Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر انتشار کیوں؟
طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر انتشار کیوں؟

طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر انتشار کیوں؟

شریعت یا شرعی قانون کا راست تعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات سے ہے۔ اسلئے کوئی بھی مسلمان جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان اور یقین رکھتا ہے وہ ان احکام کی خلاف ورزی یا انحراف کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے عدالتوں کے ذریعہ شرعی قوانین میں مداخلت کی کوشیش بار بار کی جارہی ہیں۔ شاہ بانو کیس کو مسلمان ابھی تک فراموش نہیں کرپائے ہیں کہ اب طلاق ثلاثہ کا مسئلہ چھیڑ کر اُمت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر دوران ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈکی جانب سے عدالت میں داخل کردہ بیان میں واضح کردیا گیا ہے کہ عدالتیں شریعت میں دخل اندازی نہیں کرسکتیں لیکن حکومت کا یہ کہنا ہے کہ طلاق اور شادی سے متعلق قوانین میں پاکستان اور سعودی عرب اگر ترمیم کرسکتے ہیں تو ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں اس طرح کاسخت موقف کس طرح اختیار کیا جاسکتا ہے۔طلاق کے بارے میں قرآن مجید کی آیاتوں میں کافی وضاحت کے ساتھ بیان آیا ہے اس کے علاوہ چاروں آئمہ کی جانب سے اس کا خلاصہ بھی کیا گیا ہے تا ہم مسلمانوں میں طلاق کی اس شکل پر جس کو طلاق ثلاثہ یا بدعت بھی کہا جاتا ہے کافی اختلافات پائے جارہے ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں حکومت اس کو بہانہ بناتے ہوئے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوشیش تیز نہ کردے ایسی صورت میں کئی ایک شرعی قوانین زد میں آسکتے ہیں ایک سوال یہ بھی ہے کہ پورے ہندوستان میں کیا کوئی ادارہ یا عالم دین یا مسلم پرسنل لا بورڈکی جانب سے ایسے مسائل کا شکار افراد کو عدالتوں میں جانے سے روکنے اور ان کو مطمئن کرنے کیلئے دین کی روشنی میں حل تلاش کرنیکا کوئی راستہ نہیں ہے یہ تاثر پایا جارہا ہے کہ مسلمانوں میں پھوٹ اور انتشار پیدا کرنیوالی چند طاقتیں ناخواندہ یا کمزور عقیدہ کے حامل مسلمانوں کو اپنا آلہ کاربناتے ہوئے شریعت میں مداخلت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتی ہیں۔ مسلم خواتین کو یہ باور کروانے کی کوشیش کی جارہی ہیں کہ طلاق کا یہ طریقہ مرد کے پاس ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعہ وہ ان کا کام کسی بھی وقت تمام کرسکتا ہے۔ مسلم خواتین میں پیدا ہونیوالے اس غلط فہمی کو ختم کرنے کیلئے کیا طلاق کے بارے میں کوئی ٹھوس قانون نہیں بنایا جاسکتا ہے کہ طلاق اس طریقے سے دینا ہی جائز ہوگا۔ اگر غصہ میں یا کسی مفاد کیلئے یا کسی کے دباؤ میں آکر طلاق دیدی جائے تو اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔جیسا کہ ایک مسلک کے مطابق ایک ہی نشست میں اگر تین طلاق دی بھی جائے تو اس کو ایک ہی طلاق تصور کیا جائیگا۔ یہ تو علماء کے سمجھنے اور سمجھانے کی باتیں ہیں۔ ایک عام مسلمان شریعت کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کرسکتا لیکن عقیدے کی کمزوری کی وجہ سے یا پھر فریق کو سزا دینے‘ پریشان کرنے اس سے رقم حاصل کرنے کیلئے لوگ طلاق ثلاثہ کے معاملے کو علماء یا قاضی سے رجوع کرنے کے بجائے سیدھے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں صرف طلاق کا معاملہ ہی نہیں ہے جائیدادوں کی تقسیم کے معاملات بھی اب عدالتوں میں پہنچ رہے ہیں بہن ‘بھائی کے مساوی حصہ کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ شریعت میں بہن کا حصہ کم رکھا گیا ہے۔ کئی ایک معاملات ایسے ہیں جس میں پرسنل لا بورڈ کو اُمت مسلمہ کو انتشار سے بچانے کیلئے لچکدار موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بورڈ نے مسلم ‘خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ بورڈ پر اپنا مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے دستخطی مہم شروع کریں تا کہ حکومت ان معاملات کی آڑ میں پرسنل لا بورڈ کو ہی برخواست کرنے کا کوئی قدم نہ اُٹھائے۔سپریم کورٹ میں ایسے معاملات جب بھی سامنے آتے ہیں فوراً یکساں سیول کوڈ کی بات کرتی ہے۔حکومت نے بھی وزارت قانون کو اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ یکساں سیول کوڈ بی جے پی کے ایجنڈے میں موجود ہے اور وہ اس کو انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتی ہے ۔

Comments

comments