Thursday , 15 November 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » غریب کی عید
غریب کی عید

غریب کی عید

کسی شہر میں ایک مشہور تاجر تھے ان کا نام آغا تھا۔ ان کے کاروبار کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ آغا سیٹھ کا ایک بیٹا تھا اس کا نام اقبال تھا ۔ وہ انجینئرنگ کی تکمیل کے بعد ایک بڑی سافٹ ویر کمپنی میں کام کرتا تھا ۔ وہ روزانہ کار سے دفتر جاتا اور دفتر سے اپنے گھر آتا ۔ راستہ میں ایک ندی کا پل ملتا تھا اس پل پر بہت سارے گداگر بھیگ مانگا کرتے تھے ۔ اس پل پر ایک کمسن معصوم لڑکا بھی غبارے بیچا کرتا تھا اس کا نام افضل تھا۔پُل پر سے گذرنے کے دوران اقبال کی نظر، ہر روز افضل پر پڑتی ایک دن ،اقبال دفتر سے واپسی کے دوران اپنی کار کو پل پر روکا اور افضل کے پاس پہونچا، اقبال کو دیکھتے ہی افصل بہت سارے غبارے لے کر ان کے پاس پہونچا اور کہنے لگا صاحب جی غبارے لے لو،غبارے لے لو ان سے آپ کے بچے کھیلیں گے اور میرا پیٹ بھی بھر جائے گا ۔ افضل کی یہ بات سن کر اقبال چونک گیا ۔ وہ ایک درجن غبارے لے کر اپنے مکان کی طرف چل پڑا راستہ تمام اسے افضل کی بات ہی ذہن میں گونجنے لگی ۔ اقبال کے ذہن میں کئی سوالات آنے لگے کہ افصل ابھی چھوٹا ہے اس کے پڑھنے کے دن ہیں مگر وہ پڑھنے کے بجائے غبارے فروخت کررہا ہے، ہر روز دفتر جاتے وقت اور واپسی کے دوران اقبال کی نظر ضرور افضل پر پڑتی ۔ اس کی کار کو دیکھ افضل غبارے لے کر آتا اور کہنے لگتا کہ صاحب جی ،غبارے لے لو،آپ کے بچے کھیلیں گے اور میرا پیٹ بھی بھرے گا،صاحب جی! غبارے لے لو! چند دنوں بعد اقبال نے ایک دن،دفتر سے واپسی کے دوران پل پر ٹھہر گیا اور افضل کو بلایا افضل دوڑکر اس کے قریب آیا اور سلام کر کے کہنے لگا صاحب جی! غبارے……..اقبال نے کہا کہ ٹھیک ہے بیٹا! میں لے لو گا مگر یہ بتاؤ آپ پڑھنا کیوں نہیں چاہے ۔ افضل نے کہا کہ صاحب جی! پڑھنے کی خواہش تو میری بھی ہے مگر کیا کروں! حالات ساتھ نہیں دیتے ۔ اقبال نے اس سے غبارے خریدنے کے بعد چلا گیا ۔ دوسرے دن اقبال پھر اس پل پر پہونچا جہاں افضل غبارے بیچ رہا تھا ۔ اقبال کو دیکھ کر افضل ، ان کے قریب آگیا ۔ تب اقبال نے کہاکہ بیٹا! میں آج آپ سے کچھ باتیں کروں گا آپ تیار ہیں!؟ افضل نے کہاں ! انجینئر اقبال نے پھر پوچھا! بیٹا آپ مزدوری کرتے ہوئے اسکول کیوں نہیں جاتے ۔ یہ سنتے ہی افضل کی آنکھوں سے آنسو کی لڑی گرنے لگی ۔ اقبال نے اسے پیار کیا اور ایک بسکٹ کا پاکٹ دینے کے بعد پوچھا بیٹا! کیوں اسکول نہیں جانا چاہتے ۔ افضل نے کہا کہ صاحب جی دراصل بات یہ ہے کہ میرے ابو ، ایک مزدور ہیں ، مزدوری کرتے ہیں مگر روزانہ کام ملنا ضروری نہیں ۔ ہم 8 بھائی ،بہن ہیں ۔ میں بڑا ہوں،تنگدستی کے سبب امی کی ابو سے لڑائی ہوتی رہتی ۔ ایک دن امی کی لڑائی سے تنگ آکر ابو گھر سے چلے گئے آج تک واپس نہیں آئے اس کے بعد میں غبارے بیچنے لگا، امی ،دوسروں کے گھروں میں پکوان کا کام کرتی ہیں۔ جبکہ میرا چھوٹا بھائی ایک دکان میں نوکر ہے تو دو ننھی چھوٹی بہنیں، پڑوسیوں کے گھروں میں جھاڑو دیتی ہیں۔ اس طرح ہمارے گھر کے افراد کی زندگی بسر ہوتی ہے ۔ عید قریب ہے ۔ میرے چھوٹے بھائی بہنوں کو نئے کپڑے خریدنے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے ۔ میں شام تک یہاں غبارے بیچتا ہوں پھر رات کے 12 بجے تک ایک ہوٹل میں کام کرتا ہوں ۔ہوٹل سے ملنے والی رقم سے میں اپنے بھائی بہنوں اور ماں کو نئے کپڑے خریدنا چاہتا ہوں! صاحب جی! ہم نے آج تک کسی بھی عید پر نئے کپڑے نہیں پہنے ،پڑوسیوں کے بچوں کے پرانے کپڑے دھوکر عید پر زیب تن کرلیتے ہیں،صاحب جی! کیا صرف امیروں کیلئے عید ہوتی ہے،غریب عید نہیں منا سکتا ؟کیا غریبوں کو عید منانے کا حق نہیں؟افضل کی باتیں سننے کے بعد اقبال کے آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑے ،اقبال نے اس معصوم کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ! بیٹا! آج سے میں آپکا چچا ہوں،اقبال ، افضل کو گھر لے گیا ، نئے کپڑے دےئے اور پیسے دے کر اس کے گھر چھوڑ آیا ۔ افضل نے سارا واقعہ اپنی امی کو سنایا ۔ اس کی امی نے اقبال کا شکریہ ادا کیا۔ افضل نے کہا کہ بہن جی، اپنے تمام بچوں کو ہاسٹل میں شریک کرائیں میں ان بچوں کا تعلیمی خرچ برداشت کروں گا ۔ ان پیسوں سے افضل اور اس کے گھر کے افراد نے خوشی سے عید منائی اور بعد عید،افضل اور اس کے تمام بہن بھائی تعلیم حاصل کرنے لگے ۔

Comments

comments