Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » ریاستی اسمبلی میں شرمسار ہوئی جمہوریت
ریاستی اسمبلی میں شرمسار ہوئی جمہوریت

ریاستی اسمبلی میں شرمسار ہوئی جمہوریت

اسمبلی کو اگرچہ جمہوریت میں مقدس مقام کا درجہ حاصل ہے لیکن اب جہاں اقتدار زمانہ کے ساتھ جمہوریت کے معنیٰ بھی تبدیل ہوگئے ہیں وہیں ممبران اسمبلی بھی اس جمہوری اقدار کی آماجگاہ (اسمبلی) کی تذلیل کرنے میں بھی گریز نہیں کرتے ہیں یہی حال ملک کا تاج کہلانے والی ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں بھی دیکھنے کو مل گیا جہاں حال ہی میں بجٹ اجلاس کے بعد سرمائی دارالخلافہ جموں میں طویل اسمبلی سیشن کے دوران ایسے مناظر دیکھنے کو مل گئے جن سے یہ پتہ چلا ہے کہ اب اسمبلی ممبران نے ایوان کو جمہوریت کا مندر نہیں بلکہ مچھلی بازار سمجھ رکھا ہے اور عوامی پیسے کا بیدریغ استعمال کر کے جس طرح حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے شور شرابہ کر کے عوامی مسائل کو نظر انداز کردیا ہے ان سے یہ صاف پتہ چل گیا کہ ریاست کی اسمبلی میں جمہوریت شرمسار ہوگئی ہے اور اس بات کیلئے نہ ہی علیحدگی پسند اور نہ ہی قوم پرست طاقتیں ذمہ دار ہیں بلکہ یہ سارا کھیل ان لوگوں کے ذریعہ کھیلا گیا جو جمہوریت کے حق میں بلند وبانگ دعوے کر کے اپنی سیاست چمکاتے ہیں حالانکہ مالی مشکلات اور بے روزگار کی بد ترین مارجھیلتی آرہی ریاست جموں و کشمیر میں بھلے ہی عوام کو بجلی‘حفظان صحت اور اس طرح کی دیگر بنیادی سہولیات دستیاب نہ ہوں لیکن ریاستی ممبران اسمبلی بھاری بھر کم تنخواہ اور دیگر مراعات لے کر جس طریقہ سے عوامی خواہشات کا گلہ گھونٹ رہے ہیں اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ایسے میں ریاست کو ایک ماڈل اسٹیٹ بنانے کا ان کا بلندو بانگ دعوے سراب ثابت ہوسکتے ہیں۔ جہاں برسر اقتدار پی ڈی پی حزب اختلاف پر الزام عائد کررہی ہے کہ وہ غیر ضروری شور شرابے کا سہارا لے کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہے کیونکہ موجودہ حکومت ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں ترقی کیلئے کاربند ہے تا ہم حزب اختلاف کا استدلال ہے کہ پی ڈی پی بھاجپا اتحاد ناگپور کا ایجنڈہ ریاست میں لاگو کرنا چاہتا ہے۔نیشنل کانفرنس کے سینئر قائد اور جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ محبوبہ مفتی کی زیر قیادت ریاستی حکومت اپنے کارناموں پر پردہ پوشی کرنا چاہتی ہے۔6ماہ کے دوران جو قیامت صغریٰ کشمیر میں برپا کردی گئی سینکڑوں نوجوانوں کو قبرستان پہنچایا گیا ‘سینکڑوں کی بینائی متاثر کی گئی جبکہ ہزاروں کو جیلوں میں بند کیا گیا اور جب ہم نے حکومت کو ان معاملوں پر Cornerکرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت جواب دینے کے بجائے دیگر معاملات کو اسمبلی میں زیر بحث لانے کی کوشش کررہی تھی لہذا اس صورتحال میں ہمارے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے کے سواء اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ علی محمد ساگر کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے ساتھ اتحاد کر کے پی ڈی پی نے اپنا ایجنڈہ نئی دہلی کے پاس رہن رکھا ہے۔ اور اقتدار میں بنے رہنے کیلئے وہ حربہ اختیار کر رکھا ہے جس کا فرمان انہیں ناگپور سے مل جاتا ہے انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس نے ایک مضبوط اپوزیشن کر کردار نبھا کر موجودہ حکومت کو اسمبلی میں بے نقاب کردیا ہے۔
حزب اختلاف کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی کے سرکردہ قائد اور ایم ایل سی محمد خورشید عالم نے بتایا کہ حزب اختلاف کے ممبران سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے دھینگا مشتی اور ہنگامہ آرائی پر اُتر آتے ہیں جس کی وجہ سے جمہوریت کے اس اعلیٰ ایوان کا تقدس پامال ہورہا ہے۔ خورشید عالم کے مطابق ایوان میں عوامی مسائل کو اُٹھانا ممبران اسمبلی کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان سوالات کا تسلی بخش جواب دے لیکن جب اسمبلی کو مچھلی بازار میں تبدیل کیا جائے تو یہ سب کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اقتدار سے بیدخلی کے بعد موجودہ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا ہر زاویہ کھٹکتا ہے اور وہ ہر معاملے میں وہ تنقید برائے تنقید کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے’’ وقارِ ہند‘‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جس طرح مودی نے پارلیمنٹ کوعملاً یرغمال بنا رکھا ہے اسی طرح ہماری ریاست میں محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی کا عزت و وقار پامال کردیا ہے ۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ وہ نئی دہلی کے اشاروں پر ناچ کر اپوزیشن کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پی ڈی پی کا الزام ہے کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے بھی اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن کو دبائے رکھا تھا۔غلام احمد میر نے بتایا کہ اگر ہم نے کچھ غلط کیا تو اس کا خمیازہ ہمیں مل گیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپوزیشن میں ہیں لیکن اگر پی ڈی پی ہمارا طریقہ کار اختیار کر کے نام نہاد ایجنڈہ آف الائنس کی تشہیر کرتی ہے تو پھر اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ میر نے بتایا کہ اسمبلی میں حزب اقتدار کو اپنی قصیدہ خوانی کے بجائے حزب اختلاف کو موقع دینا چاہیئے تا کہ ہم ایکEye Opnerکا کردار ادا کرسکتے ‘لیکن پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے وہ ایوان میں ایک بات کہتے ہیں اور ایوان کے باہر ایک بات۔
اس معاملے کی نسبت جب’’ وقارِ ہند‘‘ نے معروف صحافی سید تجمل السلام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اسمبلی اجلاس میں ممبران کو جمہوری انداز اپنانا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے جو نہ صرف جمہوریت بلکہ اسمبلی کے ایوان تقدس کیلئے سم قاتل ہے حالیہ اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے سید تجمل نے بتایا کہ جو کچھ آج ہمیں ایوا ن میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ان پارٹیوں کی دین ہے جنہوں نے سالہا سال اقتدار میں رہ کر کبھی بھی حقیقتاً حزب اختلاف کی رائے کا احترام نہیں کیا اور آج وہ اپنے ہی بوئے کی فصل کاٹ رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پھر بھی حالیہ اسمبلی میں کئی اہم بل پیش کیئے گئے جن میں مہاجروں کی وطن واپسی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ عوامی احتجاج کے بعد اسمبلی کا حالیہ اجلاس ہنگامہ خیز ہونا طے تھا تا ہم کئی اہم معاملات پر اپوزیشن نے بھی بڑے مضبوطی کے ساتھ ریاستی حکومت کو گھیر لیا اور حکومت کو جوابدہ بنانے میں اہم رول ادا کیا اور حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت نے بھی کئی موضوعات پر اپنی پالیسی واضح کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کیلئے ہر پارٹی کو اپنا تعاون پیش کرنا چاہیئے تب ہی ایوان میں جمہوریت کا بول بالا قائم رکھا جاسکتا ہے۔
علیحدگی پسند قیادت نے پہلے ہی ریاستی اسمبلی کو کٹھ پتلی قرار دیا ہے سینئر مزاحمتی رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ اسمبلی میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے اعلانات اور دیگر اعلانات محض سراب ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مین اسٹریم سیاستداں محض اقتدار پر بنے رہنے کیلئے نئی دہلی کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں۔ ینگ مینز لیگ کے چیرمین امتیاز احمد ریشی نے بتایا کہ ریاستی اسمبلی میں لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے ان پر نمک پاشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے پی ڈی پی پر الزام عائد کیا کہ اقتدار سے پہلے یہ پارٹی ہلپنگ ٹچ اور خیالات کی جنگ جیسے نعرے دے رہی تھی لیکن اقتدار کی نیلم پری حاصل کرنے کے بعد اب یہ پارٹی حریت پسند قیادت کو زینت زنداں بنانے پر تلی ہوئی ہے جسے یہ پارٹی عوام میں پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے۔ ریشی نے بتایا کہ بھاجپا کا چہرہ تو پہلے ہی عوام کے سامنے تھا لیکن پی ڈی پی نے سبز جھنڈے کے نام پر کشمیریوں کاوشواس گھات کیا ہے۔ اور جس طرح عوامی احتجاج کے دوران کشمیر میں قیامت برپا کردی گئی وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مین اسٹریم سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو کشمیریوں کی نہیں نئی دہلی کی وفادار ہوتی ہیں۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں آج جو کچھ ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے اور جس طرح جمہوریت کو شرمسار کیا جارہا ہے اس میں حزب اقتدار کو ذمہ دار گردانا کتمانِ حق ہوگا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب موجودہ حزب اختلاف اقتدار کے محلوں میں رہتی تھی تب وہ وہی کچھ کرتی تھی جو آج ہورہا ہے اور اس بیج عوام کا خدا ہی حافظ ہے جنہوں نے ووٹ دے کر ممبران کو اپنی آواز بنانے کیلئے اسمبلی بھیج دیا تھا جہاں وہ عوامی مفادات کا کم اور سیاسی مفادات کا زیادہ خیال رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔
کشمیر کو شام بننے نہ دیا جائے، سہیل ناستی
روایتی سیاستکاری سے اوپر اُٹھ کر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کرنے پر زور دیتے ہوئے جنوبی کشمیر کے معروف سماجی کارکن اور غیر سرکاری تنظیم مدر ہلپ ایج کے بانی ڈاکٹر سہیل ناستی نے کہا ہے مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے جس کو انسانیت کے دائرے میں رہ کر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔موصوف’’وقارِہند‘‘ کو ایک خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ ڈاکٹر سہیل ناستی نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں ہر سطح پر جرأت مندانہ اقدامات اور فیصلوں کو اس خطہ کے کروڑوں لوگوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے پورے جنوبی ایشیاء کیلئے کشیدگی کا بنیادی سبب رہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہند پاک ممالک نیو کلیر طاقتیں ہیں اور ذرا سی نادانی خطہ کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرسکتی ہے۔ سہیل ناستی نے بتایا کہ وہ کشمیر کو شام بننے نہیں دیں گے اور انسانی جانوں کا اتلاف روکنے کیلئے اور خطہ میں امن و آشتی کی فضا کو قائم رکھنے کیلئے وہ ہر کوئی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیر کے اقلیتی فرقہ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موصوف نے بتایا کہ کشمیری پنڈت بھائی بھی ہمارے سماج کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور ایسا بڑا فیصلہ لیتے وقت ہمیں مجموعی مفادات کو مد نظر رکھنا ہوگا ۔ انہوں نے حریت پسند قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ بانت بانت کی بولیاں بولنے کی بجائے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور اپنی آواز کو منظم کریں کیونکہ بقول اس کے آج تک ان لیڈروں نے عوام کو آزادی کم اور قبرستان زیادہ دیئے ہیں ۔ اپنی رضا کار تنظیم مدر ہلپ ایج کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنظیم ہے اور آج تک دُنیا کے دیڑھ سو ممالک کا سفر کر کے وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دُنیا میں امن سے بڑی دولت اور کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹر سہیل ناستی نے مزید بتایا کہ ان کی اس غیر سرکاری تنظیم نے وادی کشمیر میں اب تک پانچ سو غریب اور مفلوک الحال لڑکیوں کی مالی مدد کر کے انہیں مختلف دستکاری یونٹ کھولنے کیلئے امداد کی ہے اور اس کے علاوہ ریاست کے قرب وجوار یں مفت طبی کیمپ اور غرباء میں کپڑے تقسیم کئے ہیں اور اب ہم اپنی توجہ کشمیر وادی میں نشہ خوری کی لت میں مبتلا نوجوانوں پر مرکوز کررہے ہیں کیونکہ اگر آج ہم نے ان نوجوانوں پر توجہ نہیں دی تو شائد کل تک بہت دیر ہوگی۔ریاست میں این جی اوز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کو اس ضمن میں متحرک ہونا چاہیئے کیونکہ ایسے ادارے حوالہ چینلوں کے ذریعہ دہشت گردی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔

Comments

comments