Monday , 25 June 2018
بریکنگ نیوز
Home » خصوصی رپورٹ » خواتین اسلام سے چند مطالبات
خواتین اسلام سے چند مطالبات

خواتین اسلام سے چند مطالبات

اللہ رب العزت دونوں جہاں کا مالک ہے وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر ایک پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا۔ انسانوں کی ہدایات کیلئے وہ آسمانی صحیفوں کو نازل کرتا رہا۔ اس کرہ ارض پر جب کبھی فساد بڑھتا گیا اور انسانیت گمراہی کی طرف مائل رہی‘ اللہ نے اپنی سنت کے مطابق اُس علاقہ‘خطہ میں جہاں گمراہی اور جاہلیت کا دور دورا تھا‘ وہاں انبیاؑ کو مبعوث فرماتا رہا۔ اس کا سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔ حضرت محمد صلعم کے بعد قیامت تک کوئی نبی‘ اس دُنیا میں آنے والا نہیں ہے۔اسلام سے قبل عرب بلکہ ہندوستان میں عورت ‘مرد کیلئے ایک کھلونے والی شئے تھی‘ عورت کیساتھ مویشی کی طرح برتاؤ کیا جاتا تھا۔ عرصہ دراز سے یہ صنف نازک ظلم و ستم سہتی رہی مگر جب اسلام کی روشنی پھیلی تب سے عورتوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا۔محسن انسانیت حضرت محمد صلعم سے عورتوں سے متعلق ارشاد فرمایا’’ عورتوں کے تعلق سے میں تمہیں بہتر حکم دیتا ہوں جسے قبول کرو! بے شک و ہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں بے شک پسلی کا ٹیڑھا پن اوپر کی جانب ہوتا ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا شروع کردیں گے تو ڑ دو گے اور اگر اسے اسی حال پر چھوڑ و گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ عورتوں کے متعلق میرا حکم قبول کرو‘‘۔ اسلام نے عورت کو گھر کی رانی بنایا‘ اور اسے قوم کے نو نہالوں کی اسلامی طریقہ سے تعلیم و تربیت دینے کی عظیم ذمہ داری دی ہے۔ اسلام نے پہلی بار عورت کو وہ مقام‘مرتبہ اور حقوق عطا کیئے جن کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں تھا۔ نبی کریم صلعم نے عورتوں کی تربیت کا ایک مکمل ضابطہ پیش کیا جس کے مطابق وہ اگر شوہر کی خدمت‘اس کے مال کی حفاظت اور اولاد کی صالح تربیت کریں گی تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے اندر داخل ہوسکتی ہے۔ ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہوتا ہے۔اسلام کا امتیازی وصف حیاء ہے اسے اختیار کیجئے۔ اللہ کا حکم ہے کہ نگاہوں کی پاکیزگی‘شرم گاہوں کی حفاظت اور سامانِ زینت کے اظہار سے بچاؤ کا سلیقہ اختیار کیجئے(سورہ النور31 )غیر محرموں پر اپنی زیب و زینت کی چیزوں کا اظہار نہ ہونے دیں حتیٰ کہ زیورات کی جھنکار بھی اُن تک نہ پہنچے(النور31 )عورت کا خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکالنا بدکاری ہے اور باریک لباس پہن کر نکلنا عریانی اور دعوت گناہ ہے اس سے اجتناب کیجئے(جامع ترمذی) اجنبی اور غیر محرم مردوں سے گفتگو کے وقت اپنے لب و لہجہ میں نرمی اور نزاکت پیدا نہ کریں۔(الا حزاب۔32)خواتین اسلام کو ایسے راستوں سے گذرنا چاہیئے جہاں مردوں کی ریل پیل نہ ہو بلکہ کنارے کنارے چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔ کسی بھی غیر محرم مرد حتیٰ کہ جیٹھ‘دیور وغیرہ کے ساتھ تنہائی میں میل جول اور سفر سے اجتناب کریں۔(صحیح بخاری) خواتین اسلام کو مخلوط محافل اور مخلوط تعلیم سے گریز کرنا چاہیئے اور کسی غیر عورت کی پوشیدہ صفت کو اپنے شوہر سے بیان نہ کریں اور کسی غیر محرم کے ساتھ سفر نہ کریں خواہ یہ سفر حج ہی کا کیوں نہ ہو(صحیح بخاری ) مسلم خواتین اور بہنوں سے کہا گیا ہے کہ سات سال کی عمر میں بچوں کو نماز کی ترغیب دیں۔10 سال کی عمر میں سختی سے عمل کرائیں ہر مرد کی طرح عورت کو بھی قیامت کے دن حساب خود پیش کرنا ہے لہذا اس کی تیاری کیجئے۔خواتین اسلام کیلئے یہ کم از کم مطالبات ہیں جو کتاب و سنت میں ملتے ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے آپ خواتین جنت کی حقدار بن جائیں گی ۔ روزآنہ کچھ وقت تلاوت کلام پاک‘احادیث نبوی اور اسلامی کتب بینی کیلئے مختص کریں تا کہ آپ کے گھر کا ماحول دینی ہو‘ اتباع رسول کے تقاضے پوری ہو‘اور آپ کا گھرانہ اسلامی معاشرت کا مکمل نمونہ بنے۔

Comments

comments