Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » امریکا و کنیڈا » اسرائیل کے دورہ سے نئی لکھیر کھینچنے جا رہے مودی!
اسرائیل کے دورہ سے نئی لکھیر کھینچنے جا رہے مودی!

اسرائیل کے دورہ سے نئی لکھیر کھینچنے جا رہے مودی!

ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر جانے والے ہیں. اس سفر کو آخری شکل دینے کے لئے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال گزشتہ ہفتے اسرائیل میں تھے. انہوں نے اس معاملے میں اسرائیل کے قومی سلامتی مشیر اور وزارت خارجہ سے سفر کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا.
تاہم اس دورے کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے، لیکن کہا جا رہا ہے کہ یہ دورہ جولائی میں ہو سکتا ہے.
پی ایم مودی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 25 سال پورے ہونے پر تل ابیب پہنچیں گے. یہ کسی وزیر اعظم کا پہلا اسرائیل دورہ ہوگا. یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی دورے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے.

مودی کے اس دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے ماضی کی خارجہ پالیسی سے مختلف لکھیر کھینچنے جا رہے ہیں.
مودی کے اس سفر میں فلسطینی علاقے کا دورہ نہیں کریںگے. وزیر اعظم کا دورہ اسرائیل تک ہی محدود ہوگا. اس سے پہلے بی جے پی اور کانگریس کی قیادت والے وزرائے خارجہ نے جب بھی اسرائیل کا دورہ کیا تو اس میں فلسطینی علاقے کا دورہ بھی شامل رہتا تھا.

صدر پرنب مکھرجی جب 2015 میں اسرائیل کے دورے پر گئے تھے تو انہوں نے فلسطینی علاقوں اور اردن کا بھی دورہ کیا تھا. مودی کے ہاتھوں میں کمان آنے کے بعد سے ہی ایسا مانا جا رہا تھا کہ اسرائیل کو لے کر ان کی پالیسی بالکل مختلف ہوگی. ملک اب تک فلسطین کے قیام اور دو متحدہ اصول کا بڑا حامی رہا ہے.

مرکز کی موجودہ حکومت بھی مختلف فلسطینی ریاست کی حمایت کرتی ہے اور مشرق وسطی میں تنازعات کے پرامن حل کی وقالت کرتی ہے. وقت کے ساتھ اسرائیل اور ہندوستان کے تعلقات میں گرماہٹ آئی ہے. کارگل جنگ کے بعد ہندوستان کی دفاعی نظام میں اسرائیل کا کردار بڑھتا گیا. آج کی تاریخ میں ہندوستان اسرائیل سے دفاعی سازوسامان خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے.

سرحدی سلامتی کے نظام، قومی سلامتی اور دہشت گردی سے مقابلہ کرنے میں اسرائیل ہندوستان کی مدد کر رہا ہے. اس کے ساتھ ہی ڈیری، آبپاشی، توانائی، انجینئرنگ اور سائنس کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون تیزی سے بڑھا ہے.

سیاسی طور پر ملک کی حکمراں پارٹی بی جے پی شروع سے ہی اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتی رہی ہے. ہندوستان میں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو مشرق وسطی میں تصادم کو لے کر اسرائیل سے ہمدردی رکھتا ہے. وقت کے ساتھ اسرائیل سے قدرتی طور پر تعلقات میں آئی گرماہٹ کی وجہ سے دونوں ملک اور قریب آئے ہیں.
ہندوستان چند ماہ قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی پیشکش پر غیر جانبدار رہا تھا. ہندوستان کا یہ قدم واضح طور پر اسرائیل کی حمایت میں تھا. اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بات چیت کا رکنا، عرب میں غیر یقینی صورتحال اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دو قومی حل پالیسی کی مخالفت کے بعد سے اسرائیل کے تئیں ہندوستان کے موقف میں بڑی تبدیلی آئی ہے.

ہندوستان کی حکومت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو اسرائیل-فلسطینی جدوجہد سے الگ عملی اور فائدے کے لحاظ سے تشہیر کر رہی ہے. آج کی تاریخ میں اسرائیل اور ہندوستان صرف قریب ہی نہیں آئے ہیں بلکہ بین الاقوامی تنہائی کے وقت میں ہندوستان امریکہ کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بن کر ابھرا ہے.
ہندوستان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے قربت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت نہیں کرتا ہے یا عرب ممالک سے اس کے تعلق کو تبدیل کر رہے ہیں. مودی حکومت نے اسرائیل سے بڑھتے ہوئے تعلقات کو لے کر ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے.
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں عملی اور حقیقت پسندانہ موقف اپنا رہی ہے.

Comments

comments