Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » پیام عید
پیام عید

پیام عید

مقدس ماہِ رمضان ہم سے رخصت ہوچکا ہے۔ اللہ کی رحمتوں، برکتوں، مغفرتوں سے بھرپور اس ماہ مقدس کی جس نے قدر کی اور نیکیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی، یقیناًاس کی دعا ئیں خالی نہیں جائیں گی اور اس کو وہ اجر و ثواب ضرور ملے گا جس کا کہ وعدہ کیاگیا ہے۔ اس مقدس ماہ رمضان کی اہمیت کو جس نے سمجھا، روزے رکھے، تراویح ادا کی، قرآن کی تلاوت کی اور احکامِ خداوندی کو سمجھنے کی کوشش کی، وہ کامیاب رہا اور جو غفلت میں پڑے رہے، ان کی خود خدا بھی کوئی مدد نہیں کرتا۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنے والوں کیلئے عید صحیح معنوں میں ایک ایسا دن جیسا کہ ایک سخت امتحان کے بعد کسی کو انعام دیا جاتا ہے۔ اس انعام حاصل کرنے والے کو جتنی خوشی ملتی ہے رمضان کا احترام کرنے والے کو بھی عید کے دن اتنی ہی خوشی ملتی ہے۔ ماہ رمضان روزے رکھنے،قرآن پڑھنے اورعبادتیں کرنے کے علاوہ ایک ایسا موقع بھی ہے جس میں اِسلام کے ایک اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعہ ان مسلمانوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کا موقع دیا جاتا ہے جو غربت کی وجہ سے نئے کپڑے خریدنے سے قاصر ہیں یا اچھے اور لذیذ کھانوں سے محروم ہیں۔ صدقہ، فطر کے ذریعہ بھی اس مہینہ میں غریبوں کی مدد کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ دِین کی ان باتوں کو سمجھ کر مستحق افراد کی مدد کر کے ان کو خوشیوں میں شامل کرنے سے عید کی خوشیاں دوبالا ہوجاتی ہیں، تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ شروعات اپنے قریبی رشتہ داروں سے کریں، پھر پڑوسی، پھر دوسرے کا خیال کریں اگر آپ کا کوئی رشتہ دار یا پڑوسی عید کے دن پرانے کپڑے پہنتا ہے اور آپ زکوٰۃ وغیرہ کی رقم کسی اور کو دے رہے ہیں تو یہ اللہ کو ناگوار گذرے گا۔ رشتہ داروں اور پڑوسی کا حق پہلے ہوتا ہے ان دنوں دینی مدارس کو زکوٰۃ وغیرہ دینے کے معاملے کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے اسی لئے دینی مدارس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی ان کی مدد کریں جن اداروں کی دینی خدمات سے آپ واقف ہیں پہلے ان کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ماہِ مقدس کو اس لئے عبادتوں کیلئے مخصوص کردیا کہ ہم اپنی ساری سرگرمیوں کو ترک کرکے خود کو اللہ کی طرف رجوع کریں۔ جن قوموں نے اللہ تعالیٰ سے دُوری اختیار کی، اللہ نے ان پر سخت عذاب نازل فرمایا اور ان کو تباہ کردیا لیکن اُمتِ محمدیہ ؐ کو حضور اکرمﷺ کی دعاؤں کے نتیجہ میں سخت عذاب سے دور رکھا گیا ہے لیکن آج ہم جو اُمت مسلمہ کی تباہی و بربادی دیکھ رہے ہیں، وہ ہماری اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات سے دوری،حرام کاموں کو جائز سمجھنا،صلہ رحمی کو ترک کرنا، مسلکی اختلافات کے نام پر ایک دوسرے کو کافر قرار دینا، رمضان کے مہینہ میں بھی قتل و غارت گیری سے باز نہ آنا جیسی کئی ایک وجوہات ہیں جب ہم اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنی حکمت عملی اور منصوبوں کو کامیاب ماننے لگتے ہیں تو اللہ غیروں کی حکمت عملی اور منصوبوں کو کامیاب بنانے لگ جاتے ہیں اس طرح دین سے دوری اختیار کرنے والے مسلمانوں کے دلوں میں غیروں کا خوف پیدا ہوجاتا ہے جبکہ اللہ سے ڈرنے والا مسلمان کسی سے نہیں ڈرتا ہے۔ امت مسلمہ کو تقسیم کیا جارہا ہے تا کہ اس کو کمزور سے کمزور کردیا جائے۔ ہر دور میں غیروں کا مقصد یہی رہا ہے کہ مسلمانوں اور اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے مسلمان مٹتے گئے لیکن اسلام نہیں مٹ سکا، اسی لئے اسلام کے نام پر بہت سی ایسی باتوں کو پھیلا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جہاد کے نام پر گروپ قائم کر کے مسلم نوجوانوں کو بھٹکانے اور ان کو خود مسلمانوں کی تباہی کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان سازشوں کو کامیاب بنانے میں ہمارے مسلم ممالک کی کوتاہی کا بھی دخل ہے اسی لئے مسلم ممالک تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ آج بشمول سعودی عرب کوئی ملک محفوظ نہیں ہے۔ داعش، القاعدہ اور ایسے متعدد گروپس صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنارہے ہیں۔ مشرق وسطی شیعہ۔ سنی کے نام پر تقسیم ہوچکا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی گروپ بندیاں مسلک کے نام پر ہوچکی ہیں۔ پہلے بھی جماعتیں ہوا کرتی تھیں لیکن اختلافات منظر عام پر نہیں آتے تھے۔ جماعتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اختلافات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ایک اللہ، ایک رسولﷺ کو ماننے والی قوم اپنے کلمہ گو بھائی کو دشمن کی نظرسے دیکھ رہی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے ہمارے علماء کرام کا یہ فریضہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کو مزید تقسیم سے بچائیں اور اتحاد کیلئے کوشش کریں۔ آج لاکھوں کی تعداد میں مسلمان یوروپ اور مغربی تہذیب والے ممالک میں دردر بھٹک رہے ہیں چرچ سرگرم ہے ان کو عیسائیت میں شامل کرنے کیلئے اگر مصائب اور آلام سے تنگ آکر یہ بھٹکے ہوئے لوگ اگر اپنا مذہب تبدیل کردیتے ہیں تو اس کی ذمہ داری امت مسلمہ پر آئے گی۔ یہی نہیں، اگر ان اختلافات، افراتفری کو دور کرنے کی ہم نے اپنے طور پر کوشش نہیں کی، تب بھی ہم روز قیامت اللہ کو جواب دہ ہوں گے۔

Comments

comments