Thursday , 13 December 2018
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » اکبر کے نو (9) رتن (قسط10 )
اکبر کے نو (9) رتن	(قسط10 )

اکبر کے نو (9) رتن (قسط10 )

اکبر کے حالات زندگی میں اس کے9رتن کا تذکرہ خصوصیت سے ملتا ہے۔ انتظامی امور سے لے کر جنگی حکمت عملی تک اکبر ان کے مشوروں پر عمل کرتا تھا۔ تاریخ میں جن بادشاہوں کے پاس ایسے 9رتن یعنی 9وزراء کے ہونے کا ذکر ملتا ہے ان میں راجہ وکرما دتیہ اور راجہ کرشنا چندرا شامل ہیں۔ اکبر اگرچہ خود تعلیم یافتہ نہیں تھا لیکن وہ عالموں اور دانشوروں کی کافی قدر کرتا تھا۔ اکبر کے9رتن میں بیربل‘فیضی‘ٹوڈرمل‘مان سنگھ‘ عبدالرحیم خان خانخانہ‘تان سین‘فقیرایازالدین ‘ ابوالفضل ابن مبارک‘ اورملا دوپیازہ۔
بیربل: اکبر کے اس وزیر کا اصلی نام مہیش داس تھا۔ وہ ایک ہندو برہمن تھا۔ اکبر نے ایک دانشور‘شاعر اور گلوکار کی حیثیت سے بیربل کو1556میں اپنے دربار میں جگہ دی تھی۔ بیربل نے راجہ سے بہت قربت حاصل کی۔ اہم معاملات میں اکبر مشاورت کیلئے اس کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ بیربل کو کئی مقامی دیہی کہانیاں یاد تھیں وہ انتہائی چالاک بھی تھا۔1586میں بیربل کی قیادت میں شمال مغربی ہندوستان کیلئے ایک فوج بھیجی گئی تھی جو ناکام رہی اور بیربل اس لڑائی میں مارا گیا۔ بیربل 1528 میں یو پی کے ایک دیہات کالپی میں پیدا ہوا۔ سنسکرت اور فارسی میں تعلیم حاصل کی برہما کوی کے نام سے بیربل نے کئی ایک واقعات کو نظم کی شکل دی۔مختلف بادشاہوں کے دربار میں شاعر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بیربل کی اکبر سے ملاقات کی صحیح تاریخ میں تضاد ہے تاریخ داں 1556 سے1562کے درمیان کا وقت بتاتے ہیں اس کی چالاکی اور ذہانت سے خوش ہو کر اکبر نے اس کو راجہ کا خطاب دے کر اپنے 9رتن میں شامل کر لیا۔ اکبر نے اس کو اپنا مذہبی مشیر بھی بنایا تھا اور وہ دین الہی ٰ قبول کرنیوالا واحد ہندو تھا اکبر کے بھائی حکیم مرزا کی سرکوبی کیلئے کابل کی طرف بڑی فوج بھیجی گئی تھی جس میں بیربل بھی تھا۔اس وقت اکبر گجرات کی فتوحات میں مصروف تھا۔ بیربل اسی لڑائی میں مارا گیا۔
فیضی: شیخ ابو الفضل ابن مبارک کو ان کے قلمی نام فیضی سے پہچانا جاتا ہے۔1588میں اکبر نے ان کو ملک الشعراء کا خطاب بھی دیا تھا۔ وہ اکبر کی سوانح حیات لکھنے والے ابو الفضل کے بڑے بھائی تھے۔ اکبر نے ان کو اپنے بیٹوں کی تعلیم و تربیت کیلئے مقرر کیا تھا اور ان کے علم و دانشوری کی قدر کرتے ہوئے ان کو اپنے نو رتنوں میں شامل کر لیا۔ فیضی آگرہ میں پیدا ہوئے وہ شیخ مبارک کے بڑے فرزند تھے جو راجپوتانہ کے ناگور کے رہنے والے تھے۔شیخ مبارک یونان سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی تعلیمات میں مہارت رکھتے تھے1566میں اکبر کے دربار میں پہنچے اور اس کے بچوں کے استاد مقرر کیئے گئے۔اکبر نے1591میں ان کو اپنا سفیر بنا کر خاندیش اور احمد نگر بھی بھیجا تھا۔1594میں دکن سے واپسی کے چند برس بعد ہی فیضی دمہ کا شکار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ ان کا انتقال لاہور میں ہوا تاہم ان کو آگرہ کے رام باغ میں دفن کیا گیا تھا بعد میں ان کی نعش نکال کر سکندرہ لے جا کر دفن کیا گیا۔
ٹوڈرمل : راجہ ٹو ڈرمل اکبر کے وزیر خزانہ تھے وہ اُتر پردیش میں ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب وہ ابھی چھوٹے تھے۔ ٹوڈرمل پہلے شیر شاہ سوری کے دربار میں کام کرتے تھے جب مغلوں نے سوری خاندان کی حکومت کا خاتمہ کردیا تو ٹو ڈرمل مغلیہ خاندان کے وفادار بن گئے۔اکبر نے ان کو آگرہ کے انتظام کی ذمہ داری سونپی تھی بعد میں ان کو گجرات کا گورنر بھی بنایا گیا۔ انہوں نے بنگال اور پنجاب میں بھی مغلیہ سلطنت کا انتظام سنبھالا۔اکبر کے دور میں مالی امور کا انتظام انہوں نے اس خوش اسلوبی سے سنبھالا کہ اکبر نے ان کو خطاب دے کر اپنے نو رتنوں میں شامل کر لیا۔ ٹو ڈرمل کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اس نے بھگوت گیتا کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تھا۔ 1589 میں لاہور میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد اکبر اس کے ہی بیٹے کلیان داس کو اپنا وزیر خزانہ مقرر کیا۔
مان سنگھ(اول): یہ راجستھان کے امبر علاقہ کا راجپوت راجہ تھا۔ امبر کو موجودہ دور میں جئے پور بھی کہا جاتا ہے وہ اکبر سے صرف8برس بڑا تھا۔اکبر نے ان کو اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔خصوصاً مہارانا پرتاب سنگھ کے خلاف مان سنگھ نے کئی جنگوں میں مغلوں کی قیادت کی۔1580میں اکبر کی ان سیکولر پالیسیوں کی مخالفت شروع ہوگئی تھی۔ قاضی محمد یزدی نے مسلمانوں کو کھلے عام اکبر سے بغاوت کا مشورہ دیدیا تھا۔ انہوں نے اکبر کے بھائی مرزا حکیم کو کابل کا حکمراں مان لیا تھا۔ان کی سرکوبی کیلئے اکبر نے راجہ مان سنگھ کی قیادت میں ہی فوج بھیجی تھی انہوں نے اکبر کیلئے کئی ایک فتوحات حاصل کیں ۔ اکبر نے ان کو بہار‘بنگال اور اڑیسہ کا گورنر بھی مقرر کیا تھا۔ مان سنگھ کو اکبر نے ایک خاص ذمہ داری دی تھی۔ شہزادہ جہانگیر ماں‘ کی محبت میں اتنا بگڑ گیا تھا کہ اس نے شراب نوشی شروع کردی تھی وہ اکبر کے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردیتا۔ابو الفضل کے قتل کا الزام بھی جہانگیر کے سرلگایا جاتا ہے اکبر کے دونوں بیٹے مراد اور دانیال جوانی کی دہلیز کو پہنچنے سے قبل ہی فوت ہوگئے تھے۔سلیم(جہانگیر) کافی منتوں اور مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔جہانگیر کی ان حرکتوں کی وجہ سے اکبر کے دربار میں دو گروپس بن گئے تھے ایک سلیم کو جانشین بنانے کے حق میں تھا دوسرا گروپ اس کے خلاف تھا اور وہ سلیم کے بڑے بیٹے خسرو مرزا کو بادشاہ بنانے چاہتے تھے۔ مان سنگھ بھی خسرو کے حق میں تھے ۔ اسلئے اکبر کی موت کے بعد جہانگیر نے تخت و تاج سنبھالا تو مان سنگھ سے سپہ سالاری چھین لی اور ان کو صوبہ دار بنا کر بنگال بھیجا۔ جلد ہی ان سے عہدہ لے کر قطب الدین خان کو کا کو دیدیا گیا۔ جہانگیر نے مان سنگھ کو اکبر کے دور میں جو مراعات حاصل تھیں وہ بھی چھین لیں ۔ 1614میں مان سنگھ کی موت ہوگئی۔
عبدالرحیم خانخانہ: عبد الرحیم خانخانہ ایک شاعر تھے۔ وہ علم نجوم میں مہارت رکھتے تھے۔پنجاب کے نو شہر ضلع میں ایک دیہات کو ان کے نام خان خانخانہ سے موسوم کیا گیا ہے۔ عبد الرحیم ‘بیرم خان کے بیٹے تھے جو اکبر کے اتالیق تھے۔ جب ہمایوں نے واپسی کی تھی تو مقامی زمینداروں اور با اثر افراد سے اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے اسی نے اپنے تمام سپہ سالاروں اور وزیروں کو ان کی بیٹیوں سے شادی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ خود ہمایوں نے میوات کے جمال خان کی بڑی لڑکی کو اپنے نکاح میں لیا اور چھوٹی بیٹی سے بیرم خان کا نکاح کروایا تھا۔ عبد الرحیم ان کی ہی اولاد تھے جو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اکبر اور بیرم میں نااتفاقی پیدا ہونے کے بعد اکبر نے بیرم خان کو حج پر جانے کا مشورہ دیا۔حج کیلئے جاتے ہوئے بیرم خان گجرات میں ایک پرانے دشمن کے ہاتھوں مارا گیا۔بیرم خان کے وفادار ساتھی اس کی بیوی اور نوجوان رحیم کو حفاظت سے دہلی لانے میں کامیاب ہوئے۔ اکبر نے رحیم خان کی پرورش کی اس دوران بیرم خان کی دوسری بیوی سلیمہ سلطان بیگم سے اکبر نے شادی کرلی اس طرح رحیم خان اکبر کے سوتیلے بیٹے بن گئے۔اکبر نے ان کو اپنے نو رتن میں شامل کیا۔ان کا مقبرہ نظام الدین ایسٹ میں موجود ہے۔رحیم کے جو دوحے مشہور ہیں وہ عبد الرحیم خانخانہ ہیں۔انہیں سنسکرت پر بھی عبور حاصل تھا۔
فقیر ایاز الدین : اکبر کے مشیر تھے۔اکبر ان کے مشوروں کو کافی اہمیت دیتا تھا۔تا ہم تاریخ میں ان کا تفصیلی ذکر نہیں ہے۔
تان سین : سنگیت یا موسیقی کی دُنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ ان کا اصلی نام رمتانو پانڈے تھا۔ وہ گوالیار میں ایک مندر کے پجاری کے گھر پیدا ہوئے تھے۔6برس کی عمر سے ہی انہوں نے موسیقی میں اپنی مہارت دکھانا شروع کردیا تھا۔ وہ سوامی ہری داس کے بھگت تھے۔ انہوں نے جوانی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔اکبر کے نورتن میں شامل کیئے جانے کے بعد لوگ ادب سے ان کو میاں تان سین کہتے تھے اکبر خاص موقعوں پر ان سے راگ اور آلاپ کی فرمائش کرتا تھا ۔ تان سین کے تمام بچے بھی موسیقار ہوئے۔تان سین کا انتقال1586کو دہلی میں ہوا اکبر نے خود جنازے میں شرکت کی۔ تان سین کو گوالیار میں صوفی سنت شیخ محمد غوث کے پہلو میں دفن کیا گیا۔گوالیار میں ہر سال ڈسمبر میں تان سین کی یاد میں تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ملا دوپیازہ: بیربل کی طرح ملا دو پیازہ کے بھی کئی واقعات نے تاریخ میں کہانیوں کی شکل لے لی ہے ان کو ہمیشہ بیربل کے حریف کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ان دونوں کی نوک جھونک سے اکبر کے دربار میں کافی تفریح کا سامان مہیا رہتا تھا۔ کئی اسکالرس ان کو ایک افسانوی کردار مانتے ہیں۔ ایک تاریخ داں حافظ محمد شیرانی کہتے ہیں کہ ملادوپیازہ کا اصل نام عبدالمومن تھا۔1582میں وہ ہندوستان سے ایران چلے گئے۔36برس بعد دوبارہ آئے اور1620میں ان کا انتقال ہوا۔ ہنڈیا کے مقام پر ان کی تدفین ہوئی۔ فارسی ادب میں بھی ان کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ ایک تاریخ داں کا کہنا ہے کہ ملا دوپیازہ عرف ابو الحسن ایران سے ہمایوں کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔ اور اکبر کے دوست ہوگئے۔ ان کو دوپیازہ بہت پسند تھا اور وہ اس کو سید الطوام کہتے تھے۔اسی لئے ان کا نام ملا دوپیازہ پڑگیا۔ وہ کسی دعوت اسی وقت قبول کرتے جب کھانے میں دوپیازہ ہوتا تھا۔
ابو الفضل ابن مبارک : انہوں نے اکبر کی سوانح حیات پر مشتمل اکبر نامہ تحریر کیا ہے جس کی تین جلدیں ہیں وہ اکبر کے دربار میں شاعر اور ادیب کی حیثیت سے موجود تھے۔ اکبر نے ان کو علم و فراست کی وجہ سے اپنے نو رتن میں شامل کیا تھا۔ ابو الفضل کے والد شیخ مبارک ناگور کے رہنے والے تھے تا ہم ابو الفضل کی پیدائش آگرہ میں ہوئی۔ انہوں نے عربی زبان میں تعلیم حاصل کی۔5برس کی عمر میں ہی وہ لکھنے اور پڑھنے کے قابل ہوگئے تھے۔1575میں اکبر کے دربار میں ان کی رسائی ہوئی۔ دکن کی کئی جنگوں میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔ وہ مغلیہ فوج کے سپہ سالار بھی رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابو الفضل کو اکبر کے بیٹے شہزادہ سلیم نے سازش کے ذریعہ قتل کروادیا۔ دکن کی لڑائی سے واپسی کے دوران ویر سنگھ بندیلا نامی ایک راجہ کے ذریعہ یہ کام کروایا گیا۔ ابو الفضل ‘مان سنگھ اور دوسرے نو رتنوں کی طرح جہانگیر کی تاجپوشی کے خلاف تھے۔مدھیہ پردیش کے ترواڑ کے قریب ان کی تدفین کردی گئی اور ان کا سر شہزادہ کو بطور تحفہ بھیجا گیا تھا۔ یہ واقعہ1613کا ہے جبکہ سلیم نے1602میں ہی مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔ اکبر نامہ ابو الفضل کا تاریخی کارنامہ ہے جس میں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کئی تاریخ داں اس کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ابو الفضل کے تعلق سے جو منفی بات مشہور ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اکبر کو دین الہیٰ رائج کرنے کیلئے کافی ترغیب دی۔عقائد کے معاملے میں وہ اکبر کے خیالات پر حاوی تھے۔(سلسلہ جاری۔۔۔)

Comments

comments