Thursday , 16 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » اسلاموفوبیا خطرناک رجحان!
اسلاموفوبیا خطرناک رجحان!

اسلاموفوبیا خطرناک رجحان!

دُنیا میں اس وقت ہر طرف مسلم دہشت گردی‘اسلامی انتہا پسندی کے نام پر مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔25برس پہلے القاعدہ کو استعمال کرتے ہوئے یہودی سازش کے تحت امریکہ میں حملے کروائے گئے اور پھر پوری دُنیا مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگئی۔ لاکھوں افراد کو لقمہ اجل بنانے اور کئی ممالک کو تباہ و برباد کرنے کے باوجود اسلام اور مسلمان دونوں ہی باقی ہیں جبکہ2008 کا معاشی انحطاط یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کو تباہ کرنے میں خود مغرب ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔پھر عرب بہار کے نام سے تبدیلیاں لانے کی کوشش کی گئی لیکن جب دیکھا کہ اس میں اسلامی طاقتیں غالب آرہی ہیں تو اس کو ترک کردیا گیااور محمد مرسی کو جیل میں ڈالدیا ۔داعش کے نام سے اسلام کی نئی اصطلاح گھڑنے کی کوشش میں ناکام دُنیا اب کھل کر مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہونے لگی ہے۔ ٹرمپ کے اعلانات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ دُنیا اب مسلمانوں سے راست مقابلہ کرے گی۔ اس کیلئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی جارہی ہے جس کو مغربی میڈیا نے ’’اسلامو فوبیا‘‘ کا نام دیا ہے۔اس مہم میں غیر مسلموں کو ڈرایا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اور وہ دُنیا پر غالب آجائیں گے۔اگر وہ دُنیا پر غالب آگئے تو کیا کریں گے؟ اس کی تصویر داعش کی شکل میں دکھائی گئی تا کہ لوگ دہشت زدہ ہو کر مسلمانوں کے خلاف ان حکومتوں کے اقدامات کو درست ٹہرائیں۔یہ رحجان اس وجہ سے ایک خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے عوام کے دلوں میں زہر گھولنے والے قائدین ہی ملک کے سربراہان منتخب ہورہے ہیں اور اکثریت کو خوش کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے امریکہ میں تمام مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن مختلف گوشوں کی تنقیدوں کی وجہ سے وہ چپ ہوگئے اور صدر بننے کے بعد انہوں نے محدود پابندی لگانے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔یوروپی ممالک میں ایک عرصہ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جاری ہے اسلئے وہاں کی حکومتیں اسکارف ‘مساجد اور‘اذانوں پر پابندی لگانے جیسے اقدامات کرچکی ہیں۔ جب کسی مسلم ملک پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو مذمت کرنیوالا کوئی نہیں ہوتا ۔ پاکستان‘ افغانستان ‘ ترکی یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی دھماکے ہوتے ہیں تو دُنیا چپ رہتی ہے اگر لندن‘پیرس یا کسی اور مقام پر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ساری دُنیا متحد ہوجاتی ہے۔دہشت گردی کو فروغ دینے والا کون ہے؟ اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آجائیگی۔دُنیا کے مختلف ممالک میں مسلح بغاوتیں ہوتی ہیں۔ جنوبی امریکہ میں کمیونسٹ انقلاب میں ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں۔خود اسرائیل فلسطین پر قابض ہو کر نہتے لوگوں پر ظلم کررہا ہے ۔ اس کی کسی کاروائی کو دہشت گردی کا نام نہیں دیا جاتا ہے اگر کوئی مسلم تحریک یا مسلم ملک ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے تو اس کو فوری دہشت گردی کا نام دیدیا جاتا ہے۔سوشیل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانے والے کون ہیں۔ کئی مرتبہ یہ لوگ سی آئی اے یا انٹلیجنس کے جاسوس نکلتے ہیں جونوجوانوں کو پھنساتے ہیں۔یوروپ میں اس وقت شام‘ افغانستان ‘ آفریقہ کے لاکھوں پناہ گزین سرچھپانے کی جگہ تلاش کررہے ہیں۔ان ممالک کے مخالف اسلام سیاستداں وہاں کے لوگوں کو مسلمانوں کا خوف دلا کر ان میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فرانس اور جرمنی میں انتخابات ہونیوالے ہیں وہاں اس وقت سب سے زیادہ اسی مسئلہ کو اُچھالا جارہا ہے تا کہ سیاسی فائدے حاصل کئے جاسکیں۔ان پارٹیوں کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اُگل رہے ہیں۔ دُنیا میں یہ رحجان تقویت پارہا ہے کہ غیر مسلم ممالک میں اقتدار کی سیڑھی مسلمانوں کی توہین اور نفرت انگیز اقدامات سے ہو کر گذرتی ہے۔ یہ واقعات ہمارے لئے لمحہ فکر ہیں۔

Comments

comments