Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » خصوصی رپورٹ » قسمت کا دھنی ۔ دھونی ہندوستانی کرکٹ کو بلندیوں پر لیجانے والا کپتان
قسمت کا دھنی ۔ دھونی ہندوستانی کرکٹ کو بلندیوں پر لیجانے والا کپتان

قسمت کا دھنی ۔ دھونی ہندوستانی کرکٹ کو بلندیوں پر لیجانے والا کپتان

مہیندر سنگھ دھونی نے ونڈے اور ٹی20کرکٹ کی کپتانی سے سبکدوشی کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ کپتان ہے جس نے ٹیم انڈیا کیلئے کئی کامیابیوں کی تاریخ رقم کی اور ٹیم کی ورلڈ کپ جیسا اعزاز دوبارہ حاصل کرنے میں قیادت کی۔2015میں نئے سال کے موقع پر ٹسٹ کرکٹ سے سبکدوش ہونیکا اعلان کیا تھا۔2017کے آغاز کے موقع پر انہوں نے ونڈے اور ٹی 20 کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ دھونی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ کوئی خلاء چھوڑ کر نہیں جارہے ہیں انہوں نے ویراٹ کوہلی کو ہر طرح کے کھیل کی قیادت کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ یہی نہیں وہ نوجوان کرکٹرز کی ایک ایسی ٹیم کی قیادت چھوڑ رہے ہیں جو ہندوستان کو دیرپا کامیابیاں دلانے کی اہل ہے۔ دھونی نے اچانک کپتانی سے سبکدوشی کا فیصلہ اس وقت سنایا جب سلکٹرز انگلینڈ کے خلاف ونڈے سیریز کیلئے ٹیم کا انتخاب کرنیوالے تھے اسلئے یہ قیاس آرائیاں پیدا ہوئیں کہ کہیں دھونی کو سبکدوشی کیلئے مجبور تو نہیں کیا گیا؟ انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز میں کلین سوئپ کرنے پر ٹسٹ کپتان کوہلی کو ہر گوشہ کی جانب سے سراہا جارہا تھا۔دھونی پر ایک کامیاب کپتان ہونے کے باوجود بھی چند گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی تھیں اسلئے شائد انہوں نے سبکدوشی کیلئے یہی وقت مناسب سمجھا۔ انہوں نے سچن (2سوٹسٹ ‘ 100 سنچریاں) مرلی دھرن (8 سو وکٹ ) کی طرح مناسب وقت کا انتظار نہیں کیا۔
دھونی گزشتہ ایک دہے سے ٹیم انڈیا کی قیادت کررہے ہیں‘انہوں نے آئی سی سی کی تقریباً ٹرافیاں جیتنے میں ٹیم کی قیادت کی ہے۔ کپتان وہی ہوتا ہے جو آگے سے ٹیم کی قیادت کرے۔دھونی نے ٹیم انڈیا کو ٹسٹ کرکٹ اور ونڈے میں بھی سر فہرست مقام پر پہنچایا۔ دھونی نے178فتوحات اپنے نام کئے ہیں اور وہ رکی پونٹنگ کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں جن کے کھاتے میں220کامیابیاں ہیں۔ دھونی کو ہر طرح کے کھیل میں دوسرا کامیاب کپتان ہونیکا بھی اعزاز حاصل ہے۔ دھونی نے ونڈے ٹیم کی قیادت 2007 میں اور ٹسٹ ٹیم کی قیادت 2008میں سنبھالی تھی لیکن ٹسٹ ٹیم کی قیادت پہلے 2014 چھوڑ دی۔ وہ ایک جارحانہ بیٹسمن ہونے کیساتھ ساتھ وکٹ کیپر بھی تھے۔دھونی نے اپنے ونڈے انٹر نیشنل کرکٹ کی شروعات بنگلہ دیش کے خلاف ڈسمبر 2004 میں کی تھی اور صرف3سال کی مدت میں ٹیم کی قیادت سنبھال لی تھی ۔ ٹسٹ کرکٹ میں ان کی شروعات سری لنکا کے خلاف ایک سال بعد ہوئی ۔ 2007میں راہول ڈراویڈ سے ٹیم کی قیادت حاصل کرتے ہی دھونی نے ٹیم کو سری لنکا‘نیوزی لینڈ کے خلاف ونڈے سیریز میں فتح یاب بنایا۔2010ایشیاء کپ‘2011 آئی سی سی ورلڈ کپ اور2013آئی سی سی چمپینس ٹرافی وہ اعزازات ہیں جو دھونی کی کپتانی اور انکی صلاحیتوں کا اعتراف کرتی ہیں۔2011ورلڈ کپ کے فائنل میں دھونی نے 79 گیندوں میں ناٹ آوٹ91رنز بنائے یہ ان کی قیادت کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ورلڈ کپ کے فائنل میں انہوں نے میان آف دی میچ کا خطاب بھی حاصل کیا۔
2013میں جب ٹیم انڈیا نے انگلینڈ کو چمپئینس ٹرافی کے فائنل میں ہرایا تو دھونی ورلڈ کپ‘چمپئینس ٹرافی اور ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے والے پہلے کپتان بن گئے۔2008میں ٹسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے نیوزی لینڈ ‘ ویسٹ انڈیز کا کامیاب دورہ کیا اور2008‘ 2010 اور 2013 میں باڈر۔ گواسکر ٹرافی جیتی۔ 2009 میں انہوں نے ٹسٹ رینکنگ میں ٹیم کو نمبر ایک کے مقام پر پہنچا دیا۔2013میں ان کی ہی قیادت میں ٹیم کو آسٹریلیا کو40برسوں میں سیریز کے تما م میچس میں ہرانے یعنی وائٹ واش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انڈین پریمئیر لیگ میں دھونی نے چینائی سوپر کنگس کی قیادت کی۔2010اور2011کا سیزن جیتا۔ 2010 اور 2014 میں چمپئین لیگ ٹی20بھی انہوں نے جیتا ۔ 30 ڈسمبر 2014کو ٹسٹ ٹیم کی کپتانی سے سبکدوشی کا اعلان کرنیوالے دھونی نے اب ہر طرح کے کھیل کی کپتانی چھوڑنیکا اعلان کردیا ہے۔دھونی کے ایوارڈز کی فہرست بھی لمبی ہے جس میں کھیل رتن سے لے کر پدم شری تک شامل ہیں۔ ہندوستانی فوج نے ان کو لیفٹنٹ کرنل کا بھی اعزاز دیا ہے۔ کپل دیو کے بعد وہ یہ اعزاز حاصل کرنیوالے دوسرے کپتان ہیں۔جن لوگوں نے دھونی کی زندگی پر بننے والی ہالی ووڈ فلم دیکھی ہے وہ جانتے ہیں کہ اس مقام تک پہنچے کیلئے دھونی نے کتنی محنت کی ہے۔ دھونی7جولائی1981کو رانچی میں پیدا ہوئے جو اس وقت بہار میں اور اب ریاست جھارکھنڈ میں ہے۔ وہ راجپوت ہیں۔ دھونی کے والدین اُتر کھنڈ سے نقل مکانی کر کے رانچی آئے جہاں ان کے والد پان سنگھ ملازمت کر تے تھے۔ دھونی کی بہن جینتی گپتا اور بھائی نریندر سنگھ دھونی ہیں۔ دھونی آڈم گلکرسٹ کے مداح ہیں جبکہ بچپن میں وہ سچن تنڈولکر سے متاثر تھے۔ امیتابھ بچن اور لتا منگشیکر کے بھی وہ مداح ہیں۔ دھونی نے رانچی کے ڈی اے وی جواہر ودیا مندر سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ بیاڈمنٹن اور فٹبال کے بہترین کھلاڑی تھے۔ ضلع اور کلب سطح کی ٹیموں میں بھی ان کا انتخاب ہوا تھا۔ دھونی اپنی فٹبال ٹیم کے گول کیپر تھے تاہم کوچ نے ان کو ایک مقامی کرکٹ میچ کھیلنے کیلئے بھیج دیا۔وہاں انہوں نے جو وکٹ کیپنگ کی اس کو دیکھ کر کوچ نے ان کو فٹبال سے نکال کر کرکٹ میں بھرتی کردیا پھر وہ1995میں کمانڈو کرکٹ کلب کے باقاعدہ وکٹ کیپر بن گئے۔ کلب کرکٹ میں ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 1997میں انڈر ۔16 چمپئن شپ (وینو ماکنڈ ٹرافی) کیلئے سلیکٹ کر لیا گیا۔دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد دھونی نے صرف کرکٹ پر ہی توجہ دینا شروع کیا ۔ 2001سے 2003 تک دھونی نے کھڑک پور ریلوے اسٹیشن پر ٹی ٹی آئی یعنی ٹراویلرس ٹکٹ اگزامنیر کی ملازمت بھی کی۔1998میں دھونی کا انتخاب سنٹرل کول فلیڈس لمیٹیڈ کی ٹیم کیلئے کیا گیا ۔ 1998تک بھی دھونی نے جو 12ویں جماعت میں داخل ہوگئے تھے پیشہ ورانہ کرکٹ نہیں کھیلی تھی‘دوول سہائے بہار کرکٹ اسوسی ایشن کے نائب صدر تھے۔ انہوں نے دھونی کو رانچی ٹیم‘ بہار کی جونیر کرکٹ ٹیم اور2000۔ 1999 میں بہار کی سینئر رانچی ٹیم میں شامل کروانے میں اہم رول ادا کیا۔ اسی دوران ایک انڈر۔19میچ میں دھونی کی ٹیم کا مقابلہ پنجاب سے ہوا جس میں یوراج سنگھ کھیل رہے تھے۔ٹیم انڈیا میں راہول ڈراویڈ ایسے کھلاڑی تھے جو بیاٹنگ کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپنگ بھی کرتے تھے۔ سلیکٹرس چاہتے تھے کہ ایسے کھلاڑی تلاش کیئے جائیں جو کئی محاذوں پر کام آئیں۔ اس سلسلے میں پارتھیو پٹیل اور دنیش کارتک کو ٹسٹ ٹیموں میں شامل کیا گیا تھا۔ دھونی فرسٹ کلاس کرکٹ میں شاندار مظاہرہ کررہے تھے۔ انکا انتخاب 2004میں بنگلہ دیش کے خلاف ونڈے ٹیم کیلئے کیا گیا لیکن دھونی نے ونڈے میں اچھی شروعات نہیں کی۔ اس کے بعد پاکستان کے خلاف سیریز میں ان کو منتخب کیا گیا۔دھونی نے وشاکھا پٹنم(آندھراپردیش) میں اپنے پانچویں انٹر نیشنل ونڈے میں 123 گیندوں میں148رنز بنائے۔ سری لنکا کے خلاف ڈسمبر2005میں بہترین مظاہرہ کر کے دھونی نے دنیش کارتک کی جگہ لے لی۔ اس طرح ٹسٹ ٹیم میں انہیں وکٹ کیپر بنا دیا گیا۔پہلے ٹسٹ میں دھونی نے صرف30 رنز بنائے۔دوسرے ٹسٹ میں دھونی نے اپنی پہلی نصف سنچری بنائی ۔ دھونی نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں جوریکارڈزبنائے ہیں ان میں…..
* پاکستان کے خلاف انہوں نے اپنی جو پہلی سنچری(148رنز)بنائی تھی وہ کسی بھی ہندوستانی وکٹ کیپر کی جانب سے تیزی سے بنائی گئی پہلی سنچری تھی۔دو اور وکٹ کیپرس نے بین الاقوامی سطح پر یہ اعزاز حاصل کیا ہے ان میں کامران اکمل(پاکستان) اور آڈم گلکرسٹ(آسٹریلیا) شامل ہیں۔*دھونی کی قیادت میں ہندوستان نے آسٹریلیا کو2008میں320 رنز سے ہرایا ۔ ہندوستان کی اتنے رنز کے فرق سے یہ پہلی کامیابی تھی۔*دھونی کسی بھی ہندوستانی کھلاڑی کی جانب سے ایک اننگز میں سب سے زیادہ کیچس لینے کا بھی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپریل 2009میں ویلنگسٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک میچ میں6کیچس لئے تھے۔*دھونی نے کسی بھی ہندوستانی وکٹ کیپر کی جانب سے ایک اننگز میں سب سے زیادہ آوٹ کرانے کا سید کرمانی کا ریکارڈ برابر کیا ہے۔ سیدکرمانی نے1976میں نیوزی لینڈ کے خلاف5کیچس لئے اور ایک اسٹمپ کرایا تھا۔ دھونی نے بھی 2009 میں نیوزی لینڈ کے6کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔*دھونی نے اپنے کیرئیر میں وکٹ کیپر کی حیثیت سے جملہ 248 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ۔ان کے بعد سید کرمانی (198)کرن مورے(130)نین مونگیا(107)اور فاروق انجینئر (82)ہیں۔*دھونی کی کپتانی میں ٹیم انڈیا نے2009میں سری لنکا کے خلاف ٹسٹ میں726رنز کا اعلیٰ ترین اسکور کھڑا کیا۔ اس سیریز میں2-0سے کامیابی نے ٹیم انڈیا کو ٹسٹ رینکنگ میں سر فہرست مقام پر پہنچا دیا ۔ * دھونی کی کپتانی میں ٹیم انڈیا کو فروری2010تک ایک بھی ٹسٹ میچ میں شکست نہیں ہوئی۔ اس وقت تک وہ8 ٹسٹ میچوں میں ٹیم کو کامیابی دلا چکے تھے جبکہ2ڈرا ہوئے تھے۔*دھونی پہلے ٹسٹ وکٹ کیپر ہیں جنہوں نے4ہزار رنز مکمل کیئے۔*دھونی اس وجہ سے کامیاب ٹسٹ کپتان کہلائے کہ انہوں نے ٹیم کو24ٹسٹ سیریز میں فتح دلائی۔ گنگولی21 فتوحات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ *دھونی نے ٹسٹ کرکٹ میں50چھکے لگانے کا بھی ریکارڈ قائم کیا ہے۔*ونڈے کرکٹ میں بھی دھونی نے کئی ریکارڈز بنائے ہیں وہ ونڈے میں9ہزار رنز بنانے والے چوتھے بیاٹسمین ہیں ۔ وہ پہلے غیر آسٹریلیائی کپتان ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کو100ونڈے میچس میں فتح دلائی۔یہ اعزاز حاصل کرنیوالے وہ پہلے ہندوستانی کپتان ہیں دُنیا میں صرف رکی پونٹنگ اور ایلن بارڈر کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ دھونی نے ٹیم انڈیا کی300ونڈے میچس میں کپتانی کی‘رکی پونٹنگ نے324میچس میں اور اسٹفین فلیمنگ نے303میچس میں قیادت کی۔ دھونی نے بحیثیت کپتان ٹیم انڈیا کو110ونڈے میچس میں فتح دلائی وہ150 اسٹمپ آوٹ کرنیوالے پہلے وکٹ کیپر بھی ہیں۔دھونی کی قیادت میں ٹیم انڈیانے41ٹی20میچس جیتے ہیں۔بحیثیت کپتان دھونی نے 51میان آف دی میچ ایوارڈز جیتے ہیں۔ونڈے میں انہوں نے جملہ126چھکے لگائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پونٹنگ (123 چھکے)کا ریکارڈز بھی توڑ دیا۔دھونی کے نام اور بھی کئی ریکارڈز ہیں جن کا یہاں احاطہ مشکل ہے۔ہندوستانی ٹیم کی باگ ڈور سنبھالنے والے ویراٹ کوہلی کے بارے میں بھی یہی امید کی جارہی ہے کہ وہ دھونی کی طرح کامیاب کپتان ثابت ہوں گے ۔ کوہلی کی قیادت میں ٹیم انڈیا نے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا ہے۔

Comments

comments