Tuesday , 16 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » دلچسپ دنیا » حقیقت میں جوتے کھائیے
حقیقت میں جوتے کھائیے

حقیقت میں جوتے کھائیے

جوتا کھانا ایک محاورہ ہے اور کوئی بھی جوتے کھانا پسند نہیں کرتا ہے لیکن جاپان میں ایسے جوتے فروخت ہوتے ہیں جن کو لوگ مزے لے کر کھاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جوتے چاکلیٹ سے بنائے جاتے ہیں۔جاپان کے اوسا کا شہر میں ایک ہوٹل ہے جس کا نام’’ ریگا راٹل ہوٹل‘‘ ہے اس ہوٹل میں ایک چاکلیٹ بوتیک ہے یہاں چاکلیٹ سے ہر شئے بنائی جاتی ہے۔ تا ہم یہاں کے شیف موتو پیرا ؤ کاٹی نے چاکلیٹ سے ایسے جوتے بنائے ہیں جو دیکھنے میں بالکل چمڑے کے معلوم ہوتے ہیں یہ جوتے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ اس کو دیکھنے والا ہر گز یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اصلی نہیں بلکہ چاکلیٹ سے بنائے گئے ہیں۔10.2 انچ لمبے یہ جوتے تین رنگوں میں دستیاب ہیں اور لوگ ان کے بنائے ہوئے جوتے کھانے کیلئے دور دور سے آتے ہیں۔ چاکلیٹ کو اس انداز سے تیار کرنے کیلئے بہت مہارت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اندازے کی ذرا سی بھی غلطی نقص پیدا کرسکتی ہے۔ اسلئے یہ چاکلیٹ کے جوتے اصلی جوتوں کے مقابلے کافی مہنگے ہیں۔ 29ہزار60این ان کی قیمت ہے جو کہ ہندوستانی روپے میں تقریباً 18 ہزار روپے ہوتی ہے ان جوتوں کے ساتھ ڈبے میں چاکلیٹ کریم اور شوہارن بھی رکھا گیا ہے جوتے تیار کرنے میں جو مشکل پیش آتی ہے اس کے پیش نظر ان جوتوں کی صرف9جوڑیاں ہی تیار کی گئیں ہیں اور ’’ پہلے آئیے پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر ان کو فروخت کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔ جوتوں کیلئے لوگوں کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے شیف نے اعلان کیا ہے کہ ان جوتوں کا20 تا7فروری کو ہراج ہوگا اور خوش قسمت لوگوں کو یہ جوتے 7سے14فروری یعنی’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ تک سربراہ کردیئے جائیں گے۔

Comments

comments