Thursday , 15 November 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » ظلم کاانجام
ظلم کاانجام

ظلم کاانجام

کسی جنگل میں بہت سے پرندے رہا کرتے تھے ان میں ایک کوے کا جوڑا بھی شامل تھا۔کوے کے جوڑے میں آپس میں بہت پیارتھا۔ دونوں صبح چلے جاتے اور شام اپنے گھونسلے کوواپس آجاتے ان کا گھونسلہ ایک بڑے برگد کی پیڑ کی اونچی شاخ پر تھا۔ اس برگد کے نیچے بل میں ناگ سانپ رہا کرتا تھا۔ جو درختوں پر چڑھ کر پرندوں کے انڈوں اور ان کے بچوں کو کھا جاتا تھا تمام پرندے اس سانپ سے بہت پریشان تھے وہ کسی طرح اس سانپ سے چھٹکار ا چاہتے تھے۔ ایک دن مادہ اپنے گھونسلے میں انڈے دینے کے بعد غذا کی تلاش میں نر کے ساتھ چلی گئی شام میں جب واپس آنے کے بعد گھونسلے میں دیکھا تو انڈے غائب تھے نیچے دیکھا تو سانپ انڈے کھارہاتھا۔ چند دنوں بعد مادہ نے پھر انڈے دےئے اب دونو ں نے فیصلہ کیا کہ دونوں میں کوئی ایک ان انڈوں کی حفاظت کرے گا اور ایک غذا کی تلاش میں جائے گا۔ ان کی نگرانی سے سانپ گھونسلے تک نہیں آسکا۔ انڈوں میں سے بچے نکل آئے نر اور مادہ کوے بہت خوش ہوئے مگر انہیں سانپ سے شدید خطرہ لاحق تھا کہیں سانپ ان کے بچوں کو نہ کھالے۔ نرکوے نے ایک چال چلی وہ، قریب میں واقع محل گیا جہاں رانی رہتی تھی۔ صبح میں رانی زیورات پہن رہی تھی کہ کوے نے ایک قیمتی ہاراٹھالیا اور وہ کم بلندی پر پرواز کررہا تھا اس کے پیچھے سپاہی تھے جو اس سے ہارچھیننا چاہتے تھے۔ کوا اُڑ رہا تھا اس کے پیچھے سپاہی بھاگ رہے تھے۔ آخر کار کوے نے اپنی چونچ میں موجود سونے کے ہار کو سانپ کے بل میں گرادیا۔سپاہی خوش ہوگئے کہ ہماری محنت رنگ لائی اور کوا ہار چھوڑ کر چلا گیا،کوا، اوپر درخت پر بیٹھ کر سب دیکھ رہا تھا۔ سپاہی ہارنکالنے بل میں ہاتھ ڈالے تھے کہ سانپ باہر آگیا اور انہیں ڈسنے کی کوشش کرنے لگا مگر چوکس سپاہیوں نے اپنے بھالوں سے سانپ کے پھن پر حملہ کردیا جس سے سانپ مرگیااور سپاہی بل میں سے ہار نکال کر محل لئے گئے اور رانی کو حوالے کیا جس سے رانی بہت خوش ہوئی اور سپاہیوں کو انعام سے نوازا۔ ایک کوے کی دانش مندی سے پرندوں کوسانپ کے ظلم سے نجات ملی و دوسری طرف غریب سپاہیوں کو انعام بھی ملا۔ بچو! ہمیشہ دشمن کو ختم کرنے کیلئے غور و فکر کے بعد جو منصوبہ بنائیں اوراس پر عمل کریں کامیابی ضرور ملے گی۔

Comments

comments