Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » سورت، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے ؟
سورت، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے ؟

سورت، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے ؟

سورت‘ گجرات کا بندرگاہی شہر ہے جس کو ماضی میں سوریہ پور بھی کہا جاتا تھا۔ یہ ریاست کا معاشی دارالحکومت بھی کہلاتا ہے اور احمد آباد کے بعد یہ گجرات کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس شہر کو2013میں بہترین مہمان نوازی کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ جبکہ صاف صفائی میں یہ ہندوستان کا تیسرا صاف ستھرا شہر ہے ۔سورت کا شمار دُنیا کے تیز رفتار ترقی کرنیوالے شہروں میں بھی کیا جاتا ہے۔ دارالحکومت گاندھی نگر سے یہ284کیلو میٹر دور ہے جبکہ احمد آباد سے اسکا فاصلہ265کیلو میٹر ہے ۔ ممبئی سے یہ289کیلو میٹر دور ہے۔ دریائے تاپتی کا جنوبی کنارہ اس سے صرف 22 کیلو میٹر دور ہے۔ شہر دو حصوں یعنی پرانا اور نیا میں منقسم ہے۔ یہاں کئی تاریخی یادگاریں ہیں۔ شہر کی آبادی45لاکھ ہے ان میں5لاکھ مسلمان اور ایک لاکھ جین برادری کے لوگ ہیں۔ مسلمانوں میں داودی بوہرہ فرقہ کا یہ مرکزی علاقہ تصور کیا جاتا ہے جبکہ دیگر فرقوں کے لوگ بھی یہاں بستے ہیں۔ الجماعت الیسنفیہ کے نام سے بوہرہ فرقہ کا جماعت خانہ اور تعلیمی مراکز شہر کے نور پورہ‘بیگم پورہ علاقہ میں واقع ہیں۔ صنعتی علاقہ ہونے کی وجہ سے شہر کی سالانہ شرح ترقی11.5فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔2013میں اس کو ہندوستان کے پہلے اسمارٹ سٹی کے طور پر بھی منتخب کیا گیا تھا۔ آئی ٹی کمپنیوں مائیکرو سافٹ اور ویپرو کے فنڈ سے یہاں ترقیاتی کام کیئے گئے ہیں ۔شہر کی65فیصد آبادی انٹر نیٹ استعمال کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں جن شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طور پر ترقی دینے کیلئے منتخب کیا ہے ان میں سورت بھی شامل ہے ۔ 1512سے 1530 تک یہاں پرتگالیوں کا قبضہ تھا۔1513میں یہاں کا دورہ کرنیوالے پرتگالی سیاح نے اس شہر کو بندرگاہی اہمیت کے لحاظ سے انتہائی اہم شہر قرار دیا تھا۔پرتگالی اسی بندر گاہ کے ذریعہ اپنی تجارتی سرگرمیاں انجام دیتے تھے۔1540میں یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کیا گیا تھا جو آج بھی قائم ہے ۔1608 سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہاز بھی یہاں لنگر انداز ہونے لگے ۔ انگریزوں نے پرتگا لیو ں پر قابو پالیا اور یہاں برطانوی کمپنیاں قائم ہونے لگیں۔1662میں سورت کی اہمیت اس وقت گھٹنے لگی جب انگریز ممبئی کی طرف متوجہ ہوگئے ‘یہ علاقہ بتایا جاتا ہے کہ چارلس دوم کو شہزادی کیتھرین سے شادی کرنے کے عوض بطور جہیز دیا گیا تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے بامبے (ممبئی ) میں اپنی کمپنی قائم کر لی۔ جس وقت سورت اصل بندر گاہ تھا اس وقت اس کی آبادی8لاکھ تھی اور19ویں صدی کے وسط تک اس کی اہمیت اس قدر گھٹ گئی کہ آبادی صرف80ہزار رہ گئی۔1759میں انگریزوں نے دوبارہ سورت پر قبضہ کر لیا ۔1730میں بغداد سے ایک یہودی جوزف سیما یہاں آیا اور یہودیوں کی ایک عبادت گاہ اور قبرستان قائم کیا۔اگرچہ یہودی عبادت گاہ کو مہندم کردیا گیا ہے لیکن قبرستان باقی ہے۔ کٹارا گام اور امرولی سڑک پر یہ قبرستان آج بھی موجود ہے ۔ 1733میں سورت کے مغل گورنر لیکا دار نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا۔یہ نوابی طرز کی حکومت تھی انگریزوں نے اسے مغلوں سے تحفظ فراہم کرنے کا تیقن دے کر علاقہ پر عملاً اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔ سورت میں1837میں زبردست تباہی آئی تا ہم انگریزوں اور ڈچ باشندوں کے مقبرے محفوظ رہے ۔ اس وقت تک شہر کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس دور میں یہاں کپڑے کی صنعت کا آغاز ہوا۔ 1994میں بھی یہ شہر سیلاب سے متاثر ہواچونکہ یہ بندر گاہ ایران سے قریب ہے اسلئے ایران سے زیادہ تر تجارت اسی بندرگاہ کے ذریعہ ہوتی ہے۔سورت میں انٹر نیشنل ایر پورٹ بھی قائم ہے۔یہاں بحرہ عرب کے ساحل پر ایک چھوٹی سی خلیج ہے جس کو گلف آف بامبے کہا جاتا ہے۔1970سے ہی یہ شہر ترقی کرنے لگا تھا چونکہ یہ ایک تجارتی شہر ہے اسلئے لوگ بہت زیادہ تعداد میں اس کا رُخ کرتے ہیں شہر میں ساحل‘ تاریخی مقامات کے علاوہ امیوزمنٹ پارکس‘ منادر‘مساجد سبھی کچھ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ساحلی تفریح گاہیں:سورت اگرچہ ساحلی شہر ہے لیکن ابھی تک اس کے ساحلوں کو سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی نہیں دی جاسکی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ریت سیاہ ہوتی ہے۔کالی مٹی کے ساحل کو بہت کم متوجہ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اس شہر کے ایک ساحل دوماس بیچ سے کئی بھوت پریت کی کہانیاں بھی وابستہ ہیں۔ دوماس بیچ شہر سے21کیلو میٹر دور جنوب مغرب میں ہے تا ہم لوگ یہاں مندر کے درشن کیلئے زیادہ آتے ہیں۔ مرارجی دیسائی سرکل پر ریسٹ رومس بھی مل جاتے ہیں‘یہاں کئی ہوٹلس ہیں جہاں آپ انواع اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔بھیجہ پاؤ‘پاؤ بھاجی ‘ سویٹ کارن یہاں سیاحوں کی پسندیدہ اشیاء ہیں اس کے علاوہ شہر سے تقریباً25کیلو میٹر دور سوالی بیچ ہے یہ ساحل سورت کے نواح میں واقع ایک دیہات ہزیرا میں ہے یہ ایک صاف ستھرا ساحل ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی یہاں سے لوہا منتقل کرتی تھی۔گجرات کے قریب نور سرائے کے مقام پر امبرات بیچ ہے یہ بھی مشہور تفریح گاہ ہے۔
گوپی تلاؤ:شہر کے بیچوں بیچ واقع اس تالاب کو ایک خوبصورت تفریح گاہ میں بدل دیا گیا ہے۔لوگ اکثر اپنی شام اس تالاب کے کنارے گذارتے ہیں۔ یہ تالاب گوپی پورا بستی میں واقع ہے۔مغل دور میں شہر کے گورنر ملک گوپی نے اس تالاب کو خوبصورت جھیل میں بدلنے کے کئی اقدامات کیئے تھے۔سورت میں میونسپل کارپوریشن نے2012میں اس کو جدید پارک میں ترقی دی جملہ22کروڑ روپے کی لاگت سے اس جھیل او راس کے اطراف و اکناف کے علاقہ میں ترقیاتی کام کئے گئے ہیں۔99ہزار مربع میٹر پر یہ جھیل سیاحت کا ایک بہترین مقام ہے اس تفریح گاہ کو7زونس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ڈائمنڈ زون‘فوڈ زون‘انوائرمنٹ زون‘ہسٹری زون‘ فرقہ وارانہ ہم آہنگی زون‘ٹیکسٹائل زون‘ زاویر لیگ‘نیچر کلب سورت نے ایر پورٹ کے قریب واقع ایک تالاب کو محفوظ بنایا ہے۔ یہ علاقہ نقل مکانی کر کے آنیوالے پرندوں کیلئے محفوظ ہے۔ اگر آپ رنگ برنگے پرندے دیکھنا چاہتے ہیں تو یہاں ضرور جائیں۔دریائے تاپتی کا کنارہ: شہر اس قدر پھیل چکا ہے کہ تاپتی کا کنارہ جو شہر سے22کیلومیٹر تھا اس شہر کے قریب آچکا ہے اس دریا کے کنارے ادجان کے مقام پر بہترین تفریحی مقام ہے جہاں آپ دریا کے کنارے سیر و تفریح کا لطف اُٹھا سکتے ہیں۔
ایک کھمبا مسجد: کسی بھی عمارت کی پائیداری کیلئے ستون(کھمبا) ضروری ہے لیکن یہ200سالہ قدیم مسجد صرف ایک کھمبے یا ستون پر کھڑی ہوئی ہے۔2001میں زلزلہ آیا‘2006میں سیلاب آیا لیکن اس عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔مسجد کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ بہت پرانی ہے اس کے نقش و نگار دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔انداز تعمیر مغلیہ سلطنت کا ہے۔اس مسجد میں ایک چشمہ بھی ہے۔یہاں مولویوں اور شہزادوں کیلئے وضو کرنے کا مقام الگ بنایا گیا ہے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ چند برس پہلے انجینئروں کی ایک ٹیم یہاں پہنچی تھی اور انہوں نے مسجد کا تفصیلی معائینہ کیا لیکن وہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے کہ صرف ایک ستون کے سہارے یہ مسجد کس طرح قائم ہے اس مسجد کے احاطے میں روزانہ سینکڑوں افراد نمازیں ادا کرتے ہیں یہ مسجد جہاں قائم ہے اس کو رمضان بازار کہتے ہیں جبکہ علاقہ کا نام رینڈر ہے۔
الجماعت السیفیہ:یہ بوہرہ فرقہ کا مدرسہ ہے جس کو1814میں43ویں داعی سیدنا ابدالی سیف الدین نے قائم کیا تھا اور انہوں نے ہی اس کا نام درس سیفی رکھا۔ فرقہ کے51ویں داعی سیدنا طاہر سیف الدین نے یہاں سیکولر مضامین جیسے سائنس وغیرہ متعارف کروائے۔ اور1960 کے دہے میں انہوں نے ہی موجودہ نام الجماعت السیفیہ دیا ۔ 52ویں داعی سیدنا محمد برہان الدین نے یہاں لڑکیوں کیلئے جامعہ تعمیر کروایا اور کیمپس کو کافی وسعت دی۔ اس جامعہ سے قریب مسجد معظم ہے یہ بھی داودی بوہرہ فرقہ نے تعمیر کی ہے یہ قلب شہر زمپا بازار نامی علاقہ میں قائم ہے۔
پرانا قلعہ:یہ بھی سیاحوں کی دلچسپی کا ایک اہم مقام ہے ۔ ہندوستان کی تاریخ میں اس قلعہ کو کافی اہمیت رہی ہے ۔ 14ویں صدی میں محمد بن تغلق نے اس کو تعمیر کروایا تھا۔ انہوں نے سورت شہر کے اطراف حفاظتی دیوار بھی بنائی تھی یہاں جھیلوی(قبائیلی) کے حملے کا بہت خوف تھا۔ اس قلعہ پر مراہٹہ راجہ شیواجی نے دو مرتبہ حملہ کیا تھا سورت کی بندرگاہ کا استعمال مغلیہ دور میں حج کیلئے روانگی کے مقام کے طور پر ہوتا تھا بعد میں پانی کے جہاز ممبئی سے جانے لگے۔ اس قلعہ کو مغل سرائے بھی کہا جاتا ہے۔ مغلیہ دور میں اس قلعہ کو وسعت دے کر ایک ہزار گھوڑے رکھنے کیلئے اصطبل بھی بنایا گیا تھا۔ اس سرائے میں اب سورت میونسپل کارپوریشن کا دفتر قائم ہے۔1644میں شاہجہاں نے اس کی توسیع کروائی تھی۔1867سے یہاں بلدیہ کا دفتر قائم ہے۔
ڈچ قبرستان:پرتگالیوں اور انگریزوں کا یہاں ایک قبرستان بھی ہے جہاں کئی مقبرے ہیں یہ علاقہ کافی ویران ہونے کے باوجود بھی سیاحوں کی وجہ سے پر رونق لگتا ہے ان مقبروں کی وجہ سے لوگوں نے کئی کہانیاں وابستہ کر رکھی ہیں اسلئے مقامی لوگ یہاں جانے سے گھبراتے ہیں اس علاقہ میں 3بڑے مقبرے ہیں ان میں ایک انگریزوں کی فیکٹری کے صدر فرانسس برنٹن کا ہے جو1669میں فوت ہوئے تھے ایک بامبے فیکٹری کے گورنر جارج انگیر کا ہے اور تیسرا جارج اکسنڈن کا ہے چونکہ ان مقبروں کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی ہے اور اس مقام کو سیاحتی مقام کے بجائے ایک قبرستان ہی تصور کیا جاتا ہے اسلئے یہاں جانے سے لوگ ڈرتے ہیں۔
شہر میں اور بھی مشہور تفریح گاہیں ہیں۔ سردار پٹیل میوزیم‘نہرو پارک‘کوی نرسو لائبریری‘مغل گورنر خداوند خان کا مقبرہ‘مسجد‘1540میں ان کا تعمیر کردہ محل سب دلچسپی کے مقامات ہیں ۔سورت شہر کا اسلام سے گہرا تعلق رہا ہے اس بات کے تاریخی ثبوت موجود ہیں کہ عرب اور فارس کے لوگ کونکن اور گجرات کے ساحل پر8ویں یا9ویں صدی عیسوی میں ہی پہنچ گئے تھے۔ عرب تاجرین نے یہاں ایک مسجد ساتویں صدی عیسوی میں تعمیر کی تھی جس کا قبلہ مسجد اقصیٰ کی طرف تھا۔یہاں624اور626عیسوی میں بنائی گئی مساجد بھی ہیں۔ عرب جو عام طور پر تجارت کی غرض سے یہاں آتے تھے مہینوں قیام کرتے تھے اس طرح کچھ عرب باشندے بہرائچ اور سورت میں بس گئے۔ کئی لوگوں نے مقامی خواتین سے شادیاں بھی کیں۔ اس طرح ان کی نسل یہاں بڑھنے لگی۔اس دوران کئی مشہور عرب شخصیتیں صوفی ‘ تاجرین یہاں آئے۔ کہا جاتا ہے کہ صحابی رسولؐ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ بھی گجرات آئے تھے ۔گجرات کے مسلمان علاء الدین خلیجی کے حملے تک ہندو راجاؤں کے دور میں پرسکون زندگی گذار رہے تھے۔
سورت پارچہ کا ایک مشہور مارکٹ بھی ہے۔یہاں ہزاروں کپڑے کے تاجر ہیں۔ ملک کے کونے کونے سے پارچہ کے تاجر یہاں خریدی کیلئے آتے ہیں یہاں یومیہ30ملین کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔یہاں کے پارچہ جات پورے ہندوستان میں شہرت رکھتے ہیں۔ اس لئے یہاں سیاحت کیلئے آنے والے لوگ زیادہ تر کپڑا ہی خرید کر لے جاتے ہیں اس طرح سورت ایک مصروف ترین شہر ہے یہاں پہنچنے کیلئے فضائی ‘ ریل ‘سڑک تمام رابطے دستیاب ہیں ۔ ممبئی‘دہلی سے یومیہ طیارے چلتے ہیں جبکہ سورت ریلوے اسٹیشن ‘ویسٹرن ریلوے کا مصروف ترین اسٹیشن ہے۔ یہ اسٹیشن بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس کی تعمیر1860میں ہوئی تھی ۔ دہلی ‘ اجین ‘واراناسی‘ممبئی سے ٹرینیں چلتی ہیں ۔ بس سرویس بھی ہے۔ ممبئی سے زیادہ بسیں چلتی ہیں۔ شہر میں گھومنے کیلئے سٹی بس اور آٹوز دستیاب ہیں۔ سورت وہ شہر ہے جہاں گاندھی جی نے نمک ستیہ گرہ کی تھی۔

Comments

comments