Wednesday , 12 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » جشن آزادی مبارک
جشن آزادی مبارک

جشن آزادی مبارک

ہندوستان‘ سیکولر‘ آزاد اور جمہوری وسیع ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے افراد رہتے ہیں۔ آج سے70سال قبل ہمارا ملک جسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا‘ انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا تھا۔ انگریز‘ہمارے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے تھے، ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ پالیسی پر کام کرتے ہوئے ہندوستان کے قدرتی وسائل کو تباہ کررہے تھے ہمارے ملک کے مجاہد عوام نے انگریزوں کے ظلم و استبداد کے خلاف آواز اُٹھائی۔ انگریزوں کی گولیاں اپنے سینوں پر کھائیں مگر ان ظالموں کے آگے نہیں جھکے۔ ملک کی آزادی کیلئے1857سے1947تک طویل لڑائی لڑی گئی ملک کے طول و عرض میں ہندو‘مسلم‘سکھ اور عیسائیوں نے کندھے سے کندھا ملا کر تحریک آزادی میں حصہ لیا۔ ہزاروں علمائے حق اور لاکھوں کی تعداد میں عوام نے ملک کی آزادی کی خاطر جام شہادت نوش کیا۔ تحریک آزادی کے جذبہ کو ختم کرنے کیلئے انگریزوں نے ہندوستانیوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے مگر ان جیا لوں نے اپنے مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے آزادی کیلئے مسلسل لڑتے رہے بالاخر انگریزوں نے 15؍اگست 1947 کو ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ہم انگریزوں کی غلامی کا طوق اپنے گلے سے نکال پھینکنے میں کامیاب ہوگئے۔ ملک کو آزاد ہوئے کم و بیش70برس ہوچکے ہیں۔ ہمارے قائدین ے یہ خواب دیکھا تھا کہ آزادی کے بعد ملک کے عوام خوشحال ہوجائیں گے‘عوام کے تمام طبقات کو انصاف ملے گا۔ ہر کمزور کو اس کا حق ملے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہم نے کئی شعبہ جات میں ترقی کی جست لگائی مگر دوسری جانب ملک کے طول و عرض میں تعصب‘نفرت نا انصافی‘چھوت چھات‘قتل وغارت گری اور دیگر سماجی برائیوں کا بول بالا ہوا ہے۔ اقلیتوں اور دلتوں کی زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ کو ہنوز نہیں سلجھایا گیا اس مسئلہ کو پیچیدہ بنائے رکھتے اور اس کو زندہ رکھنے میں جہاں اس میں ہماری سیاسی مجبوریاں ہیں وہیں ہمارے دوست نما دشمن ممالک کا مفاد بھی وابستہ ہے۔فرقہ پرست عناصر اور جرائم میں ملوث افراد کی قانون ساز اداروں تک رسائی حاصل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ہمارا سیاسی‘سماجی اور تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ سیکولر تانے بانے بکھرتے جارہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں عدم برداشت اورخود ساختہ گاؤ رکھشکوں کی غیر قانونی سرگرمیوں سے ملک کی بد نامی ہوئی ہے۔ گائے کا گوشت کھانے اور کھنے کے شبہ میں فرقہ پرست عناصر‘معصوم افراد کو ہلاک کررہے ہیں اس طرح کے واقعات ملک کے طول و عرض میں ہر روز دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں اس سلسلہ میں حتیٰ کہ خواتین کو زدوکوب کیا جارہا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے وابستہ افراد کے سامنے انجام دی جارہی ہیں انسداد دہشت گردی کے نام مخصوص فرقہ کے نوجوانوں کو پابند سلا سل کیا جارہا ہے۔ برسر عام دلت نوجوان اور خواتین کو پیٹا جارہا ہے یہ سب مخصوص نظریات کو تھوپنے اور ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کے مقصد سے کیا جارہا ہے جس سے ہمارے ملک کی بنیاد کمزور ہورہی ہے۔ آیا ہمارے قائدین اس لئے انگریزوں کے خلاف سینہ سپر ہوئے تھے۔ کیا لاکھوں افراد نے اس آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ہر عقلمند اور کھلے ذہن رکھنے والا یہی کہے گا کہ نہیں۔ ہندوستان کو پھر سے سونے کی چڑیا بنانے کیلئے ہمیں‘ان برائیوں‘فرقہ پرستی‘تعصب و نفرت کے ماحول کو ختم کرنا ہوگا انصاف رسانی کے عمل کو تیز تر بنانا ہوگا تا کہ ہر کمزور کو اس کا حق ملے۔ آزادی کے اس پر مسرت موقع پر ہم کو عہد کرنا ہوگا کہ مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں گے ہم ابنائے وطن کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا باعث بنیں گے۔ ملک کو کمزور کرنے والی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہونگے۔ ملک کے ادنیٰ اور اعلیٰ کے درمیان تفاوت‘ فرقہ پرستی‘ تعصب پرستی اور نفرت کے ماحول کو ختم کرتے ہوئے حقیقی ہندوستان کی تصویر کو دُنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

Comments

comments