Wednesday , 17 October 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » نارتھ سنٹرل انڈیا زون » جموں کشمیر » ملک میں کرنسی بحران برصغیر کی سب سے مہنگی شادی
ملک میں کرنسی بحران برصغیر کی سب سے مہنگی شادی

ملک میں کرنسی بحران برصغیر کی سب سے مہنگی شادی

ہندوستان‘دُنیا کا عظیم جمہوری ملک ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کا لائف اسٹائیل بھی یکسر مختلف ہوتا ہے ۔دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت والے اس ملک میں امیروں اور غریبوں میں خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے ۔ اس ملک کی60فیصد سے زائد آبادی کو ایک وقت کی روٹی کیلئے روزآنہ کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہیں اس ملک کے ایک شہر میں ایک سیاسی قائد نے اپنی بیٹی کی شادی نہ صرف تزک و احتشام کے ساتھ کرتا ہے بلکہ شادی پر کم و بیش 550 کروڑ روپے بھی خرچ کرتا ہے۔ ہاں!یہ سچ ہے یہ شادی‘ نوٹ بندی کے بعد ملک بھر میں پیدا شدہ کرنسی بحران کے دوران انجام پائی ہے۔ کرناٹک بی جے پی کے سابق وزیر اور غیر قانونی کانکنی اسکام میں40 ماہ جیل میں رہنے والے گالی جنادرھن ریڈی نے اپنی بیٹی کی شادی میں جو گذشتہ ماہ بنگلورو کے پیالیس گراونڈ پر انجام پائی ہے، بے دریغ انداز میں 550 کروڑ روپے خرچ کیئے۔ شادی سے پہلے دعوت نامہ میڈیا کی زینت بن گیا یہ ایسا دعوت نامہ تھا جو اب تک شائد ہی کسی نے دیکھا ہے۔ شادی کا یہ دعوت نامہ نہیں بلکہ پی آر بڑھانے کا یہ ایک حربہ تھا۔یہ دعوت نامہ‘ ایک نیلے ڈبہ میں تھا جیسے ہی ڈبہ کو کھولا جاتا اس کے ڈھکن پر ایک چھوٹی ایل ای ڈی اسکرین لگی تھی جس میں تین منٹ کی ویڈیو میں جنادرھن ریڈی اور افراد خاندان نمودار ہوتے ہیں اور اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس دعوت نامہ کی تیاری پر5کروڑ روپے خرچ کیئے گئے۔حیدرآباد کی ایک جیل میں40ماہ تک بندرہنے کے بعد 47سالہ جنادرھن ریڈی کچھ دنوں قبل مشروط ضمانت پر باہر آئے ہیں۔ جیل سے باہر آنے کے بعد انہوں نے اپنی واحد بیٹی21سالہ برہمنی جو بی بی ایم گریجویٹ ہے کی شادی پر550کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے مشہور پیالیس گراونڈ پر انجام پائی اس شاہانہ طرز کی شادی میں50ہزار سے زائد مہمانوں نے شرکت کی ہے۔ اگلا گرا پچھلا ہوشیار کے مصداق بالی ووڈ‘ٹالی ووڈ کے اداکاروں اور دیگر سیلبیرٹیز نے اس شادی کی تقریب سے دور رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی‘سمجھا جارہا ہے کہ کانکنی اسکام میں ملوث سیاسی قائد سے فلمی اداکاروں نے دوری اختیار کی ہے۔ سال 1999 اور 2009 کے انتخابات میں بی جے پی کو ریاست میں برسر اقتدار لانے میں گالی جنادرھن ریڈی ‘ کرونا کر ریڈی اور سری راملو کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ان بھائیوں نے ہی بی جے پی کو بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ ریڈی نے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے36ایکر پر محیط پیالیس گراونڈ ایک ہفتہ کیلئے کرایہ پر حاصل کیا۔ اس گراونڈ پر انہوں نے فلمی انداز کے منادر‘ مواضعات ‘ مصنوعی جھلیں ‘ مارکٹ اور مکانات کے سیٹس بھی بنائے یہ گراونڈ مکمل طور پر ایک بہترین گاؤں کا منظر پیش کررہا ہے۔ مہمانوں کی دلچسپی کیلئے تھرو بال‘ٹائیگر فائٹ‘پاپ اسکاچ جیسے پلے گیمس کا نظم کیا گیا۔یہاں چند افراد کو دیہی عوام کے لباس پہنا کر کھڑا کیا گیا۔سیٹ ڈیزائنر و آرٹ ڈائرکٹر ششی دھر ادپا کی ٹیم نے کئی ہفتوں سے سیٹس کی تیاری شروع کردی تھی۔ ادپا کا کہنا ہے کہ اس گراؤنڈ ہمپی دور کی عارضی عمارتیں بنائی گئیں ان میں وتھالہ‘شیوا اور گنیش کے منادر بھی شامل ہیں۔ اس گراونڈ پر وجیا نگر کی سابق شاہی سلطنت کی جھلکیاں بھی پیش کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جنادرھن ریڈی نے اپنی بیٹی کی شادی کے پروگرام پر سینکڑوں کروڑ روپیہ اُڑا ئے ہیں۔ ایونٹ مینجمنٹ پر10کروڑ‘مہمانوں کے لانے اور لیجانے پر20 کروڑ‘دعوت نامہ کی تیاری پر5 کروڑ‘ڈشوں کی تیاری(پکوان) اور سربراہی پر 20 کروڑ‘ جیولری اور ملبوسات کی خریدی پر کروڑہا روپے‘خرچ کئے گئے ہیں۔بنگلورو کے پیالیس گراونڈ پر سکیوریٹی کے خصوصی انتظامات کیلئے ریڈی نے 3ہزار باونسرس کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اہم ترین شخصیات کی سکیوریٹی کیلئے300پولیس ملازمین بھی تعینات کئے گئے اس کے علاوہ اس مقام پر اسنفر ڈاگ اور بم اسکواڈ بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اس گراونڈ کو منی بیلاری میں تبدیل کیا گیا جہاں قول بازار‘دھانپا بیٹری اسٹریٹ ‘ایک اسکول جہاں سے ریڈی نے تعلیم حاصل کی تھی‘ کے ماڈلس بھی آویزاں کیئے گئے۔یہاں نوشہ اور دلہن کیلئے علیحدہ دو مکانات‘بھی عارضی طور پر تعمیر کئے گئے۔ وجیا نگرم کے طرز پر منادر بھی تعمیر کےئے گئے۔اس شادی میں شرکت کرنیوالے سیاسی قائدین اور مہمانوں کو ٹھہرانے کیلئے شہر کے اسٹار ہوٹلوں کے1500کمرے بک کر الیئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ2ہزار سے زائد کیابس گاڑیاں شادی کے مقام تک چلائی گئیں۔اہم ترین شخصیتوں کی سہولت کیلئے15ہیلی پیاڈس بھی بنائے گئے تھے۔ اہم ترین مہمانوں کو خوبصورت بیل گاڑیوں میں بٹھا کر باب الداخلہ سے منڈپ تک لیجایا گیا۔ کرناٹک کے سابق وزیر گالی جنادرھن ریڈی نے اپنی بیٹی کی شادی کو نہایت شاندار اور اعلیٰ پیمانے پر منعقد کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس شادی سے نہ صرف جنادرھن ریڈی میڈیا میں چھا گئے بلکہ ان کی بیٹی یعنی عروسہ برہمنی بھی میڈیا کی سرخیوں میں آگئیں۔ عروسہ کے میڈیا میں آنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہوں نے شادی کے وقت جو ساڑی زیب تن کی تھی اس کی قیمت17کروڑ روپے تھی۔ اس قیمتی ساڑی کی تصاویر سوشیل میڈیا پر زبردست ہٹ کر گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جنادرھن ریڈی نے شادی کی یہ تیاریاں6ماہ قبل کر لی تھیں اس کے باوجود انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے شاہانہ انداز میں کی گئی شادی کے اخراجات اور آمدنی کے بارے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔آندھرا پردیش کے ضلع چتور کے ایک پولیس کانسٹبل چینگا ریڈی کے فرزند گالی جنادرھن ریڈی نے 21سالہ بیٹی کی شادی حیدرآباد کے ممتاز صنعتکار وکرم ریڈی دیوا کے فرزند راجیو ریڈی کے ساتھ تزک و احتشام کے ساتھ اہتمام کیا۔وکرم ریڈی کا کاروبار بیرون ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس شادی کو برصغیر کی اب تککی سب سے مہنگی شادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ چینگا ریڈی‘کئی دہائی قبل چتور سے بیلاری منتقل ہوگئے مگر جنادرھن ریڈی اور ان کے بھائی اس وقت منظر عام پر آئے جبکہ1999کے لوک سبھا انتخابات میں حلقہ لوک سبھا بیلاری سے بی جے پی امیدوار سشما سوراج نے سونیا گاندھی کے خلاف انتخاب لڑا تھا ۔ ریڈی نے اس وقت سوراج کی انتخابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اس کے بعد انہوں نے سشما سواراج کے بشمول بی جے پی کے اعلیٰ قائدین سے روابط استوار کر لیئے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ شاندار انداز میں بیٹی کی شادی کرنے کا ایک مقصد ریڈی کا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ماتھے پر لگے’’ کرپشن کے داغ‘‘ کو عوام کے ذہنوں سے نکالنا چاہتے ہیں۔کئی دنوں تک اس شادی کے چرچے ہوں گے جب تک عوام‘ جنادرھن ریڈی کے سیاہ کارناموں کو بھول جائیں گے اور عوام کے ذہنوں میں صرف پیالیس گراونڈ کی چکا چوندیں باقی رہ جائیں گی۔

Comments

comments