Friday , 17 August 2018
بریکنگ نیوز
Home » ایڈیٹوریل » متحدہ اپوزیشن بھی کمزور
متحدہ اپوزیشن بھی کمزور

متحدہ اپوزیشن بھی کمزور

ایک جمہوری ملک میں جہاں رائے عامہ کو اہمیت حاصل ہوتی ہے وہیں ایک مضبوط اپوزیشن بھی ضروری ہے تا کہ اگر حکومت مفادعامہ کے خلاف کوئی قدم اُٹھائے تو اس سے باز پرس کی جاسکے۔ وزیر اعظم مودی کے کرنسی کی بندش کے فیصلے کا اثر ملک کی تمام آبادی پر ہوا۔ بینکوں کے بعد اے ٹی ایمس پر بھی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔چھوٹے تاجرین‘یومیہ مزدور بہت زیادہ متاثر ہیں۔کرنسی کی عملاً قلت کی وجہ سے معیشت کا ہر شعبہ متاثر ہے۔وزیر اعظم اور ان کے وزراء کا کہنا ہے کہ یہ مشکلات اور دشواریاں عارضی ہیں اس کے بعد راحت دی جائیگی یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں زیر گشت86 فیصد کرنسی نوٹوں کو بند کر نے سے عوام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں نے محتاط انداز میں حکومت کے اس اقدام کی مخالفت شروع کی کیونکہ بی جے پی قائدین نے یہ معمول بنا لیا ہے کہ جو بھی وزیر اعظم کے فیصلے کے خلاف آواز اُٹھائے اس کو کالا دھن رکھنے والا قرار دیدیا جائے۔ سب سے پہلے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال میدان میں آئے جنہوں نے رشوت خوری اور کالا دھن کے خلاف انا ہزارے کے ساتھ مہم شروع کی تھی ان کا ساتھ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی دے رہی ہیں جن کا دامن بھی بدعنوانیوں سے پاک ہے۔اگرچہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس نے اپوزیشن کو مودی حکومت کے اس اقدام کے خلاف آواز اُٹھانے کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے لیکن لوک سبھا میں اپوزیشن کی آواز نقار خانے میں طوطی کی طرح ہے صرف ایک راجیہ سبھا میں اپوزیشن کچھ وزن رکھتی ہے۔ حکومت بھی ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کو احتجاج میں اُلجھائے رکھنا چاہتی ہے تا کہ جواب دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آ ئے ۔ کجریوال اور ممتا بنرجی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ممتا کے بارے میں بی جے پی قائدین الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ اس بہانے سے وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچنا چاہتی ہیں۔اگرچہ اپوزیشن، حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن اس میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار‘چیف منسٹر اڑیسہ نوین پٹنائک کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔اُتر پردیش کی سماج وادی پارٹی جہاں عنقریب اسمبلی انتخابات ہوں گے محتاط رد عمل ظاہر کررہی ہے مایاوتی بھی سامنے نہیں آرہی ہیں جن پر بد عنوانیوں کے کئی الزامات لگ چکے ہیں۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن اگرچہ بی جے پی پر صنعتکاروں سے ساز باز کے الزام لگا رہی ہے لیکن بی جے پی کے کسی لیڈر کو وہ بدعنوان یا کالا دھن رکھنے والا ثابت کرنے سے قاصر ہے اس سے عوام میں یہی پیام جارہا ہے کہ سوائے بی جے پی کے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین بد عنوان‘ کالا دھن رکھنے والے ہیں ۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے وزیر اعظم نے گوا کے خطاب میں یہ کہہ کر اس کا منہ بند کردیا کہ کوئیلہ اسکام‘2G اسکام کے ذریعہ نوٹ کمانے والوں کو بھی4ہزار روپے کیلئے قطا ر میں کھڑا ہونا پڑرہا ہے۔ وہ راہول گاندھی کی طرف اشارہ کررہے تھے جنہوں نے ایک دن قبل ہی قطار میں کھڑے ہو کر نوٹ تبدیل کروائے تھے ۔ حکومت کے اس اقدام کی مخالفت انتہائی کمزور ہے۔ میڈیا کا ایک گوشہ یہ دکھا رہا ہے کہ عوام اس فیصلے سے خوش ہیں اور ایک گوشہ عوام کی برہمی دکھا رہا ہے اس تضاد کی وجہ سے رائے عامہ منقسم ہورہی ہے ۔ ماہرین معاشیات جو تشویش ظاہر کر رہے ہیں اسکو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے عدلیہ بھی حکومت کے اس اقدام پر فوری کوئی فیصلہ لینے سے قاصر ہے البتہ اس نے حکومت کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے کہ ہائی کورٹس میں اس فیصلے کو چیالنج کرنے پر روک لگائی جائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا فیصلہ آر بی آئی ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔ ایکٹ میں نوٹوں کی ایک سیریز پر پابندی لگانے کی گنجائش ہے مکمل کرنسی پر نہیں تا ہم اس قانونی پہلو پر بھی عدالتیں خاموش ہیں۔وزیراعظم نے اتنا بڑا فیصلہ کیا سوچ کر کیا؟ ایسے وقت جبکہ اُترپردیش‘گجرات‘پنجاب‘گوا جیسی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا سامنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فیصلہ تو صحیح تھا لیکن عمل آوری میں چوک ہوگئی۔نوٹوں کی بندش کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو دھکا نہ لگنا کیا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام، مودی کا فیصلہ قبول کر چکے ہیں؟۔

Comments

comments