Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » حیدرآباد » ملک کی سیاست کا قمر و خورشید
ملک کی سیاست کا قمر و خورشید

ملک کی سیاست کا قمر و خورشید

(قمرالاسلام کی سالگرہ پر خصوصی تحریر)
ملک کی قومی سیاست میں قمر الاسلام کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔ قمر الاسلام کا شمار بلا شبہ ملک کے ان عظیم رہنماؤں میں کیا جا سکتا ہے جنھوں نے اپنی ساری زندگی قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کیلئے صرف کر دی۔ چالیس برسوں سے سرگرم عوامی خدمت کرنے کا شرف ملک میں چند ہی مسلم رہنماؤں کو حاصل ہوا ہے ان میں قمر الاسلام کا نام سب سے نمایاں ہے۔ شاید اسی وجہ سے انکے مداح قمر الاسلام کو ان کے نام سے نہیں بلکہ قائد محترم کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ قمر الاسلام کو ’’ شیر کرناٹک‘‘کا بھی خطاب حاصل ہے گوکہ عمر نے قمر الااسلام کی صحت پر اثر ڈالا ہے لیکن آج بھی قائد محترم کی آواز میں ہاتھی کی چھنگاڑ اور شیر کی دھاڑ موجود ہے۔ آج بھی قمر الاسلام جب خطاب کرتے ہیں تو ہزاروں کے مجمع پر سناٹا طاری رہتا ہے اور بیچ بیچ میں نعرہ تکبیر کے بھی فلک شگاف نعرے گونجتے ہیں۔ دورشباب میں قمر الاسلام جب اسمبلی میں اُردو میں خطاب کرتے تھے تو پورا یوان خاموشی و سنجیدگی سے قائد محترم کی مدلل باتوں کو سنتا تھا۔ کیا حزب اقتدار کیا حزب اختلاف قمر الاسلام کے طرز تخاطب اور انکی دلیلوں کا ہر کوئی معترف رہتا۔
قمر الاسلام کی خدمات اظہر من الشمس کے مصداق ہیں۔ وزیر اقلیتی بہبود کے طور پر قمر الاسلام نے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس کی مثال ملک کی کسی دوسری ریاست کے وزارت اقلیتی بہبود میں نہیں ملتی۔ وزارت اقلیتی بہبود کیلئے جو سنگ میل قمر الاسلام نے قائم کئے ہیں شاید ہی ملک بھر میں کسی ریاست کا وزیر اقلیتی بہبود اُسے پار کرسکے۔ قمر الاسلام کی حیات و خدمات پر یوں تو کئی مقامات پر جلسے و جلوس ہوتے رہے ہیں۔ قائد محترم کے کارہائے نمایاں کئی بار ریاستی و قومی اُردو‘ انگریزی کنڑا ور دیگر زبانوں کے اخبارات میں چھپتے بھی رہے ہیں لیکن اس بار قمر الاسلام کے حیات و کارناموں پر انکے ایک رفیق میر محمود انعامدار دھارواڑنے اُردو زبان میں’’قمر الاسلام کی کہانی کچھ انکی کچھ میری زبانی‘‘کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر قائد محترم کی عوامی خدمات کو عالمگیر سطح پر پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
مصنف نے غیر جانبداری سے قمر الاسلام کے حیات وکارناموں پر پرت در پرت روشنی ڈالی ہے۔ مصنف‘ کتاب میں لکھتے ہیں کہ قمر الاسلام نے گلبرگہ میں مسلمانوں کی قیادت کا پرچم اس وقت اُٹھایا جبکہ دکن کے مسلمان ابھی پوری طرح سے پولیس ایکشن کے خوف سے باہر نہیں آئے تھے۔ مسلمانوں کے دلوں کے اندر ایک انجانا سا خوف چھپا ہوا تھا کہ نہ جانے کس گھڑی کیا ہوجائے۔ اس سے الگ بات یہ کہ1972میں گلبرگہ میں ہوئے فسادات نے گلبرگہ مسلمانوں کے خوف کو اور بھی گہرا کر دیا تھا۔ وقتاً فوقتاً ہو رہے فسادات نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر لاوارث کر دیا تھا۔ ایسی بات نہیں تھی کہ گلبرگہ میں مسلم قیادت نہیں تھی، مسلم قیادت تھی لیکن گلبرگہ کے مسلمان اپنے لئے ایک مسیحا کے تلاش میں تھے اور قمر الاسلام کی شکل میں انھیں ایک ایسا جیالا نوجوان مل گیا جس کے بعد گلبرگہ کے مسلمانوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور خوف کا پنچھی گویا گلبرگہ سے مستقل طورپر اڑ گیا۔
کتاب کا بیشتر حصہ قمر الاسلام کے دور چہارم پر مبنی ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ قمر الاسلام نے وزیر اقلیتی بہبود کے طور پر جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں و ناقابل فراموش ہیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ماہانہ پانچ ہزار روپے کمانے والے ایک شخص کی بیٹی ایم بی بی ایس کر سکتی ہے۔ اس کا بیٹاانجینئربن سکتا ہے۔ اس کا بیٹا امریکہ‘ آسٹریلیا ‘ برطانیہ جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ اس پانچ ہزار روپے کمانے والے شخص کے خواب کو قمر الاسلام نے پورا کر دکھایا ہے۔ قمر الاسلام کی متعارف کردہ ارییو اسکیم ایسی ہے جس کے تحت اقلیتی طبقے کا طالب علم اپنے والد کی جیب پر ایک پیسے کا بھی بوجھ ڈالے بغیر ڈاکٹر‘انجینئر‘ وکیل بن سکتا ہے۔ اس غریب طالب علم کی سالانہ فیس راست طور پر کالج کے اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتی ہے ۔ اس غریب طالب علم کی کتابوں اور کاپیوں کیلئے بھی قائد محترم نے ودیا سری اسکیم منظور کرائی۔ اسکے تحت اقلیتی طالب علم کو ہاسٹل کا کرایہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ قمر الاسلام کے کارناموں کو اگر تفصیل سے بیان کیا جائے تو کافی صفحات درکار ہوں گے۔ مختصر طور پر یہاں کچھ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
* اقلیتوں کی ترقی کیلئے بجٹ میں اضافہ * ائمہ موذنین کو ماہانہ ہدیہ کی ادائیگی * عربی مدرسوں کی جدید کاری * اقلیتی کالونیوں کیلئے انفرا سٹرکچر ڈیولپمنٹ * سر سید احمد خان ریسرچ اینڈاسٹیڈی سنٹر کا قیام * بیدر میں محمود گاواں ریسرچ لائبرری کا قیام * گلبرگہ یونیورسٹی میں حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے نام پر ایک چیر * چیف منسٹر ترغیبی انعامات * نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کیلئے پروگرامس * اقلیتوں کیلئے ہاؤزنگ لون کیلئے انٹرسٹ سبسیڈی اسکیم * کرناٹک اقلیتی کمیشن کو عدالتی اختیارات *کرناٹک وقف بورڈ کو مستحکم کرنے کے اقدامات * پندرہ کروڑ روپیوں کی لاگت سے 3.5ایکڑ پر بنگلورو میں حج ہاؤز کی تعمیر * مسابقتی امتحانات کیلئے فری کوچنگ * اقلیتی طلبا کیلئے ہر ضلع میں کئی ہاسٹلس کا قیام* ودیا سری اسکیم میں اقلیتی طلباء کی شمولیت* اقلیتی طلبا کیلئے اقامتی اسکولس کی نئی اسکیم * اُردو اسکولوں کی بنیادی سہولیات میں مزید بہتری * اقلیتی علاقوں میں شادی محل اسکیم * اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے بدائی اسکیم * کرناٹک اُردو اکیڈیمی کے بجٹ کو کروڑوں میں پہنچانا * حضرت گیسو دراز اکیڈمی کو ایک کروڑ سے زائد کی امداد * شیر میسور ٹیپو سلطان ؒ کی یوم پیدائش کا سرکاری سطح پر انعقاد
مصنف لکھتے ہیں کہ قمر الاسلام کی متعارف کردہ یہ ایسی اسکیمات ہیں‘ جس کو اگر اخلاص سے نافذ کر دیا جائے تو اگلے دہے تک کرناٹک کے مسلمانوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ یہ اسکیمات ملک کی دوسری ریاستوں کیلئے بھی مثالی ہیں۔ ان اسکیمات کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج ملک کی ہر ریاست کے مسلمانوں کو ایک ’’ قمر الاسلام‘‘کی ضرورت ہے۔

Comments

comments