Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » کرناٹک بی جے پی پھوٹ کے دہانے پر ! یدی یورپا، ایشورپا انا کا لبادہ اُتارنے تیار نہیں ؟
کرناٹک بی جے پی پھوٹ کے دہانے پر ! یدی یورپا، ایشورپا انا کا لبادہ اُتارنے تیار نہیں ؟

کرناٹک بی جے پی پھوٹ کے دہانے پر ! یدی یورپا، ایشورپا انا کا لبادہ اُتارنے تیار نہیں ؟

ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک اسمبلی کی معیاد جہاں کانگریس پارٹی برسر اقتدار ہے‘اندرو ن ایک سال ختم ہونیوالی ہے۔ ہر سیاسی جماعت انتخابات میں عوام سے دوبارہ رجوع ہونے کیلئے اپنے کیل کانٹے درست کررہی ہے لیکن اپوزیشن زعفرانی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر کچھ ٹھیک ٹھاک نظر نہیں آرہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے نور نظر اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے با اعتماد رفیق و سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا جنہیں سابق میں جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں پارٹی کو مسند اقتدار عطا کرنے کا اعزاز حاصل ہے‘سردست ریاستی پارٹی کی قیادت بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ مودی اور شاہ نے کرپشن کے الزامات کے باوجود یدی یورپا کو کرناٹک بی جے پی کا سربراہ بنایا ہے۔ مودی اور شاہ کو ایسا لگتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں یدی یورپا ہی پارٹی کی کشتی کو بھنور سے نکال کر بی جے پی کو ایک بار پھر اقتدار پر لے آئیں گے۔ ان دونوں کا منصوبہ اس وقت خاک میں ملتا ہوا نظر آرہا ہے کہ یدی یورپا اور ریاست کے ایک اہم و سینئر پارٹی قائد ایشورپا کے درمیان اختلافات عروج پر پہنچ گئے اور دونوں کی گھمسان میں پارٹی کا امیج خراب ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ان دونوں قائدین‘صلح کیلئے تیار ہوجائیں مگر اس کے باوجود پارٹی میں گروپ بندی کے امکان کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ یدی یورپا اور ایشورپا کے مابین دوریاں یقیناً پارٹی کی مرکزی قیادت کو پریشان ضرور کرسکتی ہیں۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کیلئے ایک سال کا وقت بچا ہے ایسے میں ریاست کے دو اعلیٰ بی جے پی قائدین میں انا کا ٹکراؤ اس زعفرانی سیاسی جماعت کا بیڑا غرق کرسکتا ہے۔ کے ایس ایشورپا اور بی ایس یدی یورپا کا گروپ پارٹی اجلاسوں اور عوامی پروگرام سے دور ہے کوئی گروپ شرکت کرتا ہے تو دوسرا اس سے غیر حاضر ہورہا ہے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر یدی یورپا خود کو چیف منسٹری کے دعویداری کے اپنے موقف کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں جبکہ ان کا یہ طریقہ کار ایشورپا کو پسند نہیں ہے۔ایشورپا جنہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو طاقت پہنچانے کیلئے ایک خانگی فوج کوجو’’ سنگولی راینا بریگیڈ‘‘ کے نام سے تشکیل دی ہے‘تحلیل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں جبکہ ریاستی صدر انہیں ہدایت دے چکے ہیں کہ وہ اس بریگیڈ کو تحلیل کردیں۔سنگولی راینا بریگیڈ کے مسئلہ پر ریاستی بی جے پی پھوٹ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔یدی یورپا نے حکم عدولی کے خلاف ریاست میں تشکیل کردہ مختلف کمیٹیوں سے ایشورپا اور ان کے وفادار ٹولہ کو باہر کردیا ہے یہ بات سابق چیف منسٹر کے ناقد ایشورپا کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ بی جے پی کی قیادت کو پریشان دیکھتے ہوئے آر ایس ایس نے ان دو قائدین میں مصالحت کرانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کی مرکزی قیادت یہ قطعی نہیں چاہتی کہ بی ایس یدی یورپا اور ایشورپا میں اختلافات شدت اختیار کر جائیں اسے ڈر ہے کہ کہیں ایشورپا اپنا الگ گروپ بنا کر‘ ریاست میں بی جے پی کی کامیابی کے امکانات کو ملیا میٹ کردیں حالانکہ دونوں گروپ پارٹی سے وفاداری کا عہد کررہے ہیں مگر اس کے باوجود سنگولی راینا بریگیڈ کے مسئلہ پر پارٹی میں پھوٹ کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔
یدی یورپا‘ایشورپا اور ان کے ٹولہ سے مفاہمت کرنے کے حق میں نہیں ہے ان کا ماننا ہے کہ مجھے ریاستی پارٹی کا صدر بنایا گیا ہے اسلئے یہاں صرف میرا حکم ہی چلتا ہے۔73سالہ بی ایس یدی یورپا‘ریاست میں بی جے پی کے مقبول عام چہرہ ہیں‘بی جے پی کی مرکزی قیادت کو ان پر ہی بھروسہ ہے کہ وہ ایک بار پھر پارٹی کو جیت دلائیں گے۔ وہ‘ریاست میں سیاسی طور پر مستحکم طبقہ لنگایت سے تعلق رکھتے ہیں اس کے علاوہ یدی یورپا کو جنوبی ہند میں پہلی بار بی جے پی کو اقتدار کی گلیاروں تک پہنچانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ تا ہم یدی یورپا کے طریقہ کار سے پارٹی قائدین ناخوش ہیں۔ریاست کے پارٹی قائدین کا ماننا ہے کہ یدی یورپا‘من مانی کررہے ہیں۔ دو سال قبل ہی بی ایس یدی یورپا‘بی جے پی میں دوبارہ شامل ہوئے ہیں اس سے قبل انہوں نے کرپشن کے سنگین الزامات کے درمیان اقتدار چھوڑ دیا تھا اس کے بعد انہوں نے اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت تشکیل دی تھی جس نے گذشتہ انتخابات میں بی جے پی کی کشتی کو انتخابی بھنور میں پھنسا دیا تھا۔
68سالہ کے ایس ایشورپا‘ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر رہ چکے ہیں۔کروبا طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایشورپا نے اپنے سیاسی موقف کو مستحکم بنانے اور آئندہ انتخابات میں سودے بازی سے چیف منسٹری یا کوئی بڑا عہدہ حاصل کرنے کیلئے سنگولی راینا بریگیڈ تشکیل دیا تھا۔ان کی نظر بھی چیف منسٹری کی کرسی پر لگی ہوئی ہیں جبکہ اس باوقار عہدہ کیلئے یدی یورپا پہلے سے ہی میدان ہموار کر چکے ہیں۔یدی یورپا کو لگ رہا ہے کہ ایشورپا‘ مستقبل میں ان کے چیف منسٹر بننے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اسلئے وہ بریگیڈ تحلیل کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں حالانکہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ ایشورپا بریگیڈ کو تحلیل نہیں کریں گے۔حیرت کی بات ہے کہ پارٹی کے یہ دونوں قائدین کی سیاسی سرگرمیاں ضلع شموگہ میں زیادہ ہیں ایشورپا اور یدی یورپا اپنے‘اپنے موقف پر بضد ہیں۔ اس سے قبل یدی یورپا نے بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا تھا مگر اس میں اہم قائدین نے شرکت نہیں کی جس کے بعد مجلس عاملہ کا دوبارہ اجلاس کلبرگی میں طلب کیا گیا شائد یہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

Comments

comments