Monday , 26 February 2018
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » امریکا و کنیڈا » سال 2016 ء سعودی عرب کیلئے چیالنجس سے بھرپور
سال 2016 ء سعودی عرب کیلئے چیالنجس سے بھرپور

سال 2016 ء سعودی عرب کیلئے چیالنجس سے بھرپور

سال2016 سعودی عرب کیلئے کافی چیالنجنگ رہا۔ اس ایک سال کے دوران جہاں اس کے تعلقات ملک ایران سے بد ترین سطح تک نیچے گر گئے وہیں امریکہ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات کچھ بہتر نہیں رہے جو کہ اس کا دیرینہ رفیق تصور کیا جاتا ہے اس سال سعودی عرب کو حالیہ برسوں میں پہلی مرتبہ خسارے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ نوجوان شہزادوں کی نئی قیادت نے معاشی اصلاحات کی تجویز 2030پیش کیں۔ اس سال عالم اسلام کو دہلا دینے اور تشویش میں مبتلا کرنیوالا واقعہ بھی پیش آیا جہاں مدینہ منورہ میں داعش کے مبینہ کارکن مسجد النبویؐ کے دامن میں خود کش دھماکہ کرتے ہوئے دو سیکوریٹی گارڈز کو ہلاک کردیا۔ سال2016 کے آغاز کے ساتھ ہی خادم الحرمین شریفین اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کیلئے مشکلات کا دور شروع ہوگیا۔3جنوری کو سعودی عرب نے مخالف حکومت سرگرمیوں اور دہشت گردی کے الزام میں47افراد کو سزائے موت دیدی۔ ان میں مشہور شیعہ عالم دین نمر النمر بھی شامل تھے۔النمر کو پھانسی دیئے جانے کے خلاف سعودی عرب خصوصاً ایران میں زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ اور برہم احتجاجیوں نے تہران میں واقع سعودی سفارتخانے کو آگ لگا دی۔ اس واقعہ پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیئے۔ اسکے بعد دیگر خلیجی ممالک نے بھی ایران سے اپنے سفراء کو واپس طلب کر لیا۔ایک موقع پر کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا کہ دونوں ممالک جنگ کے دہانے پرپہنچ گئے ہیں تا ہم پاکستان نے ثالثی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں مدد کی۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نوا زشریف تہران اور ریاض گئے اور دونوں ممالک کے سربراہوں سے ملاقات کر کے کشیدگی کم کرنے پر راضی کرایا۔ اس سال بھی داعش کی جانب سے سعودی عرب کی مساجد کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تا ہم اس مرتبہ سنی مساجد بھی زد میں آئیں۔ نجران میں سیکوریٹی کیمپ میں واقع الجمعہ نامی مسجد پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں4افراد جاں بحق اور33 دیگر زخمی ہوگئے۔ فروری میں جب روس کی مدد سے شامی فوج نے پیشرفت حاصل کرنا شروع کیا اور باغیوں کے علاقوں کو اندھا دھند بمباری کا نشانہ بنایا گیا تو سعودی عرب نے زمینی دستے شام میں اُتارنے کا فیصلہ کیا لیکن روس نے سخت وارننگ دی کہ اس سے تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے گی۔ اسکے بعد سعودی عرب نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ فروری میں ہی سعودی عرب کی پولیس نے القاعدہ اور داعش کے خلاف دھاوے شروع کیئے۔ اس طرح ایک دھاوے میں فائرنگ ہوئی اور6افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی دوران سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے لبنان کے حزب اللہ گروپ کو جو شامی جنگ میں بشارالاسد کی مدد کررہا ہے دہشت گرد گروپ قرار دیدیا۔ سعودی عرب نے ایران اور امریکہ سے تعلقات میں کڑواہٹ آنے کے بعد 20 مسلم ممالک کے ذریعہ ایک مشترکہ فوجی مشق کا اہتمام کیا اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مسلم ممالک پر مشتمل ایک فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ شاہ سلمان مصر کے دورہ پر گئے اور وہاں کئی معاہدوں پر دستخط کیئے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اپریل میں اپنے پہلے دورے سعودی عرب کے سلسلے میں ریاض پہنچے وہاں ان کو سعودی حکومت کی جانب سے اعلیٰ ترین شہری کا اعزاز دیا گیا۔ انہوں نے خاص طو رپر ہندوستانی تارکین وطن کے مسائل کو حل کرنے کیلئے سعودی حکومت کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کیئے۔ اس سال اپریل میں ہی سعودی عرب نے اپنی مذہبی پولیس سے گرفتاری کااختیار چھین لیا۔ اس عرصے کے دوران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں باغی شیعہ گروپس پر بمباری جاری رکھی۔ مئی میں سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات کا اعلان کیا اس میں سب سے اہم قدم یہ تھا کہ مملکت نے تیل کی دولت پر انحصار کرنے کے بجائے سیاحت کو فروغ دیتے ہوئے معیشت کو مستحکم کرنے کافیصلہ کیا۔ اس ضمن میں حج اور عمرہ کیلئے آنیوالے افراد کو سیاحتی ویزے جاری کیئے گئے۔ مئی میں مکہ مکرمہ کے قریب داعش کے جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی ۔گزشتہ سال مکہ میں کرین گرنے کے سانحہ کی وجہ سے بن لادن کمپنی پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ کمپنی اس قدر بحران کا شکار ہوئی کہ اس نے77ہزار ملازمین کو نکال دیا۔ ان ملازمین نے برہمی میں کمپنی کی بسوں کو آگ لگا دی۔ ان میں ہندوستان کے ہزاروں ملازمین شامل تھے۔ مملکتی وزیر خارجہ وی کے سنگھ نے جدہ پہنچ کر ان ہندوستانیوں کو وہاں سے نکالنے یا متبادل ملازمت تلاش کرنے کا موقع دینے کیلئے کامیاب نمائندگی کی۔ سعودی عرب اور ایران میں ایک مرتبہ پھر اس وقت تناؤ پیدا ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان عازمین حج کیلئے انتظامات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ گزشتہ سال حج میں منیٰ میں بھگڈر کا واقعہ پیش آیا جس میں سب سے زیادہ ایرانی عازمین ہلاک ہوئے تھے۔ جنوری میں تہران میں سعودی عرب کا سفارتخانہ حملے کے بعد بند کردیا گیا تھا اسلئے سعودی عرب نے ایرانیوں کو کسی تیسرے ملک(اردن) کے ذریعہ حج ویزا جاری کرنے کا پیشکش کیا لیکن ایران اس کیلئے تیار نہیں ہوا اور اس نے اس سال اپنے عازمین کو حج کیلئے نہ بھیجنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ سال کے تجربے کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت سعودی عرب نے اس سال کافی سخت انتظامات کیئے تھے۔ اس سال18لاکھ مسلمان حج کی سعادت سے مشرف ہوئے ان میں15لاکھ غیر ملکی اور 3لاکھ مقامی باشندے شامل تھے۔مکہ مکرمہ میں جاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے عازمین کی تعداد میں کمی لائی گئی تھی ۔ سعودی عرب نے اگرچہ اندازہ لگایا ہے کہ اس کے پاس جو تیل کے ذخائر ہیں وہ آئندہ70 برس تک کار آمد ہیں لیکن اس کے باوجود اس کامالی خسارہ90 بلین ڈالر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسلئے حکومت نے کئی ایک اخراجات پر پابندی لگاتے ہوئے معاشی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔

Comments

comments