Saturday , 26 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » نارتھ سنٹرل انڈیا زون » جموں کشمیر » کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوشش
کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوشش

کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوشش

سال2016 میں ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال خاصی دھماکہ خیز رہی لیکن جاتے جاتے اس سال نے کشمیر کی خونین تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کردیا ہے جس پر عوام بلکہ سیاست میں قسمت آزما رہی ہند نواز اور ہند مخالف پارٹیاں بھی اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہوگئی۔ در اصل ریاستی حکومت نے ڈسمبر کے اوآخر میں یہ اعلان کیا کہ جموں میں رہائش پذیر مغربی پاکستان کے مہاجرین کو مستقل سکونت کی سند اجراء کی جارہی ہے جس پر عوامی حلقوں نے زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا۔ حزب اختلاف نیشنل کانفرنس نے کہا کہ حکمران جماعت ریاست کے خصوصی موقف کو کمزور بنانے کیلئے شاطرانہ چالیں چل رہی ہیں۔ ایک سینئر لیڈر دیونندر سنگھ رانا نے بتایا کہ بی جے پی نے ایک مذموم سازش کے تحت جموں خطہ میں ایک گمراہ کن مہم چلا رکھی ہے تا کہ رائے عامہ پیدا کیا جاسکے کہ اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین کی منسوخی سے ڈوگروں کو فائدہ ہوگا۔مشترکہ مزاحمتی قیادت کے تینوں سربراہوں سید علی شاہ گیلانی‘میر واعظ عمر فاروق اور محمد یسینٰ ملک نے پناہ گزینوں کو مستقل رہنے کی اجازت دینے کے فیصلہ پر کہا کہ ریاست کے خصوصی موقف کو دھیرے دھیرے ختم کر کے پوری ریاست کو ملک میں ضم کرنے کی شروعات کی ہے ان رہنماؤں نے کہا کہ ہندوستان اور اس کے فسطائی ذہنوں کے علمبرداروں کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ کسی ایک لیڈر یا اس کی جماعت کو شیشے میں اُتار کر اس کو ذاتی مراعات کی ہڈی پھینک کر چپ تو کرایا جاسکتا ہے لیکن اس کی دھوکہ دہی اور شاطرانہ سیاست سے پوری قوم کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر کے رکن اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے ہندو پناہ گزینوں کو مستقل شہریت دینے کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو بدلنے کی ایک سازش ہے جس کے خلاف سبھی وطن پرست قوتوں کو کھڑا ہونا چاہیئے۔ انجینئر رشید نے کہا کہ نئی دہلی اسرائیلی طر ز پر جموں و کشمیر کی جغرافیائی صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وہیں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران غیر کشمیری باشندوں کے حق میں مستقل اقامتی اسناد کے اجراء کو اقوا م متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ایک مذموم سازش قرار دیا۔ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنے کی نئی دہلی کی سازش پر پاکستان خاموش تماشائی نہ بنے۔
سالویشن موومنٹ کے سربراہ ظفر اکبر بٹ نے ’’ وقارِہند‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سازش جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ ہے جس پر پی ڈی پی‘ بی جے پی مخلوط سرکار کام کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے اور اسے ریاست کی مسلم شناخت خطرے میں پڑنے کا قوی امکان ہے۔حریت کانفرنس میر واعظ گروپ کے ایک سینئر لیڈر مختار احمد وازہ نے مغربی پاکستان کے ہندو پناہ گزینوں کو مستقل اقامتی اسناد جاری کیئے جانے کے عمل کو ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سرکار اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ہر وہ فیصلہ لے رہی ہے جس سے اُن کے ذاتی مفادات کی آبیاری ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام آبادیاتی شناخت پر تیر چلانے کی اجازت قطعاً کسی کو فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔
کشمیری عوام ایسے ہتھکنڈوں کو ناکام کریں گے۔مختار احمد وازہ نے مزید بتایا کہ کشمیر مسئلہ عالمی سطح پر ایک متنازعہ مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے لہذا یہاں کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ایوان اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو سو مرتبہ سوچنا چاہیئے۔
فیصلے کو لے کر جہاں پوری ریاست وہیں بالخصوص وادی میں عوامی احتجاج کے بعد ریاستی سرکار نے اب واضح کیا ہے کہ مغربی پاکستان کے مہاجرین مستقل سکونت کے اہل نہیں ہے کیونکہ وہ جموں و کشمیر سے تعلق نہیں رکھتے۔ سرکاری ترجمان اور وزیر تعلیم نعیم اختر نے کہا کہ سرکار کے فیصلے کو بعض عناصر غلط رنگ دے کر خرمن امن میں آگ لگانا چاہتے ہیں وہیں بھاجپا کے ریاستی شاخ کے سکریٹری اشوک کول نے بھی واضح کہا کہ پناہ گزینوں کے حق میں صرف شناختی کارڈ اجراء کیئے جارہے ہیں لیکن ان کو مستقل اقامتی اسناد فراہم کرنے کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے تا ہم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک گروپ کے سربراہ جاوید احمد میر نے بھاجپا کی دلیل کو سرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایجی ٹیشن کو دیکھ کر اب سرکار نے اندرون خانہ یہ من بنا لیا ہے کہ فی الوقت اس مسئلہ کو آگے نہ لیا جائے لیکن بقول میر کہ فرقہ پرستوں کا اقتدار میں آنے سے کشمیر کو فلسطین بنانے کی سازشوں کا آغاز تو رہو ہی چکا ہے جس کو لے کر ہر کشمیری کو ہوشیار رہنا ہوگا۔
پی ڈی پی ۔ بھاجپا گٹھ جوڑناکام
محمد یوسف تاریگامی
جموں و کشمیر کو ایک بار پھر تشدد کی طرف دھکیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سینئر قائد سی پی آئی اور ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت جان بوجھ کر ریاست کی امن و شانتی میں رخنہ ڈالنا چاہتی ہے انہوں نے’’ وقارِہند‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں بتایا کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ آنے والے اسمبلی سیشن میں اس مسئلہ کو پہلے زیر بحث لایا جائے لیکن حکومت نے مغربی پاکستان کے ہندو پناہ گزینوں کو مستقل اقامتی اسناد دینے یا نہ دینے کی جو ہوا کھڑی کردی ہے اسے ریاست کے حالات جو اب معمول پر آرہے تھے ایک بار پھر تباہی کی طرف گامزن ہورہے ہیں ۔
تاریگامی نے مزید بتایا کہ حکومت کا موقف اس بارے میں واضح نہیں ہے بلکہ تھوڑا ابہام ہے حکومت کے موقف میں جس کو لیکر تشویش پائی جاتی ہے۔ نوٹ بندی سے علیحدگی پسند رجحان پر اثرات پڑنے کے ایک سوال کے جواب میں تاریگامی نے بتایا کہ بی جے پی جیسا دعوی کررہی ہے ویسا ہمیں زمینی صورتحال پر نظر نہیں آتا ہے بلکہ جب سے نریندر مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کیا ہے تب سے تو عسکریت پسندی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ملک کو اچھے دنوں کا جو خواب دکھایا تھا وہ اب شرمندہ تعبیرنہیں ہورہا ہے کیونکہ کسانوں اور غریب مزدوروں کو اپنا پیسہ نکالنے کیلئے لائنوں پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑرہا ہے کیا یہی’’ اچھے دن‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ملک کے غریب طبقے کو پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے جو کہ ایک لمحہ فکر یہ سے کچھ کم نہیں ہے۔

Comments

comments