Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » ہندوستان اور مسلمان (قسط 13 )
ہندوستان اور مسلمان (قسط 13 )

ہندوستان اور مسلمان (قسط 13 )

مرزا شہاب الدین بیگ محمد خان (شاہجہاں)
شاہجہاں مغلیہ سلطنت کا پانچواں بادشاہ تھا۔شہنشاہ جہانگیر اور ان کی راجپوت اہلیہ رانی من ماتی عرف بی بی بلقیس ملکانی کے تیسرے فرزند کی حیثیت سے شہزادہ خرم کی پیدائش جنوری1592میں ہوئی تھی۔شاہجہاں کو دُنیا ان کے محبت کے شاہکار تاج محل کی وجہ سے جانتی ہے جس کو محبت کی نشانی بھی کہا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس وقت شہزادہ خر م کی پیدائش ہوئی اس وقت اکبر اعظم زندہ تھا۔ ایک نجومی کی پیش قیاسی پر عمل کرتے ہوئے اکبر نے خرم کو جو صرف6دن کا تھا پرورش کیلئے اپنی پہلی بیوی رقیہ بیگم کے حوالے کردیا تھا۔ رقیہ بیگم لاولد تھیں۔ نجومی نے پیش قیاسی کی تھی کہ جہانگیر کو جو بیٹا ہوا ہے وہی مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھالے گا۔رقیہ بیگم نے اکبر سے خواہش کی کہ وہ مستقبل کے شہنشاہ کی پرورش کرنا چاہتی ہیں چنانچہ اکبر نے ان کی خواہش پوری کردی۔ اس طرح خرم13برس تک رقیہ بیگم کی نگرانی میں پرورش پاتا رہا۔اکبر کی موت کے بعد خرم کی جہانگیر کے محل واپسی ہوئی تب اس کی ملاقات اپنی حقیقی ماں سے ہوئی۔ دیگر شہزادوں کی طرح خرم کیلئے بھی تعلیم کا اہتمام کیا گیا۔1605میں جہانگیر تخت پر بیٹھا اس نے اپنے بڑے بیٹے شہزادہ خسرو کی بغاوت کو کچل دیا۔ اس وقت شہزادہ خرم کو تاج و تخت کا مفہوم بھی نہیں معلوم تھا وہ شاہی محل کے آرام لوٹ رہا تھا۔1607میں شہزادہ خرم کی منگنی ارجمند بانو بیگم سے کردی گئی جو بعد میں ممتاز محل کہلائیں ۔ دونوں کی عمریں15اور14برس تھیں۔ 5سال بعددونوں کی شادی ہوئی۔ اس لڑکی کا تعلق عماد الدولہ کے خاندان سے تھا ۔ وہ نور جہاں کی بھتیجی تھی۔ نور جہاں کی وجہ سے ہی یہ منگنی ہوئی تھی نجومیوں کے کہنے پر5سال بعد یعنی 1612میں ان کی شادی ہوئی۔ شہزادہ خرم کو شہنشاہ جہانگیر نے ہسار۔فیروز پور کی جاگیر عطا کی اور8ہزار سواروں کا سالار بنایا ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ خرم کو ممتاز جہاں سے شادی کیلئے5برس انتظار کرنا تھا اسلئے اس کی پہلی شادی قندہاری بیگم سے کردی گئی جس سے شاہجہاں کو ایک بیٹی ہوئی۔ممتاز محل سے شادی کے بعد شاہجہاں نے کوئی شادی نہیں کی اور اس سے شاہجہاں کو14بچے ہوئے جن میں سے7حیات رہے۔ نور جہاں کی طرح ممتاز محل کا بھی شاہی فیصلوں میں کافی عمل دخل رہتا تھا۔
شہزادہ خرم او رنور جہاں میں اس وقت سے دشمنی پیدا ہوگئی تھی جب یہ معلوم ہوا کہ نور جہاں اپنے داماد شہزادہ شہر یار کو مغلیہ سلطنت کا بادشاہ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے جب فارسیوں نے قندہار کو گھیر لیا تو نور جہاں نے خرم کو حکم دیا کہ وہ مقابلے کیلئے جائے لیکن خرم نے انکار کردیا نتیجہ میں قندہار پر فارسیوں کا قبضہ ہوگیا۔ خرم نے اس وجہ سے جنگ پر جانے سے انکار کردیا کہ اس کی غیر موجودگی میں نور جہاں شہزادہ شہریار کو کو ولی عہد بنا دیں گی۔ اسی خوف کی وجہ سے 1622میں شہزادہ خرم نے ایک فوج تیار کی اور اپنے باپ(جہانگیر) کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا مہتاب خان کی مدد سے اس نے فوج کشی کی کوشش کی لیکن1626میں جہانگیر کی فوج نے اس بغاوت کو کچل دیا اور شہزادہ خرم نے خود سپردگی اختیار کی۔بادشاہ جہانگیر نے اس کو معاف کردیا لیکن شاہجہاں(خرم) کے دل سے نور جہاں کیلئے نفرت کو دور نہیں کیا جاسکا۔ ایک سال بعد ہی جہانگیر بیمار پڑ گیا وہ کشمیر جارہا تھا کہ سرائے سدا آباد کے قریب راستے میں ہی اس کی روح پرواز کر گئی‘اس کی تدفین پہلے باغ سر قلعہ کشمیر میں کی گئی بعد میں نعش کو لے جا کر شاہ دارا باغ لاہور میں دفن کیا گیا۔جہانگیر کا مقبرہ لاہور میں آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ جہانگیر کی موت کے بعد شاہجہاں کو بھی تخت و تاج کا مضبوط دعویدار پایا گیا۔بڑا بیٹا خسرومارا گیا تھا‘ دوسرا بیٹا پرویز کمزور تھا‘ سلطنت سنبھالنے کے قابل نہ تھا ۔تیسرا بیٹا خرم ہی ایسا تھا جس نے رقیہ بیگم کی نگرانی میں تربیت حاصل کی تھی اور باپ سے بغاوت بھی کرچکا تھا ۔ نور جہاں اپنے داماد شہر یار کو بادشاہ بنانے کی خواہاں تھی جو شاہجہاں سے چھوٹا تھا۔ نور جہاں اس منصوبے میں کامیاب ہوجاتی اگر اس کا بھائی آصف خان جس کی بیٹی ممتاز محل سے شاہجہاں نے شادی کی اس کو دھوکہ نہیں دیتا۔ آصف خان بھی اپنی بہن کی طاقت و اختیارات سے نالاں تھا۔ اس کے نتیجہ میں شاہجہاں کی فوج نے شہر یار کی فوجوں کو شکست دیدی اور شہر یار قتل ہوگیا۔1620میں شہزادہ خرم شاہجہاں کی حیثیت سے تخت پر بیٹھ گیا۔
نور جہاں نے اپنی بقیہ زندگی اپنی بیوہ بیٹی لاڈلی(شہر یار کی بیوی) کے ساتھ لاہور کے قلعہ میں گذار دی۔ شاہجہاں نے اس کیلئے وظیفہ مقرر کردیا تھا۔1645میں68برس کی عمر میں نور جہاں کا انتقال ہوگیا۔اس کی تدفین بھی شاہ دارا باغ لاہور میں ہوئی۔ اس کا مقبرہ جہانگیر کے مقبرہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس کے بھائی آصف خان کا مقبرہ بھی قریب ہی ہے اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام میں شاہجہاں نے آگرہ کو اپنا پایہ تخت بنایا۔یہاں اس نے کئی عمارتیں تعمیر کروائیں۔ شاہجہاں نے دوسرے مغل بادشاہوں کی طرح سلطنت کو وسعت دینے کیلئے کئی جنگیں کیں۔ 1630 میں دکن اورگجرات میں زبردست قحط پڑا‘20لاکھ سے زیادہ افراد فوت ہوئے۔کئی دیہات خالی اور ویران ہوگئے ۔ شاہجہاں نے کئی علاقوں میں لنگر کا انتظام کیا تھا۔1632میں شاہجہاں نے دولت آباد(مہاراشٹرا) کے قلعہ پر قبضہ کیا۔اس نے احمد نگر کی نظام شاہی حکومت کے حسین شاہ کو قید کردیا۔1635میں گولکنڈہ اور1636میں بیجا پور فتح کیا۔اس نے اپنے فرزند اورنگ زیب کو دکن کا صوبہ دار(وائسرائے)مقرر کیا۔گولکنڈہ اور بیجا پور اورنگ زیب نے ہی فتح کیئے ہیں۔1634میں سکھوں نے گرو ہر گوبند کی قیادت میں اس وقت بغاوت کردی جب شاہجہاں نے لاہور میں ایک گردوارہ کو مہندم کرنے کا حکم دیا اس سلسلے میں امرتسر اور کٹیار پور میں دو جنگیں لڑی گئیں۔ شاہجہاں نے1638میں قندہار پر بھی قبضہ کر لیا۔ مغل بادشاہ نے اپنی سلطنت کو درہ خیبر اور تمزتی تک وسعت دیدی ۔ شاہجہاں کے سلطنت عثمانیہ سے بھی اچھے تعلقات تھے ۔ سلطان مراد چہارم کے دور میں سفراء کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ ہندوستان میں ارسلان آغا ترکی کے سفیر تھے جبکہ سید محی الدین ترکی میں مغلیہ سلطنت کے سفیر تھے۔تاج محل کی تعمیر میں دو ترک معماروں عیش محمد آفندی اور اسمعیل آفندی کا اہم رول رہا ہے ۔ 1631میں شاہجہاں نے بنگال کے صوبہ دار قاسم خان کو حکم دیا کہ وہ پرتگالیوں کو ہگلی سے نکال باہر کرے۔ پرتگالیوں نے یہاں بندرگاہ کو ایک زبردست قلعہ میں بدل دیا تھا۔توپ خانہ کے ذریعہ اس کو مستحکم بنایا گیا تھا۔ کئی جنگی جہاز یہاں لنگر انداز رہتے تھے ۔ 1632 میں مغل فوجوں نے یہاں قبضہ کر لیا۔
شاہجہاں نے اپنے پیچھے تعمیرات کا ایک شاہکار چھوڑا ہے جس کو تاج محل کہتے ہیں۔1631میں ہی اس کی تعمیر شروع کی گئی۔یہ بات مشہور ہے کہ یہ عمارت شاہجہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروائی تھی۔
ممتاز محل سے شاہجہاں کی شادی20برس کی عمر میں1612میں ہوئی۔ وہ جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی عقلمند بھی تھیں شادی کے بعد نور جہاں کی طرح ممتاز محل کا بھی سرکاری امور میں عمل دخل بڑھ گیا۔ حاملہ ہونے کے باوجود بھی وہ جنگوں میں شاہجہاں کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔1631میں اپنے14ویں بچے کی پیدائش پر ممتاز محل کا انتقال ہوگیا۔ تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ ممتا ز محل نے29گھنٹے در دزہ برداشت کیا اور بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ ان کا انتقال ہوگیا۔ یہ واقعہ1631میں برہان پور کے مقام پر پیش آیا جہاں شاہجہاں دکن کی فتوحات میں مصروف تھا۔ اس وقت بادشاہ ممتاز محل کے قریب ہی تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح رواں تھے۔ اگرچہ ممتاز محل کو ابتداء میں برہان پور میں دریائے تاپتی کے کنارے دفن کردیا گیا بعد میں تاج محل میں منتقل کیا گیا۔ اس کی موت کے بعد ایک سال تک شاہجہاں اس صدمہ سے سنبھل نہیں پایا جب وہ دربار عام میں آیا تو اس کے بال سفید ہوچکے تھے۔کمر جھک گئی تھی۔ شاہجہاں کی بڑی بیٹی جہاں آراء بیگم نے اس کی دیکھ بھال شروع کی اور شاہجہاں کو سمجھا کر اسے واپس امور سلطنت کی طرف راغب کیا۔ڈسمبر1631میں شاہجہاں نے ممتاز محل کی نعش برہان پور سے سونے کے ایک تابوت میں آگرہ منتقل کیا۔ جہاں اس نے اپنی بیوی کی یاد میں ایک ایسی عمارت کی تعمیر شروع کی جس کی تکمیل میں22 برس لگ گئے۔اس عمارت کی تعمیر خود ایک طویل داستان رکھتی ہے۔1632سے1650تک اس کی تعمیر ہوئی ۔ ساڑھے4کروڑ روپے کا صرفہ آیا‘20ہزار مزدوروں اور معماروں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔عمارت مکمل سنگ مر مر سے بنائی گئی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی 130فیٹ اور بلندی200فیٹ ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر قرآنی آیات کنندہ ہیں۔عمارت کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس عمارت کو اندرون و بیرون ملک سے30لاکھ سیاح ہر سال دیکھنے آتے ہیں۔
شاہجہاں نے اپنے دور میں کئی تاریخی مساجد تعمیر کروائیں۔لال قلعہ بھی شاہجہاں نے ہی تعمیر کروایا تھا۔آگرہ کے قلعہ کی توسیع بھی اسی کے دور میں کی گئی۔آج سیاحوں کیلئے جو حصہ کھلا رکھا گیا ہے وہ شاہجہاں کے دور کے ہی تعمیر ہے اس کے علاوہ آگرہ کی جامع مسجد‘وزیر خان مسجد‘موتی مسجد‘کشمیر کا شالیمار گارڈن‘لاہور کے قلعہ کی توسیع‘پشاور میں مہتاب خان کی مسجد‘ جہانگیر کا مقبرہ‘ شاہجہانی مسجد اسی کے دور کی تعمیرات ہیں۔ شاہجہاں جس تخت وطاوس پر براجمان ہوتا تھا وہ مور کی شکل کا تھا۔اس دور کی تعمیر کردہ کئی عمارتوں کو یونیسکو نے اپنی یادگاروں میں شامل کر رکھا ہے۔
1658میں شاہجہاں بیمار پڑھ گیا۔اس کا بڑا بیٹا داراشکوہ(ممتاز محل کا بڑا بیٹا)سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھالنے لگا ۔ نتیجہ میں شہزادوں میں دشمنی پیدا ہونے لگی ایک بھائی شجاع بنگال‘دوسرا بھائی مراد بخش گجرات کا اور تیسرے بھائی اورنگ زیب دکن کا صوبہ دار تھا۔شجاع اور مراد بخش نے خود مختاری کا اعلان کردیا۔اورنگ زیب فوج لے کر آگرہ پہنچے اور سامو گڑھ کی لڑائی میں اپنے بھائی دارا شکوہ کو شکست دیدی۔ اس وقت تک شاہجہاں روبہ صحت ہوچکا تھا لیکن اورنگ زیب نے اس کو قید میں ڈال دیا اور اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ شاہجہاں نے8برس کی قید و بند کی زندگی بسر کی ۔ اس دوران اس کی بڑی بیٹی جہاں آراء بیگم ہی باپ کی خدمت کرتی رہی۔وہ مینار نما عمارت آج بھی قلعہ آگرہ میں موجود ہے جہاں شاہجہاں نے اپنے آخری ایام گذارے تھے۔یہاں سے تاج محل صاف دکھائی دیتا ہے ۔ 1666 میں شاہجہاں اس قدر بیمار پڑ گیا کہ بستر سے لگ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ22جنوری کو اس نے اپنے محل کی تمام خواتین کو طلب کیا اور ان کو جہاں آراء کی ذمہ داری دے کر کلمہ پڑھتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔74سا ل کی عمر میں مغلیہ سلطنت کے اس تاجدار نے اپنی آخری سانس لی۔سید محمد قنوجی اور آگرہ کے قاضی قربان نے میت کو غسل دیا اور صندل کی لکڑی سے بنے تابوت میں اس کو رکھا گیا۔شہزادی جہاں آراء چاہتی تھی کہ ان کے باپ کا جنازہ شان سے نکلے لیکن اورنگ زیب نے انکار کردیا۔نعش کو قریبی تاج محل میں لے جاکر ممتاز محل کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ اس طرح مغلیہ دور کے ایک شہنشاہ کا اختتام ہوا۔ شاہجہاں نے لال قلعہ تعمیر کرنے کے بعد پایہ تخت وہیں منتقل کردیا تھا بعد کے تمام مغل بادشاہوں نے اسی قلعہ کو اپنا پایہ تخت بنایا۔ شاہجہاں نے ممتاز محل سے شادی کرنے سے پہلے قندہاری بیگم1609سے شادی کی ان سے ایک شہزادی جہاں آراء بیگم پیدا ہوئی تھیں ۔ دوسری شادی نمر النساء بیگم سے کی ان سے بھی ایک لڑکی ہی ہوئی۔ ممتاز محل سے14اولادوں میں صرف7زندہ رہے۔

Comments

comments