Monday , 26 February 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » آفریقہ » امریکی ویزا پر ٹرمپ کا نیا فرمان: 5 خاص باتیں
امریکی ویزا پر ٹرمپ کا نیا فرمان: 5 خاص باتیں

امریکی ویزا پر ٹرمپ کا نیا فرمان: 5 خاص باتیں

مسلمان اکثریت والے ممالک سے امریکہ انےوالوں پر روک لگانے سے متعلق صدر ٹرمپ کے حکم کو پہلے کے مقابلے کچھ حد تک نرم مانا جا رہا ہے لیکن بہت سے انسانی حقوق گروپ اب بھی اس کی بھی سخت مخالفت کر رہے ہیں.
دیکھا جائے تو کم از کم پانچ چیزیں ہیں اس حکم میں جو پہلے حکم سے مختلف ہیں.

اس بار محدود ممالک کی فہرست میں چھ ممالک ہیں. محکمہ خارجہ اور وزارت دفاع کے مشورہ پر عراق کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے. فی الحال یہ حکم شام، لیبیا، ایران، صومالیہ، سوڈان اور یمن پر لاگو ہوگا.

اس حکم میں ان ممالک سے انےوالو کے پاس تو پہلے سے گرین کارڈ یا ویزا ہے تو انہیں نہیں روکا جائے گا. پچھلی بار ویزا ہولڈرس کو بھی روکا گیا تھا جس کے بعد پوری دنیا میں ہنگامہ مچ گیا تھا.

شام سے آنے والے پناہ گزین جنہیں پہلے منظوری مل چکی ہے انہیں نہیں روکا جائے گا اور ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں پر بھی دوسرے ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کی طرح 120 دن تک کی روک لاگو رہیگا.
اس بار یہ حکم فورا لاگو کئے جانے کی بجائے دس دنوں کے بعد یعنی 16 مارچ سے لاگو ہوگا. مانا جا رہا ہے کہ اس سے ايرپورٹس پر افرا تفری کو روکا جا سکے گا اور تمام ایجنسیاں ایک منصوبہ بند تیاری کے ساتھ اسے انجام دے سکیں گی.

اس بار مسلمان اکثریتی ممالک سے عیسائی پناہ گزینوں کو آنے دینے کی چھوٹ نہیں دی گئی. مانا جا رہا ہے کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ کوئی عدالت میں یہ چیلنج نہیں دے سکے کہ یہ حکم مذہب کی بنیاد پر تفریق کر رہا ہے.
گزشتہ حکم کے بعد کئی رپبلكس نے بھی اس کی خاصی تنقید کی تھی لیکن اس بار ان کی طرف سے کافی حد تک ایک خاموش رضامندی نظر آئی ہے.

وہیں انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی شکل میں مسلمانوں پر لگایی گیی پابندی ہے.
امنے سٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس سے ہزاروں خاندانوں میں خوف اور بے یقینی کا ماحول پیدا ہوگا اور یہ حکم ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ایک پالیسی کی شکل دے گا.

Comments

comments