Friday , 17 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » جذبہ قربانی
جذبہ قربانی

جذبہ قربانی

اللہ تعالیٰ نے جب دُنیا بسائی تو اس نے انسان کو تمام مخلوق میں اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔ انسان کی پیدائش پر جب فرشتوں نے سوال کیا کہ اس کی کیا ضرورت ہے، تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ پھر جب انسان کو بنایا گیا تو اس میں دل و دماغ کے ساتھ ساتھ جذبات اور احساسات بھی بھر دےئے۔ انسان بھائی چارہ، محبت، اخوت کا پتلہ کہلایا۔ اللہ نے انسانوں کو ایک ایسے جذبہ سے بھی سرفراز کیا جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ قربانی، ایک ایسا لفظ ہے، جو اگرچہ دیتا انسان ہے لیکن یہ وابستہ کسی اور سے ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت، لگاؤ اور وابستگی کے اظہار کیلئے دےئے جانے والے امتحان کا نام قربانی ہے۔ ہماری زندگی، ہماری عبادتیں، ہمارا ہر کام اس مالک حقیقی کیلئے ہے جس نے ہم کو انسان بناکر پیدا کیا۔ ہم زبانی طور پر اس سے محبت، وابستگی کا اظہار تو بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اس کا ثبوت دینا بھی ضروری ہے۔ اسی ثبوت کیلئے اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی مانگی آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے اس امتحان میں پورے اترے اور اللہ تعالی نے اپنی مہربانی سے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ رکھوادیا اور عام مسلمانوں پر اس کی تقلید لازم کردی۔ ہم مسلمان سنت ابراہیمی پر دل و جان سے عمل ضرور کرتے ہیں اور ہر عیدالاضحی پر قربانی کا اہتمام کرتے ہیں لیکن قربانی کے جذبہ کو سمجھنے کی اور نہ ہی اس کی اہمیت کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کو یاد رکھنا چاہئے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر ہماری نیت صرف محلہ والوں کو دکھانے کیلئے بیل، بھیڑ قربان کرنے کی ہے یا رشتہ داروں پر رعب جمانے کی ہے تو یہ عمل ضائع ہوجائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی سے اپنی وابستگی کیلئے اپنی سب سے محبوب شئے قربان کرنے کا نام ہی قربانی ہے۔ یعنی ہم کو یہ ثبوت دینا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں اپنی قیمتی شئے قربان کرنے کیلئے لمحہ بھر بھی نہیں سوچتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے اگر اللہ تعالی اگر حقیقتاً حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی مانگ لیتا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس قربانی کو دے دیتے اور اس پر عمل لازم ہوتا تو ہم سب کا کیا حال ہوتا لیکن اللہ تعالی نے جس کے رحم و کرم کی نہ کوئی مثال ہے نہ پیمانہ ہے ، ہم سے اتنی بڑی قربانی لینے کے بجائے اس کو ایک دنبہ میں بدل دیا ہے اور ہم اس قربانی کو دینے کیلئے بھی کئی مرتبہ سونچتے ہیں۔دراصل انسان کی زندگی ہرلمحہ قربانی مانگتی ہے۔ماں باپ کے لئے‘بیوی بچوں کے لئے‘دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے انسان کسی نہ کسی شکل میں قربانی دیتا ہی رہتا ہے۔ اگر ہماری کسی خواہش کی تکمیل کا معاملہ ہے تو ہم کچھ بھی قربان کر کے اپنی خواہش کی تکمیل کرلیتے ہیں لیکن جب راہ خدا میں خرچ کرنے کی بات آتی ہے تو بہانے تلاش کرتے ہیں۔ نفس کو مارنا بھی ایک طرح کی قربانی ہے۔ تاہم ایسی قربانیوں کیلئے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے انسانوں میں اسی جذبہ کو بیدار رکھنے کیلئے ہی اللہ تعالی نے قربانی کی سنت ابراہیمی کو ہمیشہ کیلئے زندہ کردیا ہے۔ہم صرف دنبہ قربان کرکے قربانی کا ثبوت نہ دیں بلکہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہیں۔امت مسلمہ آج جس دور سے گذر رہی ہے اس کا بیان مشکل ہے۔ اگر ایک بشارالاسد اپنے اقتدار کی قربانی دے دیتے تو لاکھوں شامی باشندوں کی زندگیاں بچ سکتی تھیں لیکن جہاں ہوس غالب آجاتی ہے وہاں قربانی کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ کشمیر کے لوگ اپنی خود اختیاری کیلئے جانیں قربان کررہے ہیں۔ہر مسلم ملک افراتفری کا شکار ہے۔ یکساں سیول کوڈ، ہمارے لئے لمحہ فکر ہے۔ کیا ہم آرام دہ زندگی کیلئے اسلامی اصولوں کو قربان کرسکتے ہیں؟۔

Comments

comments