Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » حج سبسیڈی کی ضرورت کیا ہے ؟
حج سبسیڈی کی ضرورت کیا ہے ؟

حج سبسیڈی کی ضرورت کیا ہے ؟

مرکزی حکومت نے عازمین حج کو دی جانیوالی حج سبسیڈی پر نظر ثانی کیلئے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے صاحب استطاعت کیلئے زندگی میں ایک بار حج کو فرض قرار دیا ہے۔ صاحب استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس طاقت‘رقم اور وسائل ہوں۔ حج سبسیڈی جو کہ حج کمیٹی کے ذریعہ سفر حج پر جانیوالوں کو ہی دی جاتی ہے خانگی آپریٹرس کے ذریعہ جانیوالے اس سے استفادہ نہیں کرسکتے ۔ یہ سبسیڈی برسوں سے بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ایک طرف ہندو تنظیمیں اس کو حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف مسلم قائدین اور تنظیمیں بھی اسکے خلاف ہیں ۔ 2012 میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ آئندہ دس برسوں کے دوران مرحلہ وار سبسیڈی کو ختم کردے ۔حج سبسیڈی در اصل فضائی کرایہ میں دی جانیوالی وہ رعایت ہے جو40سال پہلے متعارف کروائی گئی۔حج کیلئے طیاروں کو کرایہ(چارٹرڈ) پر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے فضائی کرایہ معمول کے دنوں سے زیادہ وصول کیا جاتا ہے حکومت نے اس اضافی کرایہ کا بوجھ خود برداشت کرتے ہوئے اس کو حج سبسیڈی کا نام دیدیا ہے۔1980کے دہے تک بھی لوگ سمندری راستے سے حج کے سفر پر روانہ ہوتے تھے صرف چند ہی لوگ جو فضائی کرایہ ادا کرنے کی طاقت رکھتے تھے ہوائی جہاز کے ذریعہ مقدس سفر پر جاتے تھے۔ممبئی کے ساحل سے اکبری نامی سمندری جہاز روانہ ہوتا تھا اور15تا20دنوں کی مسافت طے کر کے سعودی عرب پہنچتا تھا۔اس وقت حج کے سفر پر جانیوالوں کی تعداد بھی محدود ہوتی تھی۔ ہندوستان بھر کے حاجی ممبئی میں جمع ہوتے تھے۔1950تک بھی حاجیوں کی مدد کرنیوالی کمیٹی کا نام پورٹ حج کمیٹی تھا۔ آہستہ آہستہ سمندی جہاز پرانے ہونے لگے تو ان کو حاجیوں کی خدمات سے ہٹا لیا گیا۔کوئی نیا جہاز متعارف نہیں کروایا گیا اسلئے حاجی فضائی سفر کرنے پر مجبور ہونے لگے اور اس طرح فضائی سفر ہی باقی رہ گیا۔ سمندری سفر کا رحجان ہی ختم ہوگیا۔ فضائی کرایہ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے حکومت سے تعاون کی درخواست کی گئی تب حکومت نے حج سبسیڈی کو متعارف کروایا ۔ اور فضائی کرایہ کا کچھ حصہ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اندا گاندھی کی حکومت نے اعلان کیا کہ عازمین حج اتنا ہی کرایہ ادا کریں جتنا کہ وہ سمندری جہاز کیلئے کرتے تھے باقی کی رقم حکومت ادا کرے گی۔ اس وقت ایک عازم حج کو 20 تا25ہزار روپے سبسیڈی دی جاتی ہے اگر واپسی کا کرایہ شامل کر لیا جائے تو یہ 42سے46ہزار روپے ہوجاتی ہے ۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایر لائن کو حج سبسیڈی کے نام پر 700کروڑ روپے ادا کیئے گئے ہیں اس طرح حج سبسیڈی سے عازمین کا کم اور ایر لائنز کا زیادہ فائدہ ہورہا ہے۔
حج سبسیڈی کی وجہ سے دیگر مذاہب کے لوگ مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں خصوصاً اس کا سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے اگر اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس رعایت سے ایر لائنز کو ہی زیادہ فائدہ ہے اور وہ حج سبسیڈی کے نام پر زیادہ رقومات وصول کررہی ہے۔ اس وقت ایک عازم حج حکومت کو ایک لاکھ 80ہزار روپے ادا کرتا ہے اس میں سے34ہزار روپے ( یعنی اندازاً2100سعودی ریال)مکہ مکرمہ پہنچنے پر حاجی کو واپس کردیئے جاتے ہیں اس طرح حکومت کے پاس حاجی کی 1.46لاکھ روپے کی رقم رہ جاتی ہے۔ اگر ہم ممبئی سے جدہ فضائی ٹکٹ دو ماہ پہلے بک کرتے ہیں تو یہ25ہزار روپے سے بھی کم میں ملے گا۔ حکومت(حج کمیٹی) جو ایک لاکھ 46ہزار روپے رکھتی ہے اس میں فضائی ٹکٹ‘مکہ میں قیام‘طعام اور دوسرے اخراجات شامل ہیں اگر حاجی یہ اخراجات خود برداشت کرلیتا ہے تو ایک اندازے کے مطابق صرف ایک لاکھ20ہزار روپے کا خرچ آئے گا۔مثلاً فضائی کرایہ کیلئے 25 ہزار روپے‘رہائش کیلئے50ہزار روپے‘مدینہ میں رہائش کیلئے 20ہزار روپے(معہ طعام) اس طرح ہر حاجی حکومت کو اپنی طرف سے26ہزار روپے زیادہ ادا کررہا ہے۔ اگر حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس نے سال گزشتہ 700 کروڑ روپے حج سبسیڈی کیلئے ادا کیئے ہیں تو حاجیوں کی یہ بچنے والی رقم کہاں گئی؟
2012میں سپریم کورٹ نے فریقین کو سماعت کرنے کے بعد حکومت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حج سبسیڈی کو مرحلہ وار ختم کر کے اس رقم کو اقلیتوں کی بہبودی یا تعلیم پر خرچ کرے۔ عدالت نے حج سبسیڈی کو اسلئے روکنے کی ہدایت نہیں دی کہ یہ خلاف دستور یا قانون ہے بلکہ اس سلسلے میں قرآن مجید کی آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قرآن مجید میں واضح کیا گیا ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے یعنی جس کے پاس استطاعت ہے وہی حج کرے۔اسلئے عازم حج کا سبسیڈی حاصل کرنا درست نہیں ہے۔کئی مسلم قائدین اور علماء نے بھی اس کی وکالت کی ہے۔ اور حج سبسیڈی کو ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔جمعیت العلمائے ہند کے مولانا محمود مدنی نے بھی اس کو خلاف شریعت کہا ہے انہوں نے بھی قرآن مجید کی ان ہی آیات کا حوالہ دیا کہ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ظفر الاسلام‘مجلس اتحاد المسلمین کے بیرسٹر اسد الدین اویسی اور اس طرح کئی دیگر نے بھی حج سبسیڈی کی مخالفت کی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے اس خیال کی تائید کی ہے کیونکہ اس کا فائدہ حاجیوں کو کم اور ایر لائنز کو زیادہ ہورہا ہے ۔ حاجیوں کو لیجانے کیلئے اگر طیاروں کو کرایہ پر حاصل کرنے کی بولی لگائی جائے تو کئی قومی وبین الاقوامی فضائی کمپنیاں آگے آسکتی ہیں اور حاجیوں کو کم کرایہ پر بہترین سہولتیں فراہم کرسکتی ہیں۔حج کمیٹی کے سی ای او محمد اویس نے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔
اب جبکہ سعودی عرب نے کوٹہ میں اصافہ کردیا ہے حج سبسیڈی میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سبسیڈی850کروڑ روپے سے متجاوز کر جائیگی ۔ 2012 کے فیصلے میں جسٹس آفتاب عالم نے کہا تھا کہ اس رقم کو اگر اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ حج وہی کرتا ہے جس کے پاس استطاعت ہوتی ہے۔ ان کو مدد فراہم کرنا یا ان کی مدد کرنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے اس رقم کی ضرورت اس مسلمان کو ہے جو ملک میں دو وقت کے کھانے کیلئے ترس رہا ہے۔بچوں کو تعلیم دلانے سے قاصر ہے اور اولاد کی پرورش کرنے کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے دینی مدارس میں شریک کررہا ہے اور دینی مدارس ان بچوں کو یتیم و یسیر بتا کر عطیات وصول کرتے ہیں ۔ ہندوستان کی 20 کروڑ کی مسلم آبادی میں ہر سال دیڑھ لاکھ افراد حج پر جاتے ہیں اگر ان کو دی جانیوالی سبسیڈی کی رقم کا استعمال ملک کے غریب مسلمانوں پر کیا جائے تو لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں میں سدھار آسکتا ہے۔مسلمانوں کے متمول طبقہ کو دیجانیوالی اس سہولت کا بہانہ بنا کر کئی ریاستی حکومتوں نے اب ہندوؤں ‘ سکھوں‘عیسائیوں کو ان کے مذہبی مقامات پر جانے میں رعایتیں‘سبسیڈی دینا شروع کردیا ہے۔ کیلاش مانسرور ‘ کاشی‘بیت اللحم(یروشلم) کیلئے سبسیڈی دی جانے لگی ہے ۔ 1994میں جہاں ہندوستان سے صرف21,035حاجی سفر مقدس پر جاتے تھے ۔ 2016 میں یہ تعداد بڑھ کر دو لاکھ ہوگئی ہے۔ان لاکھوں حاجیوں کو لیجانے اور لانے کیلئے ایر انڈیا(سرکاری ایر لائنز) کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو چارٹرڈ طیارے چلاتے ہیں ۔ فضائی کرایہ پر دی جانیوالی حج سبسیڈی اب بڑھ کر70 تا80 ہزار فی حاجی ہوچکی ہے۔ ایک عازم حج فضائی کرایہ کیلئے 45 ہزار روپے ادا کرتا ہے اور حکومت 70 تا80 ہزار روپے ادا کررہی ہے۔ اس طرح تمام رقم فضائی کمپنی کے خزانے میں جارہی ہے۔ عام مشورہ یہی دیا جارہا ہے کہ گلوبل ٹنڈرس طلب کر کے حاجیوں کیلئے ایر لائنز کی خدمات حاصل کی جائیں تو کم خرچ پر سفر حج کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت اسی سال سے حج سبسیڈی برخواست کرنا چاہتی تھی لیکن یو پی کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس پر نظر ثانی کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمیٹی کیا رپورٹ دے گی اس کا انتظار رہے گا۔

Comments

comments