلم نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:’’ میرے پاس ایک براق لایا گیا جو سفید رنگ کاتھا۔ وہ اتنا تیز رفتار تھاکہ جتنی دور انسانی نظر پڑتی ہے، اتنی دور اس کا ایک قدم پڑتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوگیا اور بیت المقدس آیا، پھر اسے اس پتھر کے ساتھ باندھا جس پتھر کے ساتھ دیگر انبیائے کرام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ وہاں تمام انبیائے کرام موجود تھے، ان کی امامت کی۔ اس کے بعد ہم آسمان پر پہنچے۔ ہر آسمان پر انبیائے کرام سے ملاقات ہوئی۔ سبھی نے مجھے دعائیں دیں۔‘‘ آخر میں سید الانبیاء ﷺ نے خدا وند قدس کے حضور حاضر ہوکر یہ حمد و ثناء کی:’’ تمام تعریفیں اس اللہ کی جس نے مجھے جہاں بھر کیلئے رحمت بناکر بھیجا اور لوگوں کیلئے بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا بناکر بھیجا اور مجھ پر قرآن حکیم نازل کیا جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور میری امت کو درمیانی بنایا اور میری امت کو بتایا کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ پھر میرے سینے کو کھولا اور دور کیا مجھ سے میرا بوجھ اور بلند کیا میرے لئے میرا ذکر اور مجھے فاتح اور خاتم بنایا۔‘‘ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:’’ اے محمد ! اس بنا پر اللہ تعالی نے آپ کو سب سے افضل قرار دیا۔‘‘
رسول کریمؐ فرماتے ہیں: ’’اس کے بعد مجھے سدرہ المنتہی تک لے جایا گیا،یہاں اللہ تعالی نے مجھ پر جو وحی چاہی عطا فرمائی۔‘‘ پھر نبی کریم ؐ نے فرمایا : ’’رایت نورا‘‘ (یعنی میں نے اس نور کو دیکھا) پھر وہ کار خاص جس کے لئے بارگاہ خدا وندی میں حاضری کیلئے بطور خاص فرش سے عرش پر طلب کیاگیا تھا، ان امور کی وحی ہوئی۔ اس موقع پر جو احکامات جاری فرمائے گئے ان میں چند یہ ہیں:
* ہر روز پچاس نمازوں کی فرضیت کا حکم ہوا جو آپ ؐ کی بار بار استدعا پر گھٹتے گھٹتے پانچ رہ گئیں لیکن گنتی میں کمی کے باوجود ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہے۔
* تمام گناہوں کے قابل معافی ہونے کا امکان لیکن شرک کے ناقابل معافی جرم ہونے کا یقین دلایا گیا۔
* نیکی کی نیت پر ایک نیکی کا ثواب اور اس کے عمل کرنے پر دس گناہ ثواب، اسی طرح گناہ کی نیت پر براء ت لیکن اس پر عمل کرنے پر ایک ہی گناہ نامہ اعمال میں لکھے جانے کی خبر دی گئی۔
انکے علاوہ اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کی تعمیر و تشکیل کیلئے چودہ نکات پیش کئے گئے جو سورہ بنی اسرائیل کی 23 تا 29 آیات پر مشتمل ہیں۔ یہ نکات ایک مضبوط،متوازن اور دیرپا معاشرے کے قیام،بقاء اور استحکام کیلئے ناگزیر ہیں۔
بعدازاں رسولِ اکرم ﷺ واپس بیت المقدس پہنچے او رجن انبیائے کرام کیساتھ مختلف آسمانوں پر آپؐ کی ملاقات ہوئی تھی، وہ سب اور جملہ ملائکہ بھی آپؐ کو رخصت کرنے کیلئے مسجد اقصی تک آپؐ کے ہم سفر رہے۔ قرآن حکیم کے ارشادات اور احادیث مبارکہ سے یہ بالکل واضح ہے کہ یہ معراج جسمانی ہوئی تھی، صرف روحانی نہیں ہوئی کیونکہ اگر صرف خواب ہوتا تو وضاحت سے ’’منام‘‘ کا لفظ آتا جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعات میں ہے۔ معراج النبیؐ کاواقعہ اس لئے پیش آیا کہ فخر کائنات رحمۃ اللعالمین ﷺ اللہ تعالی کی علامات کا بہ ذات خود اپنی نگاہ مبارک سے مشاہدہ فرمالیں چنانچہ اس کا مشاہدہ خوب ہوا۔ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں بیان فرمایا: ’’بے شک ! وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ یہ بھی واضح ہوگیاکہ سماعت ہو یا بصارت سب ہمارے دست قدرت میں ہے۔ اگر ہم بشر کوعزت دینے پر آئیں تو فرش سے عرش پر بلا لیتے ہیں اور ایسی علامات کا مشاہدہ کراتے ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔‘‘ شب معراج اس بات کی یاد تازہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جس کیلئے بطور خاص آپ کو آسمانوں پر طلب کیا گیا۔ آج بھی واقعہ معراج کے پیغامات اسلامی معاشرے اور ریاست کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا سکتے ہیں بشرط یہ کہ ہم سوچیں، سمجھیں اور صدق دل سے ان پر عمل کریں۔ معراج النبیؐ کی اصل اہمیت اس کی کیفیت کی جزئیات میں کھوجانے میں نہیں بلکہ معراج ایک عظیم ترین معجزہ ایک عظیم ترین واقعہ اور ایک عظیم ترین پیغام ہے جو ایک عظیم ترین شخصیت یعنی محمد مصطفی سرور دو جہاں ﷺ کے ساتھ فرش اور عرش کے درمیان خالق دوجہاں کے حکم سے پیش آیا۔
ماہِ شعبان کی فضیلت و برکت
ماہِ شعبان کے پہلے دن کا روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ یکم شعبان کو روزہ رکھنے والے کیلئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ سید ابن طاؤس نے حضرت رسول ﷺ سے نقل کیا ہے کہ شعبان کے پہلے تین دن کا روزہ رکھنے اور پہلی تین راتوں میں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب بہت زیادہ ہے، دو رکعت نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جب یکم شعبان ہوتی ہے تو بہشت کے دروازے کھول دےئے جاتے ہیں، شجر طوبی کو حکم ہوتا ہے کہ اپنی شاخیں پھیلائے اور انہیں زمین کے قریب کرے، خدا کا ایک منادی یہ ندا دیتا ہے کہ اے خدا کے بندو اور اے نیکو کار لوگو! طوبی کی ان شاخوں سے لپٹ جاؤ کہ وہ تمہیں اُٹھاکے جنت میں لے جائیں جبکہ بدکاروں کیلئے ایک دوسرا درخت ہے اور ڈرتے رہو کہ کہیں اس کی شاخیں تمہیں جہنم میں نہ لے جائیں۔
حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھ کو حق کے ساتھ رسالت پر مبعوث فرمایا کہ جو یکم شعبان کے دن نیکی کرے تو وہ طوبی کی شاخ سے لپٹ گیا اور وہ اسے جنت میں لے جائے گی۔ جو آج کے دن کوئی برائی کرے تو وہ تھوہر کی شاخ سے لپٹ گیا اور وہ اسے جہنم میں لے جائے گی۔ پھر فرمایا جو آج کے دن نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو وہ بھی شاخ طوبی سے لپٹ گیا اس طرح جو شخص آج کے دن باپ بیٹے میں صلح کرائے۔ میاں بیوی میں سمجھوتہ کرائے، رشتہ داروں میں راضی نامہ کرائے یا اپنے ہمسائے یا کسی اجنبی میاں بیوی میں مصالحت کرائے تو وہ بھی شاخ طوبی سے لپٹ گیا۔ جو مقروض کی پریشانی کم کرے یا طلب میں تخفیف کرے تو وہ شاخ طوبی سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن اپنے حساب پر نظر کرے اور دیکھے کہ ایک پرانا قرضہ ہے جسے مقروض ادا نہیں کرسکتا۔ پس وہ اس قرضے کو حساب میں سے کاٹ دے تو وہ طوبی کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی یتیم کی کفالت کرے کسی جاہل کو مومن کی ہتک کرنے سے باز کرے تو وہ بھی شاخ طوبی سے لپٹ گیا۔ جو قرآن کی تلاوت کرے، مریض کی عیادت کرے، خدا کا ذکر کرے اور خدا کی نعمتوں کا نام لے لے کر اس کا شکر ادا کرے تو وہ بھی طوبی کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ بھی طوبی کی شاخ سے لپٹا، جو اس سے پہلے کسی کو غضب ناک کرچکا ہو اور آج اسے راضی اور خوش کردے تو وہ بھی شاخِ طوبی سے لپٹا جو شخص جنازے کیساتھ چلے تو وہ بھی طوبی کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی مصیبت زدہ کی دلجوئی کرے وہ شاخ طوبی سے لپٹا اور جو شخص آج کے دن کوئی بھی نیک کام کرے تو وہ شاخ طوبی سے لپٹ گیا۔
اسکے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھ کو رسالت پر مامور کیا ہے کہ جو شخص آج کے دن شروبدی کا کوئی بھی کام کرے تو وہ زقوم (تھوہر) کی شاخوں سے لپٹ گیا اور وہ اسے جہنم کی طرف کھینچ لے جائیں گی۔ پھر فرمایا کہ قسم ہے مجھ کو اس ہستی کی جس نے مجھے پیغمبر قرار دیا کہ جو شخص بھی آج کے دن واجب نماز میں کوتاہی کرتے ہوئے اسے ضائع کرے تو وہ بھی شجر زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جسکے پاس کوئی فقیر ناتواں آئے کہ جس کی حالت کو یہ جانتا ہے اور اس کی حالت کو بدل بھی سکتا ہے کہ خود اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچتا۔ نیز اس غریب کی مدد کرنے والا کوئی دوسرا شخص بھی نہ ہو پس اگر وہ اس درماندہ کو اس حالت میں چھوڑ دے اور وہ ہلاک ہوجائے تو یہ مدد نہ کرنے والا زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے سامنے کوئی بدکار آدمی معذرت کرے اور پھر بھی وہ اس کو اس کی برائی کی سزا سے کچھ زیادہ سزا دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص آج کے دن میاں بیوی یا باپ بیٹے یابھائی، بھائی یا بھائی بہن یا کسی قریبی رشتہ دار یا ہمسائے یا دو دوستوں میں جدائی اور غلط فہمی پیدا کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جو شخص کسی تنگ دست پر سختی کرے کہ جس کی حالت کو جانتا ہے اور اس کی مصیبت میں اپنے غصے سے اور بھی اضافہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جس پر کسی کو قرض ہو اور یہ اس کا انکار کردے اور اپنی عیاری سے اس قرض کو باطل ٹھہرادے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جو شخص کسی یتیم کو اذیت دے۔ اس پرستم توڑے اور اس کے مال و متاع کو ضائع کردے تو وہ بی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا اور جو شخص کسی مومن کی عزت کو بٹہ لگائے اور دوسروں کو ایسا کرنے کیلئے شیہ دے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص اس طرح گانا گائے کہ لوگ اس کے گانوں سے گناہوں میں مبتلا ہوں تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا اور جو شخص دوران جنگ میں کئے ہوئے اپنے برے کاموں اور اپنے ظلم و ستم کے دوسرے واقعات لوگوں میں بیٹھ کر فخر یہ طور پر سنائے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص اپنے بیمار ہمسائے کو کم تر تصور کرتے ہوئے اسکی عیادت نہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا اور جو شخص اپنے مردہ ہمسائے کو ذلیل سمجھتے ہوئے اسکے جنازے کے ساتھ نہ جائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص کسی ستم رسیدہ سے بے رخی برتے اور اسے پست خیال کرتے ہوئے اس پر سختی کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا اور جو شخص اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کا نافرمان ہوجائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن سے قبل اپنے ماں باپ کا نافرمان ہو اور آج کے دن ان کو راضی و خوش نہ کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ نیز جو بھی شخص ان برائیوں کے علاوہ کسی اور بدی و گناہ کاارتکاب کرے تو وہ بھی درخت زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ آنحضرت نے مزید فرمایا: ’’قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس نے مجھ کو نبی و پیغمبر بنایاکہ جو لوگ درخت طوبیٰ کی شاخوں سے لپٹے ہوں گے، وہ انہیں اُٹھاکر جنت میں لے جائیں گے‘‘۔ اسکے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے چند لمحوں کیلئے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی تو آپ خوش ہوئے اور ہنسے، پھراپنی نگاہ زمین پر ڈالی اور آپ کاچہرۂ مبارک کچھ ترش ہوا۔

صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت اور طریقہ
شب معراج میں علاوہ نوافل کے صلواۃ التسبیح بھی پڑھی جاتی ہے اسی لئے یہاں صلوۃ التسبیح کی فضیلت اور اس کا طریقہ بیان کیا جاتا ہے۔ صلوۃ التسبیح کا طریقہ یہ ہے کہ صلوۃ التسبیح کی نیت سے چار رکعت اس طرح ادا کریں کہ تکبیر تحریمہ و ثناء کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے: ’’سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر‘‘ پر تعوذ، تسمیہ،سورہ فاتحہ اور ضمہ سورہ کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے، پھر رکوع کرلے اور سبحان ربی العظیم کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے، رکوع سے سر اٹھا کر تسمیع و تحمید (سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد ) کے بعد قومہ میں دس بار تسبیح پڑھے، پھر پہلے سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دوسرے سجدہ میں بھی ’’سبحان ربی الاعلی‘‘ کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دوسرے سجدہ سے کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھے، تمام ارکان میں اس طرح تسبیح پڑھنے سے ہر رکعت میں 75 اور چار رکعتوں میں 300 تسبیحات ہوتے ہیں، اسی طرح چار رکعتیں مکمل کر کے سلام پھیردے۔

Comments

comments