Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » کیا سدھیر کمیشن تلنگانہ کے مسلمانوں کو تحفظات دلائے گا ؟
کیا سدھیر کمیشن تلنگانہ کے مسلمانوں کو تحفظات دلائے گا ؟

کیا سدھیر کمیشن تلنگانہ کے مسلمانوں کو تحفظات دلائے گا ؟

چیف منسٹرتلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرتے ہوئے مسلمانوں کیلئے12فیصد تحفظات کی راہ ہموار کرنے کیلئے ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر سدھیر کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے ریاست کے مسلمانوں کی سماجی‘ معاشی‘تعلیمی پسماندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو پیش کردی ہیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ریاست کے مسلمانوں کی انتہائی پسماندہ صورتحال کو اعداد و شمار کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے حکومت سے سفارش کی ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں9 سے12فیصد تحفظات فراہم کیئے جائیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی44.64 لاکھ ہے یعنی جملہ آبادی کا 12.68 فیصد ہے سب سے زیادہ آبادی حیدرآباد کے بہادر پورہ منڈل میں ہے جہاں ان کی تعداد3.76 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ آبادی والے منڈلوں میں آصف نگر‘بنڈلہ گوڑہ‘ چارمینار ‘ سعید آباد‘ گولکنڈہ‘ راجندر نگر ‘ اور نظام آباد شامل ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ریاست کے سابقہ10اضلاع میں سوائے نظام آباد کے نصف آبادی حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں ہی مقیم ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تلنگانہ کے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکول نہ جانیوالے بچوں میں ایک بڑی تعداد ایس ٹی اور مسلمانوں کی ہے یعنی قبائیلی طبقات کے بعد مسلمانوں میں یہ رجحان زیادہ ہے جہاں غربت کی وجہ سے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے ان کو محنت‘مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے۔ اسکول نہ جانیوالے بچوں کی تعداد اگر درج فہرست قبائل میں17فیصد ہے تو مسلمانوں میں یہ تناسب16فیصد ہے۔18 سے20 سال عمر کے نوجوانوں میں7فیصد اور21سے29 سال عمر کے لوگوں میں9فیصد ایسے ہیں جو کبھی اسکول نہیں گئے۔ مسلمانوں میں اسکول ترک کرنے کا رحجان بھی بہت زیادہ ہے اسلئے کمیشن نے حکومت سے یہ اولین سفارش کی ہے کہ مسلم بچوں کے اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنایا جائے۔ کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ اساتذہ کی کمی اور تدریس میں معیار کے فقدان کی وجہ سے اُردو میڈیم اسکولوں کا معیار گھٹ رہا ہے اسلئے اُردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کے فوری تقررات عمل میں لائیں جائیں۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مسلم خواتین پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ نشاندہی کی گئی ہے کہ مسلم لڑکیوں میں ترک تعلیم کا رحجان کسی بھی دوسرے فرقہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔18 سے20 برس کی عمر کی لڑکیوں میں یہ رحجان سب سے زیادہ یعنی52.8 فیصد ہے جبکہ21سے29 برس کی خواتین میں17فیصد ایسی ہیں جو ترک تعلیم کر چکی ہیں۔ دیہاتوں میں مسلم خواتین تعلیم سے زیادہ خود روزگار کی طرف متوجہ ہوتی ہیں ان میں ٹیلرنگ کی طرف زیادہ لڑکیاں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ وہ زراعت اور دوسرے کاموں میں بھی مصروف ہیں جبکہ شہر کی مسلم خواتین تجارت‘ ایمبرائیڈری اور دوسرے کاموں میں زیادہ مصروف ہیں۔ چند خواتین ہی پیشہ ورانہ ملازمت یا تکنیکی شعبہ سے وابستہ ہیں۔ جہاں تک حاملہ خواتین کی صحت اور نومولود کی اموات کاسوال ہے مسلمانوں میں دیگر مذاہب اور فرقوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ مسلمانوں کے بچے تغذیہ کی کمی کا شکار نہیں ہیں۔ کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کرایہ کے مکانات میں رہتا ہے۔ ذاتی مکانات بہت کم ہیں۔43 فیصد آبادی کرایہ کے مکانات میں مقیم ہے۔ مکانات کی خریدی وغیرہ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
جہاں تک معاشی حالات اور روزگار کاسوال ہے کمیشن نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ ملازمتوں اور مزدوروں میں مسلم مردوں کا تناسب شہری علاقوں میں بہت کم ہے۔ کمیشن نے بتایا ہے کہ مسلمانوں میں جو اونچے طبقہ کے لوگ ہیں ان میں64 فیصد ہی روزگار یا خود روزگار سے وابستہ ہیں۔ خواتین میں یہ تعداد صرف8فیصد ہے۔26.5فیصد مسلمان غیر زرعی شعبہ میں یومیہ مزدور یا ملازم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ عوامی شعبہ کی کمپنیوں میں کام کرنیوالے مسلمانوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ باقاعدہ تنخواہ پر کام کرنے والے مسلمانوں کی تعداد صرف19.2 فیصد ہے۔16.4فیصد مسلمان خود روزگار سے وابستہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ80فیصد مسلمان کوئی کام نہیں کرتے ہیں اور اپنے دیگر افراد خاندان پر انحصار کرتے ہیں یا پھر یومیہ مزدوری کرتے ہیں۔40.6 فیصد مسلم خاندان ایسے ہیں جن کے پاس بچت کا کوئی رحجان نہیں ہے۔ یہ تعداد دیگر مذاہب اور فرقوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اگر ایک ہندو خاندان کے اثاثوں کی اوسط قیمت10ہزار روپے ہے تو مسلم خاندان کے اثاثوں کی قیمت ساڑھے5ہزار ہے۔ مسلمان اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے سود خوروں سے قرض حاصل کرتے ہیں اور اپنی جمع پونجی یا محنت کی کمائی ان کے سود ادا کرنے میں صرف کردیتے ہیں نتیجہ میں کوئی بچت نہیں ہوتی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست کے مسلمانوں کو بینکوں یا دوسرے مشہور مالیاتی اداروں سے عموماً قرض نہیں ملتا ہے ان کو تجارت کیلئے بھی ساہوکاروں کا سہارا لینا پڑتا ہے نتیجہ میں وہ منافع سے محروم ہوجاتے ہیں۔
کمیشن کی سفارشات رپورٹ کی شکل میں ماہ اگست میں ہی حکومت کو پیش کردی گئیں تھیں تا ہم حکومت نے ابھی تک رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا تھا۔ ماہ ڈسمبر میں حکومت نے کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لاتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے عوام سے رائے مشورے طلب کیئے ہیں۔ اس اقدام کو تحفظات کی فراہمی کی سمت ایک بڑا قدم تصور کیا جارہا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ آنجہانی چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو4فیصد تحفظات تعلیم اور روزگار میں فراہم کیئے تھے۔ چونکہ عدالتیں مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی کے خلاف ہیں اسلئے پسماندہ طبقات یعنی بی سی زمرے کے تحت ایک زمرہ ای قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کے پسماندہ طبقات یعنی لداف‘عطر فروش‘قریش اور اسی طرح کے طبقات کو4فیصد تحفظات فراہم کیئے تھے۔ ان تحفظات سے متعلق ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے تا ہم کانگریس کی زیر قیادت مرکز کی یو پی اے حکومت کی جانب سے قائم کردہ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں یہ سچائی سامنے آگئی کہ مسلمانوں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بلا لحاظ ذات پات، پسماندگی کا شکار ہے یہ پسماندگی ایس سی‘ایس ٹی سے بھی زیادہ ہے جو کہ آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ مسلمان ملک کی اقلیتی آبادی میں سب سے بڑی آبادی ہے لیکن پسماندگی میں بھی سب سے آگے ہے اسلئے نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے مطالبات وقتاً فوقتاً اُٹھ رہے ہیں۔ تا ہم سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی اس کمزوری کو اپنے انتخابی حربے کے طور پر استعمال کر نے لگی ہیں۔جب بھی انتخابات سامنے آتے ہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے وعدے شروع ہوجاتے ہیں اور انتخابات کے بعد اس وعدے کو فراموش کردیا جاتا ہے۔
تلنگانہ میں چیف منسٹر کے سی آر نے انتخابات کے موقع پر مسلمانوں سے جو وعدے کیئے تھے ان میں ایک مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ اور دوسرا مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی تھا۔
نئی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد جب کے سی آر نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق ٹی آر ایس کے لیڈر اور ایم ایل سی محمد محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے پر فائز کیا لیکن کسی اور مسلمان کو انہوں نے اپنی کابینہ میں جگہ نہیں دی۔ دوسری طرف انہوں نے ابھی تک اقلتیی بہبود کا قلمدان اپنے پاس ہی رکھا ہے اس کیلئے کسی مسلم رکن اسمبلی یا رکن کونسل کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے یہ قلمدان اس کے حوالے نہیں کیا ہے مسلم طلباء کو اسکالر شپس دیئے جارہے ہیں تا ہم بیرون ملک تعلیم کیلئے جانے والے کئی طلباء کو ابھی تک دوسری قسط جاری نہیں کی گئی ہے ۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت سینکڑوں درخواستیں یکسوئی کی منتظر ہیں۔ اگرچہ اقلیتی اقامتی اسکول کھولے گئے ہیں لیکن مسلم برادری میں ان اسکولوں میں بچوں کو شریک کروانے کیلئے ترغیب دینے کوئی اقدامات نہیں کیئے گئے۔ کئی اُردو میڈیم اسکولوں کو بند کیا جارہا ہے یا ان کو ضم کیا جارہا ہے۔اُردو میڈیم میں اساتذہ کی قلت بہت ہے اب جبکہ نئے اضلاع وجود میں آگئے ہیں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے لحاظ سے اُردو میڈیم مدارس کی سہولت دی جائے۔ ٹی آر ایس حکومت نے اگرچہ اُردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان قرار دیا ہے لیکن اُردو خود سرکاری دفاتر سے غائب ہے۔ مترجم کی سہولت نہیں ہے۔ مسلم علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔ مسلم بستیوں میں مسلم بستیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اگرچہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے نام پرکمیشن قائم کردیا ہے اور اس کمیشن نے اپنی رپورٹ بھی پیش کردی ہے اور عوام سے رائے مشورے بھی طلب کیئے جارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان اقدامات کی بنیاد پر قانون کی عدالت میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی؟ کیا حکومت یا کمیشن کی سفارشات پر عدالت مسلمانوں کو مذاہب کی بنیاد پر تحفظات فراہم کرنے کیلئے راضی ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ نے تحفظات کی حد مقرر کر رکھی ہے‘کسی بھی زمرے میں تمام طبقات کو ملا کر50فیصد سے زیادہ تحفظات نہیں دیئے جاسکتے۔ اسلئے حکومت کو اگر تحفظات فراہم کرنا ہے تو کسی اور ذات پات کیلئے مختص تحفظات میں سے مسلمانوں کیلئے گنجائش نکالنی ہوگی۔ صرف بی سی یعنی پسماندہ طبقات کے زمرے میں ہی یہ گنجائش نکالی جاسکتی ہے اگر حکومت بی سی تحفظات میں سے کاٹ کر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرے گی تو کیا دوسرے طبقات اس کیلئے راضی ہوں گے۔ تا ہم کے سی آر کے اثر و رسوخ اور کمزور اپوزیشن کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی میں کوئی سیاسی رکاوٹ آئے گی کیونکہ جہاں4فیصد تحفظات پر عمل آوری کیلئے کوئی سیاسی رکاوٹ نہیں ہے تو9یا12 فیصد کیلئے بھی نہیں ہونی چاہیئے۔ تا ہم سب سے بڑا سوال قانون کی عدالت میں حکومت کی جانب سے اس اقدام کو جائز ٹھہرانے کا ہے۔ جہاں بات مسلمانوں سے شروع ہوتی ہے وہاں عدالتیں اس ادعا کو مسترد کرتے ہوئے یہی نکتہ پیش کرتی ہیں کہ دستور مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی اجازت نہیں دیتا ہے جبکہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں میں ذات پات کی کوئی تفریق نہیں ہوتی ہے۔ مسلمانوں میں سیدوں کو اعلیٰ ذات کہا جاتا ہے جبکہ پسماندگی ان میں سب سے زیادہ ہے۔ اس لئے تحفظات کیلئے مسلمانوں کو ذات پات میں تقسیم کرنا مشکل ہے ابھی تک جو بھی کمیشن قائم کئے گئے ہیں وہ مسلمانوں میں منجملہ پسماندگی کا پتہ چلانے کی غرض سے قائم کیئے گئے ہیں۔ ان کمیشنوں نے بھی اپنی تحقیق میں منجملہ مسلمانوں کا ہی احاطہ کیا ہے کسی ایک ذات یاطبقہ کی طرف نشاندہی نہیں کی ہے۔ ان کمیشنوں کی رپورٹوں سے جو بات صاف ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ پسماندگی پورے مسلم فرقہ میں ہے۔ مسلمانوں میں کوئی اعلیٰ یا ادنیٰ ذات نہیں ہوتی ہے۔ پیشہ کے اعتبار سے بھی مسلمانوں میں کوئی زمرہ بندی نہیں ہے البتہ امیر‘غریب کا فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ اسلئے دیکھنا یہی ہے کہ کیا ٹی آر ایس حکومت خصوصاً چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست کے مسلمانوں کو کس بنیاد پر تحفظات فراہم کرتے ہیں اور کس طرح عدالت میں اس کا دفاع کرتے ہیں۔

Comments

comments