Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » ممتا بنرجی بی جے پی کے نشانے پر ؟ !!
ممتا بنرجی بی جے پی کے نشانے پر ؟ !!

ممتا بنرجی بی جے پی کے نشانے پر ؟ !!

نوٹ بندی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرنیوالی چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت ان کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ آسام اور اروناچل پردیش پر قبضہ کے بعد بی جے پی سیاسی اہمیت کی حامل مغربی بنگال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس ریاست میں اس کو صرف ایک اسمبلی نشست پر حالیہ ضمنی انتخابات میں کامیابی ملی ہے۔ دوسری طرف کمیونسٹ محاذ کو34سال کے اقتدار سے بیدخل کرنیوالی ممتا بنرجی کو ریاست میں مسلمانوں سمیت تمام طبقات کی تائید حاصل ہے۔ ممتا کی مقبولیت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب سنگور اراضی کے مقدمہ کا فیصلہ کسانوں کے حق میں ہوا۔ سنگور پراجکٹ(ٹاٹا موٹرس) کی مخالفت نے ہی ممتا کو ریاست کے عوام سے قریب کردیا تھا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو حاصل اقلیتوں کی غیر معمولی تائید میں دراڑ پیدا کرنے کیلئے ریاست کے مختلف علاقوں میں فساد کرایا جارہاہے ۔ سال کے آغاز میں ہی مالدہ میں مکر سنکرانتی کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد بھڑکایا گیا تھا۔ اس کے بعد ممتا بنرجی کو شاردا چٹ فنڈ اسکام کے ذریعہ پریشان کیا گیا۔ عام آدمی پارٹی کی طرح ترنمول کانگریس کے کئی ارکان پارلیمنٹ‘ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمے درج کیئے گئے اور ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ بنگال میں عصمت ریزی کے واقعات پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے ممتا بنرجی کو پریشان کرنے کی کوشش کی گئی۔ تا ہم گزشتہ دنوں نوٹ بندی کے مسئلہ پر ممتا بنرجی کی دہلی میں سرگرمیاں بڑھ گئیں ہیں۔یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ ممتا‘ بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد کی قیادت کرسکتی ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ چیف منسٹر نتیش کمار قومی سطح پر اپوزیشن کی قیادت کریں گے لیکن نوٹ بندی کی تائید کر کے وہ اس مقام سے محروم ہوگئے۔ نوٹ بندی کی مخالفت میں اپوزیشن نے دہلی میں جو دھرنا اور احتجاج منظم کیا اور پارلیمنٹ ہاوز سے راشٹرپتی بھون تک جو ریالی نکالی اس کی قیادت ممتا بنرجی نے ہی کی تھی۔
نوٹ بندی کے مسئلہ پر بائیں بازو جماعتوں کی جانب سے ملک گیر بند کا اعلان کیا گیا تھا۔اگرچہ ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی نے اس بند کی تائید نہیں کی لیکن مرکز کی جانب سے بنگال کے تمام ٹول گیٹس پر فوج کو تعینات کردیا۔ ممتا بنرجی نے جب اس بات کا نوٹ لیا اور ان کے ارکان پارلیمان نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اُٹھایا تو حکومت نے جواب دیا کہ یہ معمول کی کاروائی ہے لیکن جب ممتا بنرجی نے احتجاج کرتے ہوئے سیکریٹریٹ چھوڑنے سے انکار کردیا اور 36 گھنٹوں تک وہیں بیٹھی رہیں تو فوج اپنے بیرکس میں واپس چلی گئی ۔ اس پر بی جے پی نے ممتا بنرجی کے ساتھ سیاست کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پارلیمنٹ میں کہا کہ فوج کو ایک معمولی مشق کے دوران تعینات کیاگیا تھا۔دو دن کی مشق کے بعد اس کو واپس بھیج دیا گیا۔ تا ہم ممتا بنرجی کا الزام ہے کہ مرکز نے ان کو ڈرانے کی کوشش کی ہے۔ اسکے بعد ایک اور واقعہ پیش آیا جس کے بعد ممتا بنرجی کے تعلق سے بی جے پی کی نیک نیتی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا۔ واقعہ یہ تھا کہ ممتا بنرجی دہلی میں دھرنے میں شرکت کے بعد کولکتہ واپس لوٹ رہی تھیں اس طیارے کو جس میں چیف منسٹر مغربی بنگال سوار تھیں دو گھنٹے تک نیتا جی سبھاش چندر ابوس انٹر نیشنل ایر پورٹ پر اُترنے نہیں دیا گیا۔ پائیلٹ کا کہنا ہے کہ اس نے ایر ٹریفک کنٹرول کو طیارے میں ایندھن کم ہونے کی اطلاع بھی دی اسکے باوجود بھی اس کو اس وقت طیارہ اُتارنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ اس میں صرف7منٹ کا پٹرول باقی بچا تھا۔ انڈیگو ایر لائنس کا یہ طیارہ تھا۔ اس واقعہ پر بھی حکومت نے پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کی اور الزامات سے انکار کیا۔ اشوک گجپتی راجو وزیر شہری ہوا بازی نے کہا کہ اس وقت فضا میں دو اور طیارے تھے ان کو اُتارنے کے دوران تا خیر ہوئی۔ انڈیگو ایر لائنز نے ایندھن کی کمی سے انکار کیا ہے۔ممتا بنرجی دہلی سے واپسی کے دوران پٹنہ میں اُتریں جہاں انہوں نے چیف منسٹر نتیش کمار سے ملاقات کی اور وہاں سے انڈیگو ایر لائنز کے ذریعہ کولکتہ آرہی تھیں کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ترنمول کانگریس نے اس واقعہ کو بھی ممتا بنرجی کیلئے مرکز کی دھمکی قرار دیا۔
گزشتہ دنوں میلاد النبیؐ کے موقع پر ہاوڑہ سے قریب دھولہ گڑھ کے مقام پر جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کا واقعہ پیش آیا۔ بی جے پی اس واقعہ کو ہوا دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بنگال کی حکومت نے اس علاقہ کا دورہ کرنے کیلئے آنیوالی ٹیم کو گاؤں میں داخل ہونے نہیں دیا۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ ٹی ایم سی کی حکومت نے مسلمانوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔نوٹ بندی کے معاملے میں مرکز نے بنگال میں دھاوے کرنیوالی انکم ٹیکس عہدیداروں کو سی آر پی ایف کے ذریعہ سکیوریٹی فراہم کی ہے۔ اس پر بھی ممتا بنرجی نے اعتراض کرتے ہوئے مرکز کو مکتوب تحریر کیا ہے کہ ریاست کے علم میں لائے بغیر مرکزی سیکوریٹی دستوں کو تعینات کر کے بی جے پی حکومت نے ریاست اور مرکز کے درمیان وفاقی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اروند کجریوال کی طرح ممتا بنرجی کی شخصیت بھی بد عنوانی سے پاک ہے اسلئے بی جے پی ان کے خلاف کوئی شخصی الزامات نہیں لگا سکتی ہے۔ ان کو اس طرح سے گھیرنے اور پریشان کرنے کا ٹی ایم سی الزام لگا رہی ہے۔ بی جے پی کی ممتا کے خلاف برہمی کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اسکے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے اپنے بیان میں کہا کہ ممتا بنرجی کو بال پکڑ کر بنگال سے نکال دینا چاہیئے۔ اس پر کولکتہ کی ٹیپو سلطان مسجد کے شاہی امام مولانا نور الرحمن برکاتی نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر لیڈر ممتا بنرجی کے خلاف ایسا بیان دینے والے بی جے پی قائد کو جوتے مار کر بنگال سے نکال دینا چاہیئے۔اس پر بی جے پی کے ہزاروں کارکنوں نے جامع مسجد کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی جس کو پولیس نے ناکام بنا دیا۔
ان حالات کے درمیان ممتا بنرجی نے مرکز سے راست تصادم کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے ریاست کے سرکاری عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ مرکز کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو ہدایت جاری کردی ہے۔ ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ مرکز نوٹ بندی کے بعد آر بی آئی کی جانب سے نوٹوں کی اجرائی میں بھی ریاست کے ساتھ جانبداری برت رہا ہے۔گزشتہ دنوں آر بی آئی گورنر ارجیت پٹیل نے جب کولکتہ کا دورہ کیا تھا تو ٹی ایم سی کارکنوں نے ان کو سیاہ جھنڈیاں دکھائی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست میں ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان سیاسی رسہ کشی کھل کر سامنے آگئی ہے۔
ممتا بنرجی نے دھولا گڑھ کے فساد کے پس منظر میں کھل کر کہہ دیا ہے کہ میں نریندر مودی اور بی جے پی کے فساد پھیلانے والوں کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ کسی کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔مجھے گرفتار کر لیجئے‘تمہارا انتقام پورا ہوجائے گا۔ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ تم کتنی طاقت رکھتے ہو‘کتنے فساد تم بھڑکاتے ہو‘کتنا تم لوٹ سکتے ہو‘مجھے روکنے کیلئے آپ نے بہت سازش کر لی ‘ میں آپ کو چیلنج کرتی ہوں۔ ممتا بنرجی کے خلاف بنگال میں بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ روپا گنگولی کافی سرگرم ہیں۔ دھولا گڑھ فساد کے خلاف بھی انہوں نے زبردست ریالی نکالی تھی۔
نوٹ بندی کے 50 دن مکمل
ہندوستان کے عوام کو نوٹ کے بغیر زندگی گذارنے کی عادت ڈال لینی چاہیئے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کالا دھن اور بد عنوانیوں پر قابو پانے کیلئے بازار میں زیر گشت 86 فیصد کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا8نومبر کی شب جو اعلان کیا تھا اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ عوام ان کو 50دن دیں اور وہ ان کو ایک روشن مستقبل کی ضمانت دیں گے ۔ وزیر اعظم کے بیان سے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ 50 دن میں حالات معمول پر آجائیں گے اور سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا لیکن صورتحال جو پہلے دن تھی وہ آج بھی برقرار ہے بلکہ اور بھی بدتر ہوگئی ہے اسلئے حکومت عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے آن لائن یا ڈیجٹیل لین دین کے طریقے کو اختیار کرنیکا مشورہ دے رہی ہے جو کہ سابئر ماہرین کی نظر میں کسی بھی طرح محفوظ و اطمینان بخش طریقہ کار نہیں ہے ۔ ہندوستان کے عوام کا یہ معمول بن چکا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ مصروفیات سے کچھ گھنٹے بچا کر بینک یا اے ٹی ایم کی قطار میں لگ جائیں تا کہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے دو ہزار روپے حاصل کر سکیں جو کہ متوسط گھرانے کیلئے ایک ہفتہ کا خرچ ہے۔ ملک کے لاکھوں اے ٹی ایمس کو کار کرد بنانے کے دعوے کے باوجود ان کے باہر لگے بورڈ برقرار ہیں جن پر لکھا ہے کہ’’ یہ مشین کام نہیں کررہا ہے۔‘‘یا’’ یہاں کیاش نہیں ہے۔‘‘ ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ نوٹ بندی کے وقت ہندوستان کے بازاروں میں 500اور1000روپے کے جملہ15لاکھ کروڑ روپے مالیتی نوٹ زیر گشت تھے ان50دنوں کے دوران5لاکھ کروڑ کی کرنسی بازار میں لائی گئی ہے اس حساب سے پوری کرنسی یعنی مزید10لاکھ کروڑ کو بازار میں لانے کیلئے مزید 100دن یعنی کم سے کم تین مہینے لگ جائیں گے۔
وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ ان کے فیصلے کا ہندوستان کی عوام نے خیر مقدم کیا ہے اور یہ دعویٰ درست بھی ہے لیکن نوٹوں کی قلت کو دور کرنے میں حکومت کے ناکافی اقدامات پر عوام کا غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ مختلف مقامات پر احتجاج بھی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عوام کی یہ تکلیف مختصر وقت کیلئے ہے جس کے دیرینہ فائدے ہوں گے لیکن وہ غریب اور چھوٹے تاجر جن کا گذارہ روز مرہ کے کاموں سے ہوتا ہے وہ دیرینہ فائدوں کا انتظار کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اگر حکومت صرف 1000روپے کے نوٹ کو منسوخ کرتی تو اتنی بڑی تعداد میں عوام متاثر نہیں ہوتے تھے۔ حکومت کہتی ہے کہ ٹیکس چوروں کو پکڑنے کیلئے نوٹ بند کیئے گئے ہندوستان کی سوا سو کروڑ کی آبادی میں صرف ڈھائی فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔نوٹ بندی کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ان کی تعداد دوگنی ہوجائے لیکن کیا5فیصدٹیکس چوروں کیلئے95فیصد عوام کو پریشان کرنا درست ہے؟ ورلڈ بینک کہتا ہے کہ ترقی کیلئے کالا دھن بھی ضروری ہے اور ہندوستان میں کالا دھن بنیادی گھریلو پیداوار کا19 تا 20 فیصد ہے یعنی یہ ختم ہوگیا تو بنیادی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی پی گھٹ جائیگی جس کا اثر معاشی ترقی پر پڑے گا حکومت نے کہا تھا کہ ان50دنوں میں کالا دھن رکھنے والوں کی راتوں کی نیندیں اُڑ جائیں گی انکے پاس اپنی رقم کا انکشاف کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں رہے گا لیکن جس انداز سے ملک میں نوٹ پکڑے جا رہے ہیں اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جن کے پاس کالا دھن تھا وہ بہت پہلے ہی اس کو سفید کر چکے ہیں۔ہزاروں کروڑوں روپے کے سونے کی خرید و فروخت ہوئی ہے اس لئے حکومت کے اس فیصلے سے متاثر صرف متوسط طبقہ ہوا ہے۔ ہندوستان جیسے وسیع آبادی والے ملک میں من مانی فیصلوں کے یہی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کو یقین تھا کہ2000روپے کا نوٹ کرنسی کی قلت کو دور کردے گا لیکن یہی نوٹ کالا دھن رکھنے والوں کے قبضہ سے برآمد ہو رہا ہے۔ جبکہ غریب کو اس کا چلر حاصل کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کرنا پڑرہا ہے۔ حکومت کو اس بات کا ذرا برابر افسوس نہیں ہے کہ نوٹ حاصل کرنے کیلئے قطار میں کھڑے ہو کر 92 افراد ابھی تک اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔یہ بات بھی درست ہے کہ ان50دنوں کے دوران’’ مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے مصداق لوگوں نے ڈیجٹیل ادائیگی کا طریقہ بھی سیکھ لیا ہے اور مودی کے دعویٰ کے مطابق ایسی ادائیگوں کے تناسب میں200تا300فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستان کی کثیر آبادی نقدی پر انحصار کرتی ہے۔ اچانک نقدی بند کردینے سے انکے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے‘کئی تقاریب یہاں تک کہ شادیاں بھی منسوخ ہوگئیں‘لوگوں نے اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام بدل دیئے۔ وزیر اعظم گجرات میں500روپے میں کی گئی شادی کا حوالہ دیتے ہیں لیکن کیا ہر شادی صرف 500 روپے میں کرنا ممکن ہے؟ اگر ایسا ہوا تو واقعی ہندوستان میں انقلاب آجائیگا لوگوں کی تشویش یہ ہے کہ کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے بعد حکومت نے ان 50 دنوں میں آر بی آئی اور انکم ٹیکس کے قواعد میں 56 مرتبہ تبدیلیاں لائی ہیں ۔ لوگوں کو خود اپنے کھاتوں میں جمع رقم حاصل کرنے میں دشواری ہورہی ہے اس کیلئے آدھار ‘ پیان کارڈ اور شناختی دستاویزات طلب کیئے جارہے ہیں ۔ پہلے کہا گیا تھا کہ ڈھائی لاکھ روپے تک کی رقم جمع کرنے پر کوئی سوال نہیں کیا جائیگا اور اب کہا جارہا ہے کہ شبہ ہونے پر 50 ہزار روپے کی رقم کے بارے میں بھی سوال کیا جاسکتا ہے ۔ انکم ٹیکس کے عہدیدار ملک کے مختلف شہروں میں دھاو ے کررہے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈایریکٹوریٹ‘ریونیو انٹلیجنس کو متحرک کردیا گیا ہے۔ نوٹ بندی سے نمٹنے کیلئے آر بی آئی کے بشمول ملک کے تمام بینکوں کے ملازمین دن رات محنت کررہے ہیں انکم ٹیکس اور دوسرے محکموں کے عہدیدار دن رات سرگرم ہیں ۔ حکومت نئے نوٹ طبع کرنے کیلئے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کررہی ہے ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار کروڑ روپے کا خرچ آرہا ہے اس کا بوجھ بھی عوام پر عائد کیا جائیگا بتایا جاتا ہے کہ آر بی آئی نے3.5 ارب 2000روپے کے نوٹ طبع کر الئے جس کو عوام قبول نہیں کررہے ہیں یہ نوٹ اب کالا دھن رکھنے والوں کے پاس سے برآمد ہو رہے ہیں اس سے یہی مطلب نکالا جارہا ہے کہ عوام جن نوٹوں کو قبول نہیں کررہے ہیں ان کو بینک عہدیداروں نے کالا دھن رکھنے والوں کو منتقل کردیا ہے۔ بازار کی طلب کو پورا کرنے کیلئے500روپے کے16ارب نوٹ طبع کرنے کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک 7 ارب نوٹ ہی طبع کیئے گئے ہیں۔
30ڈسمبر کی مدت کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے کیونکہ حکومت پہلے ہی سے پرانے نوٹوں کا چلن بند کر چکی ہے۔15 ڈسمبر تک سرکاری بلز کی ادائیگی کیلئے پرانے نوٹ قبول کیئے گئے۔30ڈسمبر سے صرف دس دن قبل آر بی آئی نے نیا ضابطہ لاتے ہوئے پرانے نوٹ جمع کرنے پر حد مقرر کرنے کی کوشش کی لیکن عوامی برہمی کو دیکھتے ہوئے راتوں رات فیصلہ تبدیل کردیا۔ بینک عہدیداروں کو ان بدلتے فیصلوں پر عمل کرنے میں کافی دشواری پیش آئی۔حکومت نے پہلے کہا تھا کہ30ڈسمبر تک پرانے نوٹ دیکر نئے نوٹ لیئے جاسکتے ہیں 4ہزار روپے سے شروعات کی گئی اور کہا گیا کہ بعد میں اس میں اضافہ کیا جائیگا ۔ اضافہ تو دور کی بات حکومت نے4ہزار کی جگہ نوٹ بدلنے کی حد2ہزار روپے کردی اور اس تبدیلی پر بھی بہت پہلے پابندی لگا دی گئی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ50دن بعد بھی صورتحال پہلے جیسی نہیں ہوگی۔معیشت کو معمول پر لانے کیلئے ابھی کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔حکومت کی مشنری پوری قوت کے ساتھ کام کررہی ہے تب بھی خلا کو پُر کرنے سے قاصر ہے ملازمین کا صبر کب جواب دے گا یہ کوئی نہیں جانتا۔لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر بینک ملازمین نے ہڑتال کردی تو کیا ہوگا!کیونکہ ایک طرف ان پر حکومت کا دباؤ ہے تو دوسری طرف ان کو ہی عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
وزیر اعظم کے بیانات بھی آر بی آئی کے قواعد کی طرح بدل رہے ہیں۔پہلے انہوں نے کالا دھن اور بد عنوانی کے علاوہ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے نوٹ بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اب کہہ رہے ہیں کہ کیش لیس معیشت کیلئے انہوں نے ایسا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ملک کے عوام نے موبائیل فون استعمال کرنا سیکھ لیا ہے اسی طرح ڈیجیٹل لین دین کا طریقہ بھی سیکھ لیں گے لیکن موبائیل استعمال کرنا اور اس پر ڈیجیٹل لین دین کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ موبائیل استعمال کرنے کیلئے کوئی پاس ورڈ یا پن نمبر یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر کسی موبائیل پر پاس ورڈ بھی ہے تو اس کو کسی بتانے میں اتنا نقصان نہیں ہے جتنا کہ اپنے بینک کھاتے کی تفصیلات بتانے میں ہے۔ کوئی بھی اپنے خزانے کی چابی کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دیتا ہے اس سلسلہ میں وہ رشتہ داروں پر بھی بھروسہ نہیں کرتا ہے اسلئے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ کب کس کی نیت بدل جائے ۔ 2017 میں ہندوستان کی عوام کو ڈیجٹیل ادائیگیوں ے طریقے سیکھنا لازمی ہے۔ اپنی جیب میں رقم رکھنے کے بجائے پلاسٹک کارڈ رکھنے کی ضرورت ہے اس کا فائدہ عوام سے زیادہ حکومت اور بینکوں کو ہوگا۔لوگ اپنی رقم گھروں میں رکھنے کے بجائے بینک میں رکھیں گے۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی‘چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کا الزام ہے کہ ملک کے بڑے صنعتکار بشمول وجئے مالیا نے بینکوں سے کروڑہا روپے کے قرض حاصل کر کے دھوکہ دیا ہے۔ بینکوں کے اثاثہ جات کو دھکا لگا ہے۔ ان صنعتکاروں سے قرض وصول کرنے کے بجائے حکومت نے مبینہ طور پر یہ اسکیم بنائی اور عوام کی دولت سے اس خلاء کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ حکومت یہ اعلان کب کرتی ہے کہ کتنے کالا دھن رکھنے والوں کو اس نے اس نوٹ بندی کے ذریعہ بے نقاب کیا ہے؟ اور کتنی رقم برآمد کی ہے؟ کیونکہ مودی کا بیرون ملک رکھا کالا دھن واپس لانے کا وعدہ پورا نہ ہوسکا۔اسلئے اندرون ملک کالا دھن تلاش کیا جارہا ہے جو ایک اندازے کے مطابق2لاکھ کروڑ روپے ہے۔

Comments

comments