Wednesday , 14 November 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » نارتھ سنٹرل انڈیا زون » جموں کشمیر » کس کی مٹھی میں قید ہے ہمارا کھانا؟
کس کی مٹھی میں قید ہے ہمارا کھانا؟

کس کی مٹھی میں قید ہے ہمارا کھانا؟

کچھ ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا بھر میں اناج کی سپلائی کر رہی ہیں. ان کے بڑھتے ہوئے اجارہ داری سے کھانے کی حفاظت اور ماحول خطرے میں ہیں. اس کی مار ہندوستان پر بھی پڑنے لگی ہے.

صنعتی زراعت سے نہ صرف حیاتی تنوع  ہی نہیں بلکہ زراعتی تنوع بھی خطرے میں ہے. بہت معاشیاتی اداروں کی طرف سے کئے گئے ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں کھانے کی سپلائی کچھ کمپنیوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے. هانرش بيول فاؤنڈیشن، روزا-لكجمبرگ فاؤنڈیشن، فرینڈس آف دی معنی جرمنی، جرمنوچ، كسپھم اور لے موڈ ڈپلومیٹک کے “کارپوریشن اٹلس” میں یہ دعوی کیا ہے. رپورٹ کے مطابق غذا سیریز کے بڑے حصے پر کچھ کمپنیوں کا حق ہو چکا ہے.

تین چار کمپنیوں کی مٹھی میں دنیا
اگر بین الاقوامی سطح پر زرعی علاقے کو دیکھا جائے تو، ابھی سات اہم کمپنیاں ہیں. یہ کمپنیاں کیٹناشک، کیمیائی کھاد اور بیج بیچتی ہیں. لیکن جرمن کیمیکل کمپنی بایر امریکی بیج کمپنی مونسےٹو کو خرید رہی ہے. سودا مکمل ہوتے ہی بایر دنیا کی سب سے بڑی اگرو کیمکل کمپنی بن جائے گی. وہیں امریکی بڑی کمپنیاں ڈوپونٹ اور ڈاو کیمیکلس کے درمیان بھی مالک ہونے کی بات چل رہی ہے. چےمچانا، سوئٹزرلینڈ کی اگرو کیمیکل اور بیج کمپنی سنجےٹا کو خریدنے کی تیاری میں ہے. هانرش بيول فاؤنڈیشن کی باربرا انميسگ کہتی ہیں، “جلد ہی ہم اجارہ داری والی تین کمپنیوں سے برسرپیکار ہوں گے.”

بیج اور کیڑے مارنے کے  ادویات کے معاملے میں تو لڑایی قریب قریب ختم ہی ہو چکی ہے. مستقبل میں اس شعبے کی تین کمپنیوں کے پاس 60 فیصد سے زیادہ مارکیٹ ہوگی. یہ تمام کمپنیاں بہتر کاشت پر زور دیتی ہیں.

کتنا بڑا خطرہ؟
فرینڈس آف دی معنی جرمنی کی زرعی پالیسی کے ماہر كاتھرين وےس کہتی ہیں، “اگر تمام لوگ کچھ ہی کمپنیوں سے بیج خریدیں تو سب کے پاس ایک جیسے پودے ہوں گے.” اس سے زراعت میں monoculture کیا آئے گا، یعنی بغیر تنوع والی ایک جیسی فصل. دوسری پرجاتیوں پودوں پر انحصار رہنے والے کیڑے، پتنگے اور پرندوں پر اس کا اثر پڑے گا اور حیاتیاتی تنوع کا نظام گڑبڑانے لگے گا. ویس اسکو سمجھاتے ہوئے کہتی ہیں، “بہتر زرعی تنوع کا مطلب ہے بہتر حیاتیاتی تنوع .”
ایک جیسی فصل کھادنے سے اس کی حفاظت کے لئے خطرناک ہے. اگر کسی بیماری، بیکٹیریا یا پھگس کے چلتے پوری فصل خراب ہونے لگے تو روک تھام کرنے کا دوسرا طریقہ نہیں بچے گا. مثال کے طور پر ہندوستان میں دھان کی کم از کم 100 قسمیں ہیں. فرض کیجئے اگر کبھی ان میں سے 50 خراب ہو جائیں تو بھی 50 باقی رہیں گی. لیکن اگر پورے ملک میں ایک ہی قسم کی دھان لگایا جائے اور وہ خراب ہو جائے تو کھانے کے لالے پڑ جائیں گے.
ویس کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی کے پیش نظر بھی حیاتیاتی تنوع بہت اہم ہے کیونکہ کچھ خاص قسم کے پودے موسمی دشواريوں کو بہتر طریقے سے سامنا کر پاتے ہیں. زراعت کے تنوع سے مٹی بھی کم خراب ہوتی ہے، “ہم ایک جیسی فصلیں اگاكر اور کیمیائی کھاد کی ضرورت سے زیادہ استعمال کرکے مٹی کی ارورتا کو نقصان پہنچا رہے ہیں. ہم ہر سال 24 ارب ٹن زرخیز مٹی کھو رہے ہیں، اس کا استعمال کھانے کی حفاظت کے لئے ہو سکتا تھا. “

انتہائی طاقتور کثیر القومی کمپنیاں
مارکیٹ پر کچھ ہی کمپنیوں کا غلبہ ہونے سے کسان بھی لاچار ہو جاتے ہیں. نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں بیج مہیا کرنے والی کمپنیوں سے خریدنا پڑتا ہے. رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے کسانوں پر اس کی سب سے بری مار پڑ رہی ہے. باربرا انميسگ کے مطابق کمپنیاں حکومتوں پر بھی دباؤ ڈال رہی ہیں، “جب مارکیٹ کی طاقتیں آپس میں مل جاتی ہیں تو زیادہ لیڈر ان کے دباؤ کو قبول کرنے لگتے ہیں.” اس بارے میں جب جرمنی کمپنی بایر سے جواب لینے کی کوشش کی گئی تو اس کے ترجمان نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا.
ایسا نہیں ہے کہ صرف کچھ اگرو کیمیکل اور بیج کمپنیوں کا ہی اجارہ داری پھیل رہا ہے. خوراک کے شعبے میں خام مال کی سپلائی بھی چار کمپنیوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے. رپورٹ کے مطابق آرچر ڈینیل مڈلینڈز، بگے، کارگل اور ڈرےپھس کے ہاتھ میں گیہوں، مکئی اور سویا کی 70 فیصد سپلائی ہے.

رپورٹ کہتی ہے کچھ کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت بھارت، انڈونیشیا اور نائیجیریا جیسے ممالک کے چھوٹے کاروباریوں کو ختم کر رہی ہے. سب کچھ سستا کرنے کی دوڑ میں کاشت ایک دوستانہ طریقے برباد ہو رہے ہیں. رپورٹ میں دنیا بھر کی حکومتوں سے قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے. رپورٹ میں تجویز کردہ گیا ہے کہ پالیسی ساز تبدیلی کر پرياورسممت کاشتکاری، قدرتی کھاد اور مقامی بیجوں کا استعمال کرکے اس خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے. کلائنٹ بھی اگر مقامی کسانوں سے سامان خریدے اور براہ راست ان سے بات چیت کرے تو حالات سب کے لئے بہتر ہو سکتے ہیں.

Comments

comments