Thursday , 21 June 2018
بریکنگ نیوز
Home » کھیل » کیا مصباح کو بھی میدان چھوڑ دینا چاہیئے
کیا مصباح کو بھی میدان چھوڑ دینا چاہیئے

کیا مصباح کو بھی میدان چھوڑ دینا چاہیئے

آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ سیریز میں بد ترین شکست کے بعد مایوس شائقین اور سابقہ کرکٹرز نے مصباح الحق سے سبکدوشی کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔ آسٹریلیا کی سرزمین پر پاکستان کی یہ مسلسل چوتھی ٹسٹ سیریز تھی جس کے تمام تر ٹسٹ میچس میں پاکستان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے قبل ازیں1999 میں وسیم اکرم کی کپتانی میں2004 میں انضمام الحق کی قیادت میں اور2009 میں محمد یوسف کی قیادت میں پاکستانی ٹیم سیریز کے تمام میچس ہار چکی ہے۔ مصباح الحق پر ناقص بیاٹنگ کا الزام لگایا جارہا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کو تیسرے اور آخری ٹسٹ میں220 رنز کے فرق سے شکست ہوئی ہے۔ مصباح الحق ایک بہترین کھلاڑی ہیں۔2010 میں انہوں نے اس وقت پاک ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی جب میچ فکسنگ کا اسکنڈل زوروں پر تھا۔ تب سے اب تک انہوں نے53 ٹسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی اور24 میں فتح دلائی۔18 میں شکست ہوئی اور11ڈرا رہے۔گزشتہ سال ہی انہوں نے مختصر وقت کیلئے سہی پاک ٹیم کو ٹسٹ رینکنگ میں نمبر ایک مقام دلایا تھا۔سکیوریٹی کی وجہ سے پاکستان میں کوئی بین الاقوامی کرکٹ میچ کھیلا نہیں جارہا ہے اس کا اثر ٹیم کی رینکنگ پر پڑرہا ہے ۔ ٹیم اپنے روایتی حریف ہندوستان کے ساتھ بھی نہیں کھیل رہی ہے ان حالات میں ٹیم کو اپنا مقام برقرار رکھنے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔ سابق کرکٹر رمیز راجہ نے مصباح کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سبکدوش ہوجائیں۔آسٹریلیا میں دوسرے ٹسٹ کی ہار کے بعد سے ہی مصباح پر میدان چھوڑنے کیلئے دباؤ بڑھ گیا تھا یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ وہ تیسرا ٹسٹ نہیں کھیلیں گے لیکن انہوں نے تیسرے ٹسٹ میں حصہ لیا۔پاکستانی کرکٹرس اور شائقین کو اگرچہ اس بات کا اعتراف ہے کہ مصباح ایک انتہائی کامیاب کپتان رہے ہیں لیکن مسلسل شکستوں کی وجہ سے ان کو ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وسیم اکرم نے بھی رمیز راجہ کی تائید کی ہے تا ہم انہوں نے اس کا فیصلہ مصباح پر چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ1999 میں جب میری قیادت میں پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا میں3-0 سے شکست ہوئی تھی اس حقیقت کے باوجود کہ میرا انفرادی مظاہرہ بہتر تھا۔مجھے کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا لیکن سابق کپتان جاوید میاں داد نے ٹیم کی ناقص کارکردگی کیلئے مصباح کو کپتانی سے ہٹانے کے بجائے ٹیم کیلئے اندرون ملک حالات کو بہتر بنانے کی وکالت کی تھی۔مصباح پر تنقیدیں کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ6 برسوں کے دوران بہترین بیاٹسمین کی جو امیج بنائی تھی وہ اب ٹوٹ کر بکھر گئی ہے آسٹریلیا کے خلاف3 ٹسٹوں کی6اننگز میں انہوں نے بالترتیب 4‘5 ‘11 ‘0 ‘18اور38رنز بنائے ہیں۔پاکستان کو اب ٹسٹ سیریز کیلئے ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا ہے اس سے قبل ہی مصباح الحق کو فیصلہ کر لینا چاہیئے۔

Comments

comments