Wednesday , 12 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » احتیاط‘ علاج سے بہتر ہے!!

احتیاط‘ علاج سے بہتر ہے!!

ملک میں وہی ہورہا ہے جس کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔سنگھ پریوار کی سرپرستی میں چلنے والی حکومت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اگرچہ اقتدار کے حصول کیلئے ترقی کا نعرہ دیا تھا لیکن دو سال کے اندر ہی جب پارٹی کو دہلی اور بہار کے اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ محسوس کیا گیا نام نہاد مودی لہر دم توڑ رہی ہے تو بی جے پی نے اپنے چہرے سے ترقی کا نقاب اُتار کر پھینک دیا اور وہی یکساں سیول کوڈ اور رام مندر کا نعرہ پھر سے زندہ کردیا جس کے بارے میں مسلمانوں کو پہلے ہی خبردار کیا جاچکا تھا۔ حکومت اور سپریم کورٹ کی جانب سے طلاق ثلاثہ کے ایک ایسے مسئلہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جس کا تعلق اگرچہ پوری اُمت مسلمہ سے ہے لیکن اس مسئلہ کی وجہ سے استحصال کا شکار ہونے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے جب مسلمانوں کے جذبات کا معاملہ آتا ہے تو عدالتیں اور حکومت‘ اکثریت کی رائے اور مرضی کی بات کرتی ہے جو کہ جمہوریت کہلاتی ہے تا ہم ایسے معاملے میں اقلیت ‘ یعنی کم تعداد کی رائے کو ترجیح دے کر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر بحث شروع کئے جانے کے ساتھ ہی یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ کھڑا کردیا۔ اس صورتحال کو اُتر پردیش کے اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے جو کہ ملک کی سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم ریاست ہے۔ اس ریاست سے نہ صرف وزیر اعظم مودی بلکہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور کئی دوسرے کابینی وزراء نمائندگی کرتے ہیں اسلئے اگر اس ریاست میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو مودی کی ساکھ داؤ پر لگ جائے گی۔ اسلئے اکثریتی ووٹوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان کے اقلیتوں کیلئے یقیناًیہ امتحان کی گھڑی ہے اس صورتحال میں ہم کو سب سے پہلے اتحاد کی ضرورت ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومت کی مہم کے جواب میں ایک اور مہم شروع کی ہے۔ ہمارا اولین فرض ہے کہ ہم اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا تعاون کریں۔ ہماری خواتین کو اس مسئلہ پر باشعور بنائیں اور ان کی نمائندگی کو یقینی بنائیں۔ جہاں تک مسلکی اختلافات کاسوال ہے تو وہ تا قیامت تک برقرار رہیں گے اس کو آپسی مفاہمت سے دور کیا جاسکتا ہے لیکن اگر ان اختلافات کی وجہ سے حکومت اور عدالت کو قانون سازی کا موقع مل گیا تو یہ حدود اللہ سے تجاوز تصور کیا جائیگا اور روز قیامت اس کوتاہی کیلئے ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا اسلئے وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم کم سے کم اس بات پر کہ ہم کو اس مسئلہ پر حکومت کے موقف کی مخالفت کرنی ہے‘ اتحاد کا ثبوت دیں اور پرسنل لا بورڈ کو اپنا رہنما تصور کر لیں۔ دستور ہند نے ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی عقیدے پر چلنے کی اجازت اور آزادی دی ہے۔ حکومت ستی کی رسم کا حوالہ دے رہی ہے جبکہ عقیدہ اور توہم پرستی پر بہت فرق ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمان اس معاملے کو صرف علماء کا معاملہ سمجھ کر خاموش نہ رہیں بلکہ ہر مکتب فکر کے لوگ اپنی جگہ پر فورم بنائیں‘وکلاء فورم‘ڈاکٹر فورم‘پروفیشنلس فورم‘ٹیچرس فورم وغیرہ اور اس مہم میں پوری شدت سے شامل ہوجائیں کہ مسلمان شریعت میں مداخلت کوپسند نہیں کرتے۔ ہر تعلیمیافتہ اور باشعور خاتون پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحفظ شریعت کیلئے اپنا دست تعاون دراز کریں کیونکہ تحفظ شریعت کا معاملہ صرف مردوں کے کندھوں پر ہی نہیں بلکہ خواتین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے چونکہ یہ معاملہ ان سے ہی تعلق رکھتا ہے اسلئے خواتین کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے۔

Comments

comments