Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » خصوصی رپورٹ » جب اقوام متحدہ نے اسرائیل کی دم پر پیر رکھ دیا… !
جب اقوام متحدہ نے اسرائیل کی دم پر پیر رکھ دیا… !

جب اقوام متحدہ نے اسرائیل کی دم پر پیر رکھ دیا… !

فلسطینیوں کو خود اُن کے ہی وطن میں پناہ گزین بنانے والے اسرائیل کو گزشتہ دنوں اس بات کا احساس ضرور ہوگیا ہوگا کہ اگر امریکہ نے اس کی سرپرستی ختم کردی تو دُنیا میں اس کی کیا حکومت رہ جائیگی۔ 23ڈسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرار داد منظور کی جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری اپنی بستیوں کی تعمیر روک دے اس قرارداد کو15رکنی سلامتی کونسل کے15ارکان کے منجملہ14 نے تائید کی اور امریکہ غیر حاضر رہا۔ یہ قرارداد اسرائیل کیلئے ایک بہت بڑا دھکا اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک بڑی دراڑ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ابھی تک امریکہ اسرائیل کی ہر حرکت کی اندھا دھند تائید کررہا تھا۔ بارک اوباما چاہتے تھے کہ صدر کی حیثیت سے سبکدوش ہونے سے پہلے مسئلہ فلسطین و اسرائیل کی یکسوئی کردیں لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو کا منصوبہ یہ تھا کہ پہلے وہ اسرائیلی بستیوں کو توسیع دیدیں پھر فلسطینیوں کو اسرائیل کے شہری کے طور پر ہی رہنے کیلئے مجبور کردیں۔غزہ پٹی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد مغربی کنارہ سے بھی فلسطینیوں کو نکالنے اور ان کو غزہ پٹی یا اردن کی سمت دھکیلنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ امریکہ کیساتھ ساتھ یوروپی یونین بھی اسرائیل کی ہٹ دھرمی سے نالاں ہے اس نے اسرائیل کو فنڈنگ میں کمی کردی ہے۔ یوروپی مارکٹوں میں اس کی کمپنیوں کے اشیاء کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ ان اقدامات پر اسرائیل تلملا اُٹھا ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی دباؤ میں آنے کے بجائے اس نے فلسطینیوں کے مکانوں کی مسماری مزید تیز کردی ہے اور نئی بستیاں بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اُدھر امریکی کانگریس نے یہودی لابی کے دباؤ میں آتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرارداد کی مذمت کی ہے ۔ اسرائیل نے جنوری2017 میں صرف ایک ہفتہ میں فلسطینیوں کے151مکانات مسمار کر دیئے۔ دو مملکتی نظریہ اور معاہدے کے مطابق یروشلم جس کو بیت المقدس بھی کہا جاتا ہے اس کو فلسطینی مملکت کا صدر مقام بنایا گیا ہے لیکن اس وقت نصف سے زیادہ یروشلم پر اسرائیلی بستیوں کا قبضہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال یعنی 2016میں اسرائیل نے غرب اردن اور مشرقی یروشلم ( بیت المقدس) میں مختلف بہانوں سے فلسطینیوں کے 1089 مکانات منہدم کردیئے جس کے نتیجہ میں 1600 فلسطینی بے گھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی مملکت کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی انتقامی پالیسی نے صرف جاری ہے بلکہ حالیہ برسوں میں اس میں غیر معمولی تیزی آئی ہے اس ادارے نے ا ن بے گھر فلسطینیوں کو مدد فراہم کرنے کیلئے عالمی برادری سے547ملین ڈالر کی امداد طلب کی ہے۔ اس رقم کا70 فیصد غزہ پٹی میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد کیلئے خرچ کیا جائیگا۔ اور بقیہ رقم مغربی کنارہ کے بے گھر فلسطینیوں پر خرچ کی جائیگی۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق48لاکھ فلسطینی باشندوں میں سے18لاکھ کو فوری امداد کی ضرورت ہے ۔ 16لاکھ فلسطینی ناکافی اور غیر صحت مند غذا استعمال کررہے ہیں۔2014میں غزہ پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کی تباہ کاریوں سے فلسطینی عوام ابھی تک باہر نہیں نکل پائے ہیں ۔ 50ہزار فلسطینی اب بھی مکان سے محروم ہیں۔ مغربی کنارہ میں8ہزار فلسطینیوں کو گھروں سے محرومی کے خطرے کا سامنا ہے ۔ ہزاروں مسلمان صحت‘پانی‘تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے اسرائیل کے تعلقات پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ ان کی اس دیدہ دلیری کے پیچھے امریکہ اورصیہونی لابی کی طاقت کام کررہی ہے ۔قابل غور بات یہ ہے کہ جہاں امریکہ سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی منظوری کے وقت غیر حاضر تھا وہیں اس نے اس کو روکنے کیلئے ویٹو پاور کا استعمال بھی نہیں کیا۔ دوسری طرف روس نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے جو اس وقت مشرق وسطیٰ کے سیاسی مسائل میں دلچسپی دکھا رہا ہے اور امریکہ کو کنارے پر کرنے کی تیاری کر چکا ہے۔ نتین یاہو نے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کیلئے بین الاقوامی ادرے کی5تنظیموں کو تقریباً 78 لاکھ ڈالر کی امداد روک چکے ہیں۔اس قرارداد پر فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ امن بات چیت عالمی قوانین ‘ بین الاقوامی قراردادوں خصوصاً اس قرارداد کی روشنی میں ہونا چاہیئے اور مملکت فلسطین کے قیام کیلئے اب ایک وقت مقرر کردینا چاہیئے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا رد عمل یہ تھا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیر قانونی یہودی بستیاں دو مملکتی حل کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اگر یہودی توسیع پسندی کا سلسلہ جاری رہا تو فلسطینی۔ اسرائیل مسئلہ کا حل سنگین خطرے میں پڑسکتا ہے اسرائیل نے1967کی عرب۔ اسرائیل جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ان پر بستیوں کی تعمیر کئی برسوں سے جاری رکھے ہوئے ہے یروشلم کی بلدیہ نے گزشتہ دنوں یہودیوں کیلئے500نئے مکانات کی منظوری دی ہے۔
یہودی حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے فلسطینیوں کا غم و غصہ بڑھ رہا ہے اسلئے چاقو سے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا لیکن اس بہانے سے اسرائیل سیکوریٹی فورس نے کئی نہتے فلسطینی نوجوانوں کو گولی مار دی انہوں نے لڑکیوں کو بھی نہیں بخشا۔2016میں اسرائیلی فوج نے100افراد کوہلاک کردیا جن میں33بچے شامل ہیں۔ اسطرح فلسطینیوں کیلئے سال گزشتہ بھی خونریز ثابت ہوا۔اکتوبر2015سے مغربی کنارہ میں جو کہ غزہ پٹی کے مقابلے کسی حد تک پر سکون علاقہ ہے پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ایک طرف اسرائیل کے سلامتی دستے‘پولیس فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں تو دوسری طرف یہودی بازآباد کار جن کو دُنیا کے مختلف ممالک سے لاکر بسایا جارہا ہے ان پر تشدد کرتے ہیں ۔ ان کے مکانات‘یا دوکانوں کو آگ لگا دیتے ہیں ۔ فلسطینیوں کی دادرسی کا کوئی سامان نہیں ہے۔عدالت‘پولیس سبھی کچھ اسرائیل کا ہے۔ ہتھیار اور طاقت بھی اسی کے پاس ہے 2015 میں پر تشدد واقعات میں246فلسطینی مارے گئے تھے۔2015میں اکتوبر سے ڈسمبر کے درمیان 136 فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ گزشتہ سال جملہ111 فلسطینی مارے گئے ان میں99مرد اور12خواتین شامل ہیں۔
ان فلسطینیوں کے غم و غصہ کی وجہ صاف ہے کہ اسرائیل ان سے نہ صرف ان کا ملک چھین رہا ہے بلکہ ان کے سروں سے گھر کی چھت بھی نکال رہا ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہوئے مغربی کنارے میں1990کے دہے سے اب تک جبکہ اوسلو معاہدہ ہوا تھا2لاکھ70ہزار یہودیوں کو لا کر بسایا گیا ہے ۔ 2009میں بارک اوباما کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تقریباً ایک لاکھ یہودیوں کو لا کر بسایا گیا ہے۔ آج مغربی کنارہ میں یہودیوں کی تقریباً150بستیاں ہیں جن میں 4 لاکھ یہودی آباد ہیں۔ اسرائیل کی جملہ آبادی اس وقت83 لاکھ بتائی جاتی ہے اس تیز رفتاری کو دیکھتے ہوئے فلسطینیوں میں بے چینی پائی جارہی ہے اور وہ بے حس دُنیا سے انصاف کے منتظر ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے20جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا جائزہ حاصل کر لیا ہے۔ ٹرمپ ایک تاجر ہیں سیاستداں نہیں ہے۔ اسرائیل کو ان سے توقعات بھی ہیں اور خدشات بھی ہیں۔ نتین یاہو چاہتے ہیں کہ وہ جتنی تیزی سے فلسطینی علاقوں میں نئی بستیاں بسا سکتے ہیں بسا کر وہاں یہودی باز آباد کاروں کو آباد کریں اور فلسطینیوں کو ملک کے کونوں میں دھکیل کر اس طرح لاچار کردیں کہ وہ اس صورت میں کہ دو قومی حل کی راہ ہموار ہو اپنے وطن کے حدود اربعہ پر شرمندہ ہوجائیں ۔غزہ پٹی کا رقبہ انتہائی کم ہے جبکہ مغربی کنارہ بھی اب سکڑ رہا ہے ایسے میں فلسطین کو اگر ایک الگ مملکت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے تو اس کے کیا خدو خال ہوں گے یہ عالمی قائدین اور امن مذاکرات میں حصہ لینے والوں کیلئے ایک پیچیدہ اور اہم سوال ہے کوئی بھی ملک یا دُنیا کی سوپر پاور کہلانے والا امریکہ اسرائیل کو ان بستیوں کو بسانے سے روک نہیں پایا ان بستیوں کی تعمیر کیلئے یورپ سے عطیات دیئے جاتے تھے جن کو موجودہ حالات کے تناظر میں روک دیا گیا۔ اسرائیل میں ان بستیوں کی تعمیر کی مخالفت عرب ممالک ایک عرصہ سے کرتے آرہے ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ میں مذمتی قرارداد منظور کرانے کی کئی مرتبہ کوشش بھی کی ہے لیکن امریکہ ہر وقت دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا تھا۔ امریکہ کے رویہ میں اگرچہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تبدیلی محسوس کی جارہی ہے لیکن یہ تبدیلی کب تک رہے گی کہنا مشکل ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرنے پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ اسلئے نتین یاہو اس کو روکنے کیلئے اقدامات میں مصروف ہورہے ہیں۔ویٹو کا اختیار5ممالک امریکہ‘روس‘چین‘ جرمنی اور برطانیہ کے پاس ہے ۔امریکہ غیر حاضر رہا اور دوسرے ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا‘ لیکن اب نتین یاہو جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو سفارتی چیانلس کے ذریعہ راضی کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اگر اسرائیل کے خلاف کوئی پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو وہ ان کو ویٹو کردیں۔ جرمنی میں عنقریب انتخابات منعقد ہونیوالے ہیں۔مرکل نے انتخابات میں پھر سے حصہ لینے کا اشارہ دیا ہے ہوسکتا ہے کہ نتین یاہو مرکل کو کامیاب بنانے کے بدلے اسرائیل پر پابندیاں نہ لگانے کا سودا کر لیں۔ حالیہ جرمنی میں پناہ گزینوں کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کو مقبولیت ملی ہے جو اسلام دشمن پروپگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔ایسے میں اگر یہودی لابی مرکل کا ساتھ دیتی ہے تو وہ ایک مرتبہ پھر ملک کی چانسلر بن سکتی ہیں۔ نتین یاہو یہی سمجھ رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل کی دوستی برقرار رکھے گا اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اوباما انتظامیہ نے باوجود تلخیوں کے اسرائیل کو5ارب ڈالر کی دفاعی امداد منظور کی ہے۔ تا ہم وزیر اعظم اسرائیل کو اس بات کا خدشہ ہے کہ یوروپی ممالک اور روس اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسلئے وہ کوشش کرے گا کہ ٹرمپ انتظامیہ جس کے ساتھ روس نے مثبت تعلقات کا اشارہ دیا ہے اسلئے وہی ڈھال کا کام کرے جو ماضی میں دوسرے صدور کرتے آئے ہیں۔روس کے مشرق وسطیٰ میں مفادات کو دیکھتے ہوئے اسرائیل اس کی دشمنی مول لینے کی کوشش نہیں کرسکتا۔اسلئے وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد پر کھلے عام ناراضگی کے باوجود اسرائیل نے خفیہ سفارتی رابطوں کے ذریعہ سے اپنے حلیف ممالک کو راضی کرنے کی کوشیش شروع کردی ہیں۔
اس دوران امن مذاکرات کے نام پر پیرس میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا ہے تا ہم اسرائیل کے قائدین اور عہدیدار توقع کررہے ہیں کہ اگر برائے نام پابندیاں بھی لگا دی گئیں تو ان کا اثر زیادہ نہیں پڑے گا۔ اس سلسلے میں وہ روس کی مثال لے رہے ہیں۔یوکرین کے کریمیا علاقہ پر قبضہ کے بعد اقوام متحدہ اور یوروپی یونین نے بھی روس پر سخت پابندیاں لگا دی تھیں لیکن جب روس نے یوروپی ممالک کو گیاس کی سربراہی روک دینے کی دھمکی دی تو ان پابندیوں میں فوری نرمی لائی گئی۔ اسی طرح اسرائیل کو توقع نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس پر کچھ سخت پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔
دوسری طرف حال ہی میں یروشلم میں ہوئے ٹرک حملہ نے اسرائیل کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ دُنیا کو مظلوم ہونے اور دہشت گردی کا شکار ہونے کی دہائی دے سکے۔خطہ عرب کا کوئی ملک اب اس قابل نہیں رہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی ذمہ داری قبول کرسکے۔ یہ ممالک جنگوں اور داخلی بحران کی وجہ سے اپنی طاقت کھو چکے ہیں۔صرف مغربی ممالک ہی فلسطین کے مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں ایسے میں یہ مثبت قرارداد امید کی کرن ہے لیکن مستقبل قریب میں ایسا نہیں لگتا کہ فلسطینیوں کو فوری کوئی راحت مل جائے گی کیونکہ قرارداد کی منظوری کے بعد بھی فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری یہی ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل کتنا بے خوف ہے اور وہ جانتا ہے کہ اقوام متحدہ میں اپنے حلیفوں کے ذریعہ سے وہ کسی بھی قرارداد کو ناکام بناسکتا ہے۔اس کی جھنجھلاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس تو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ اس کو دُنیا میں یکا و تنہا کرنے کی طاقت وہ رکھتا ہے امریکہ اگر چاہے تو مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کیلئے برسوں انتظار کرنا نہیں پڑے گا۔

Comments

comments