Thursday , 16 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » امریکا و کنیڈا » ٹرمپ کا امریکہ، امیدیں کم خدشات زیادہ !!
ٹرمپ کا امریکہ، امیدیں کم خدشات زیادہ !!

ٹرمپ کا امریکہ، امیدیں کم خدشات زیادہ !!

قوموں کے عروج اور زوال میں حکمرانوں کا ا ہم رول ہوتا ہے۔ بادشاہت کا دور ختم ہوگیا جمہوریت کا دور چل رہا ہے لیکن اب جمہوریت پر سے بھی عوام کا اعتماد اُٹھ رہا ہے۔ امریکہ میں حالیہ منعقدہ صدارتی انتخابات میں مشہور تاجر ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی اور ملک کے45ویں صدر کی حیثیت سے ان کی حلف برداری کے بعد امریکہ میں جو بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ پڑے ہیں اس سے تو کم سے کم یہی نتیجہ اخد کیا جاسکتا ہے جمہوریت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن اکثریت کا فیصلہ اگر اقلیت کیلئے قابل قبول نہ ہوتو کیا ہوگا؟ یہی سوال اب امریکیوں کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے اور وہ اس کا جواب تلاش کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ امریکی عوام کا کہنا ہے کہ ملک کے انتخابی نظام کا فائدہ ٹرمپ کو ہوا ہے جبکہ عوام کی نظروں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی ہیلاری کلنٹن فاتح ہے۔ ہیلاری کلنٹن نے ڈونالڈ ٹرمپ سے2لاکھ32ہزار زیادہ ووٹ حاصل کیئے لیکن امریکی الکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد جو صدر کا انتخاب کرتے ہیں538ہے ان میں سے306نے ٹرمپ کی تائید میں اور232نے ہیلاری کے حق میں ووٹ دیا۔ عوام کی برہمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکی صدر کے انتخاب کے طریقہ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ کسی ریاست میں اکثریت حاصل کرنے پر تمام ووٹ اسی امیدوار کے حق میں چلے جاتے ہیں جس نے اکثریت حاصل کی ہے۔امریکہ کی تاریخ میں ایسا چوتھی مرتبہ ہوا ہے کہ زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار ہار گیا۔
تا ہم اب ٹرمپ امریکی صدر کی حیثیت سے حلف لے چکے ہیں۔ اسلئے اب کچھ تبدیلیاں ممکن نہیں ہیں۔ عوام کا احتجاج بھی شائد وقت کے ساتھ ٹھنڈا پڑجائیگا لیکن ٹرمپ کی پالیسیاں اور ان کے ارادوں کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ احتجاجی مظاہرے مستقبل میں نہیں ہوں گے۔ٹرمپ نے انسانی حقوق کے علمبرداروں سے لے کر میڈیا تک تقریباً تمام کو ہی بُرا بھلا کہا ہے۔ ٹرمپ کا سفید فاموں کا حمایتی اور نسل پرستوں کا تائیدی سمجھا جارہا ہے۔انہوں نے حلف برداری کے بعد’’پہلے امریکہ‘‘ کا نعرہ دیا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ ہر معاملے میں امریکہ یا امریکیوں کو ہی ترجیح دیں گے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں ایک انجانا خوف پایا جارہا ہے۔ ٹرمپ کی مہم شدت پیدا ہونے کے بعد سے ان کے صدر بننے تک امریکی مسلمانوں پر متعدد نسل پرستانہ حملے ہوچکے ہیں۔مساجد میں توڑ پھوڑ‘ان کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔ مسلمانوں کے دھوکے میں سکھوں پر حملے کیئے جارہے ہیں۔ دوسری طرف غیر قانونی تارکین وطن کو کسی بھی وقت ملک بدر کیئے جانے کا خدشہ ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کس طرح کے صدر ثابت ہوسکتے ہیں اس بات کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کافی ہے کہ امریکی خفیہ محکمہ سی آئی اے کے سربراہ نے ان کو بیان بازی میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے باوجود بھی ٹرمپ نے20جنوری کو اپنی حلف برداری کے بعد پہلی تقریر میں وہی نسل پرستی اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا جو وہ اپنی انتخابی مہم میں کرتے رہیں۔ ٹرمپ کو شائد یہ احساس ہوگیا ہے کہ یہی وہ تقریریں یا انداز بیان ہے جن کی وجہ سے وہ صدر کے عہدے تک پہنچے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ صرف امریکیوں کو کام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو اُصولوں پر چلیں گے۔امریکی اشیاء خریدیں اور امریکیوں کو ملازمت دیں ۔ٹرمپ نے پھر کہا کہ مسلم دہشت گردی‘انتہا پسندی کے خلاف وہ دُنیا کو متحد کریں گے اور کرہ ارض سے اس کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ٹرمپ کی اس جارحیت کو دیکھ کر پوپ نے بھی ان کو خبردار کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے’’ میری دعا ہے کہ آپ کی قیادت میں امریکہ غریبوں‘محتاجوں اور مدد کے طالب افراد پر توجہ مرکوز کرے گا۔‘‘ امریکی مسلمان ٹرمپ کی صدارت کو ان کے مخالف اسلام رویہ کی وجہ سے اپنے لئے ایک بڑا چیالنج تصور کررہے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ نے ان کی تشویش بڑھا دی ہے تا ہم ملک میں موجود مذہبی آزادی نے ان کو حوصلہ دے رکھا ہے تا ہم معاشی مفادات کے بارے میں بھی ان میں تشویش پائی جارہی ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں ان پر کیا اثر ڈالیں گی۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکی شہریوں و خود کار نظام کے ذریعہ ایسے فون کالس موصول ہورہے ہیں جن میں پوچھا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو1کا بٹن دبائیں اور غیر مسلم ہیں تو2 دبائیں۔ اس صورتحال نے مسلمانوں میں تشویش کی نئی لہر پیدا کردی ہے بظاہر امریکی عہدیداروں کی جانب سے موصول ہونیوالی اس فون کالس کے ذریعہ امریکی مسلمانوں کی نگرانی کا عمل شروع ہوگیا ہے جس کا اعلان ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ فون کا لز ایمرج یو ایس نامی ایک ادارے کی جانب سے کی جارہی ہیں جس کا مقصد امریکی انتخابات کے بارے میں مسلمانوں کی رائے اور خیالات معلوم کرنا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کی نگرانی نہیں ہے لیکن ایسی فون کالس نے مسلمانوں میں ایک ڈر اور خوف پیدا کردیا ہے۔ ٹرمپ کے مشیر اعلیٰ اور وہائیٹ ہاوز کے چیف آف اسٹاف وینس پرائیز نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے رجسٹریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ایمیگریشن قوانین میں بھی فی الفور کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی مسلمانوں کی ڈومیسٹک لسٹ تیار کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جن ممالک میں دہشت گردی کا خطرہ ہے وہاں کے مسلمانوں کو امریکہ آنے کی اجازت نہیں رہے گی۔امریکی مساجد کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہورہے ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو امریکہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ گزشتہ دنوں سیٹل میں ایک مسجد کو نذر آتش کیا گیا جن مساجد کو دھمکیاں ملی ہیں۔وہاں پولیس کا پہرہ بڑھا دیا گیا ہے۔اوہائیو‘مشی گن‘ انڈیا8‘جارجیا‘کولوراڈو ریاستوں کی مساجد کو بھی ایسے خطوط ملے ہیں یہ خطوط کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس سے بھیجے گئے ہیں۔چند خطوط میں دھمکی دی گئی ہے کہ ٹرمپ کے دور میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جائیگی اور ان کو امریکہ سے نکال باہر کیا جائیگا۔ امریکہ اسلام ریلشین کو نسل نے ایف بی آئی سے ان خطوط کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ سال مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ریکارڈ کیاگیا مسلمان وکلاء اور ماہرین نے اس کو اسلاموفوبیا کا نام دیا ہے یعنی’’ اسلام کے غلبہ کا خوف‘‘ ستمبر2001میں امریکہ پرہوئے حملوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا تھا۔ گزشتہ سال امریکی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں70فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔2014میں جہاں ایسے واقعات154تھے وہ بڑھ کر257ہوگئے ہیں۔ نسل پرستی پر مبنی جرائم کے واقعات4فیصد سے بڑھکر21فیصد ہوگئے ہیں اسلئے ٹرمپ کا یہ صدارتی عہدہ امریکی مسلمانوں کیلئے کافی صبر آزما رہے گا۔
دوسری طرف ٹرمپ کی خارجہ پالیسی بھی خود امریکیوں کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے روس کی طرف ان کے جھکاؤ نے امریکیوں کو پریشان کر رکھا ہے خدشہ ہے کہ مخالف روس امریکی دوست واشنگٹن سے دور ہوجائیں گے۔ٹرمپ کی حلف برداری کا جشن ماسکو میں منانا اس بات کا اشارہ ہے کہ روس‘امریکہ کی نئی قیادت سے کیا توقعات رکھتا ہے۔ٹرمپ ایک تاجر ہیں وہ سیا ستداں نہیں ہیں ہر بات کو وہ نفع و نقصان میں تولنے کی کوشش کررہے ہیں۔آوٹ سورسنگ کو امریکیوں تک محدود کرنے کا اعلان کر کے انہوں نے ایشیاء میں اپنے سب سے بڑے حلیف ہندوستانی کیلئے مشکلات کھڑی کردیں ہیں۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو پھر سے پٹری پر لانے کیلئے ٹرمپ نے یروشلم میں سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ عالمی برادری یروشلم(بیت المقدس) کو فلسطین کا دارالحکومت مانتی ہے ۔ اسرائیل میں جو ہزاروں مکانات کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے اس کیلئے بھی ٹرمپ کو ہی ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے۔میکسیکو کے ساتھ امریکہ کے دیرینہ روابط ہونے کے باوجود ٹرمپ نے غیر قانونی دراندازی کو روکنے کیلئے سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان کردیا ہے ان کے یہ اقدامات اور پالیسیاں خود ان کی ری پبلکن پارٹی کیلئے پریشانیاں پیدا کررہی ہیں لیکن پارٹی خاموش ہے۔ اندرونی طور پر وہ ٹرمپ کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے اسلئے بعض معاملات میں ٹرمپ اپنے سابقہ بیانات سے پھرتے اور وضاحت پیش کرتے بھی نظر آئے تا ہم وہ صبر و تحمل برتنے والے لیڈر نہیں ہیں سرعام اپنی برہمی کا اظہار کردیتے ہیں۔وہ اس کے نتائج کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہاوز میں اپنی بیٹی اور داماد کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے ان کو حکومت میں اہم عہدے دیئے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ ان کے 10سالہ بیٹے کی تعلیم کے سلسلے میں نیو یارک میں ہی رہیں گی۔
ٹرمپ کی جائیدادوں کا تحفظ سیکریٹ سرویس کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے ٹرمپ کے بیانات نے دُنیا بھر میں ان کے خلاف نفرت کو ہوا دی ہے جبکہ امریکی صدر ہونے کی حیثیت سے وہ دہشت گردوں کے نشانے پر بھی ہوں گے۔اسلئے امکان ہے کہ ان سے بدلہ لینے‘ان کی جائیدادوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اسلئے ان کی دُنیا بھر میں پھیلی ہوئی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے خصوصی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ ان کے مینیجرس اور ملازمین کو بھی خصوصی سکیوریٹی فراہم کی جارہی ہے۔

Comments

comments